پی ٹی آئی کا فوارا چوک پر احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج، متعدد کارکنان زیر حراست
شیئر کریں
پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال کی گرفتاری پر پی ٹی آئی صدر حلیم عادل شیخ کا اظہار مذمت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے فوارا چوک پر احتجاج کیا گیا، پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کے بعد کئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا، پولیس نے احتجاج کو روکنے کے لیے کراچی پریس کلب سمیت اطراف کی شاہرائوں کو کینٹنرز لگا کر سیل کردیا جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،
صحافیوں کو بھی پریس کلب تک آنے میں دشواری ہوئی۔پی ٹی آئی کے کارکنان فوارا چوک پہنچے تو پولیس نے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور پارٹی رہنمائ ڈاکٹر مسرور سیال سمیت کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا۔
شیلنگ کے سبب زینب مارکیٹ سمیت اطراف کی مارکیٹوں میں موجود دکاندار اور خواتین سمیت خریدار شدید متاثر ہوئے۔ احتجاج شیلنگ اور گرفتاریوں کے سبب علاقہ میدان جنگ بن گیا۔
اطراف کی شاہراؤں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا جس کی وجہ سے گھر لوٹنے والے مسافر پریشانی کا شکار ہوئے۔ پی ٹی آئی کے کارکنان کچھ دیر احتجاج کے بعد منتشر ہوگئے۔
بعدازاں احتجاج کے اختتام کے بعد پولیس نے کینٹینرز کو ہٹا کر راستے بحال کردیے اور ٹریفک رواں دواں ہوگیا۔پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا یے کہ تحریک انصاف سندھ کی جانب سے 5 اگست کو عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر ملک گیر یومِ سیاہ منایا گیا۔
اس سلسلے میں کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ، عمرکوٹ، مٹھی، ننگرپارکار، کنری، کھپرو، سانگھڑ، شاہپور چاکر، پنو عاقل، گھوٹکی، کندھکوٹ، کشمور، لاڑکانہ، شہدادکوٹ، دادو، سکھر، روہڑی، ڈھرکی، بدین، ٹنڈو محمد خان، کوٹری، جامشورو، جیکب آباد، بوڈر فارم اور سندھ کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
مظاہرین نے عمران خان کی فوری رہائی، آئین و قانون کی بالادستی، مہنگائی کے خاتمے، عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، کراچی کے صدر راجہ اظہر، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال، جنرل سیکریٹری کراچی ارسلان خالد اور دیگر رہنماؤں کراچی پریس کلب روانہ ہوئی، تاہم پولیس نے راستوں میں کنٹینر لگا کر پریس کلب کو مکمل طور پر سیل کر دیا اور کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا جس پر پی ٹی آئی کارکنوں نے زیب النسائ اسٹریٹ اور فوارہ چوک صدر کے اطراف پْرامن احتجاج کیا، جہاں پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا اور ہمارے متعدد کارکن زخمی ہوگئے۔
پولیس نے پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال سمیت دس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ پنو عاقل میں چھ اور کندھکوٹ میں پندرہ کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔احتجاجی شرکاء سے خطاب میں حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پولیس نے کراچی پریس کلب کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا، پرامن مظاہرین اور خواتین کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا، جو آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، پی ٹی آئی نے پرامن احتجاج کے لیے باقاعدہ درخواست دی تھی، اس کے باوجود پولیس نے غیرقانونی طاقت کا استعمال کیا۔
انہوں نے ڈاکٹر مسرور سیال سمیت تمام گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی، جھوٹے مقدمات کے خاتمے اور پرامن احتجاج کے آئینی حق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی جدوجہد عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی تک جاری رہے گی


