ناول نگار رضیہ بٹ کو مداحوں سے بچھڑے 14برس بیت گئے
شیئر کریں
1998میں انھوں نے آپ بیتی بچھڑے لمحے لکھنے کا آغاز کیا جو 2001میں مکمل ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معروف ناول نگار رضیہ بٹ کو مداحوں سے بچھڑے 14برس بیت گئے۔ رضیہ بٹ 19مئی 1924کو راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ان کی پہلی کہانی لرزش1940کے وسط میں لاہور کے رسالے حور میں شائع ہوئی۔
قیام پاکستان کے بعد ان کا ناول بانو منظرعام پر آیا تو انتہائی مقبول ہوا۔رضیہ بٹ کو عام گھریلو قارئین میں جو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی وہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے کردار کو مرکزی اہمیت دیتی ہے۔
ان کے ناول نائلہ، صاعقہ، انیلہ، شبو، بانو، ثمینہ، ناجیہ، شائنہ، سبین، رابی اور بینا عورت کے مرکزی کردار کے گرد گھومتے ہیں۔رضیہ بٹ کے ناولوں کی کل تعداد 53 ہے۔
350کہانیاں الگ ہیں۔ 1998میں انھوں نے آپ بیتی بچھڑے لمحے لکھنے کا آغاز کیا جو 2001میں مکمل ہوئی۔رضیہ بٹ کا 4اکتوبر 2012کو لاہور میں انتقال ہوا۔


