میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
لڑکوں کی نسبت لڑکیاں ڈپریشن کا زیادہ شکار، تحقیق

لڑکوں کی نسبت لڑکیاں ڈپریشن کا زیادہ شکار، تحقیق

منتظم
هفته, ۳ جون ۲۰۱۷

شیئر کریں

کراچی(ویب ڈیسک)نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوان لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ تر تنا کا شکار رہتی ہیں۔امریکا کی نیو پورٹ اکیڈمی میں کی گئی تحقیق سے پتا چلا ہےکہ نوجوان لڑکیاں تنا (ڈپریشن) جیسے مرض میں زیادہ مبتلا ہیں۔تحقیق کے مطابق تنا میں مبتلا نوجوان لڑکیوں کی تعداد 36 فیصد جب کہ ان کے مقابلے میں لڑکوں میں یہ تعداد 14 فیصد ہے۔اکیڈمی کی ڈائریکٹر کرسٹن ولسون کے مطابق ان کے نزدیک لڑکیوں کا زیادہ ڈپریشن کا شکار ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں کیونکہ وہ پچھلے کچھ وقت سے لڑکیوں کو زیادہ اس مرض میں مبتلا دیکھ رہی ہیں۔ولسون کا کہنا ہے حیرانی کی بات یہ ہے کہ ڈپریشن کے مرض میں لڑکیاں لڑکوں سے دگنی تعداد میں مبتلا پائی جا رہی ہیں۔انہوں نے لڑکیوں میں تنا بڑھنے کی اہم وجہ معاشرتی ذمہ داروں کو قرار دیا اور کہا کہ لڑکیوں کو معاشرتی ذمہ داروں کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے اور ان پر معاشرے کا دبا زیادہ ہوتا ہے۔ولوسن کے مطابق لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں اور ان کی نزاکت ان کی شخصیت کو اثر انداز کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لڑکیاں پنے احساسات و جذبا ت کا کھل کر اظہار نہیں کر پاتیں نا امید ہونا، اداس رہنا، کھانے پینے کا خیال نہ رکھنا، تنہائی پسند ہونا اور اپنے آپ کو کسی محفل میں بھی اکیلا محسوس کرنا، یہ تمام چیزیں ڈپریشن کی اہم نشانیاں ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں