میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
دہشت گردتنظیم کہنابندنہ کیاتودشمنوں کی طرح پیش آئیں گے ، کالعدم تحریک طالبان کی میڈیا کو دھمکی

دہشت گردتنظیم کہنابندنہ کیاتودشمنوں کی طرح پیش آئیں گے ، کالعدم تحریک طالبان کی میڈیا کو دھمکی

ویب ڈیسک
بدھ, ۸ ستمبر ۲۰۲۱

شیئر کریں

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)نے میڈیا اور صحافیوں کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ انہیں ‘دہشت گرد تنظیم’ کہنے سے گریز کریں ورنہ ان کے ساتھ دشمنوں کی طرح پیش آیا جائے گا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں ان کے ترجمان محمد خراسانی نے کہا کہ وہ میڈیا کوریج پر نظر رکھے ہوئے ہیں جس میں ٹی ٹی پی کی تشہیر ‘دہشت گردوں اور انتہاپسندوں’ جیسے نفرت انگیز القابات سے کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے لیے اس طرح کی اصلاحات کے استعمال سے میڈیا اور صحافیوں کا جانبدارانہ کردار ظاہر ہوتا ہے، مزید یہ صحافت کے پیشے پر بدنما داغ ہے۔پاکستانی میڈیا نے ٹی ٹی پی کو دہشت گردی تنظیم اس وقت سے کہنا شروع کیا جب سے اس نے سلسلہ وار حملوں میں شہریوں کو ہدف بنانا شروع کیا اور حکومت کی جانب سے اس پر پابندی عائد کی گئی۔ٹی ٹی پی مختلف عسکریت پسند تنظیموں کا گروپ ہے جو 2007میں تشکیل دیا گیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے اگست 2008میں اسے کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تھا، بیت اللہ محسود ٹی ٹی پی کا پہلا سربراہ تھا جو 2009میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔حکومت نے ٹی ٹی پی سے منسلک دیگر گروپوں پر بھی پابندی عائد کردی تھی اور 2014میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت میڈیا کو بقول اس کے ‘عسکریت پسندوں کی تعریف’ سے روک دیا گیا۔محمد خراسانی نے اپنے بیان میں کہا کہ میڈیا ایک فریق کے کہنے پر ٹی ٹی پی کے خلاف اس طرح کے قابل نفرت الفاظ استعمال کررہا ہے جو اسے اپنا دشمن منتخب کرچکا ہے، لہذا میڈیا کو انہیں تحریک طالبان پاکستان کے نام سے پکارنا چاہیے۔انہوں نے اپنے بیان میں تنبیہہ کی کہ اگر میڈیا پیشہ ورانہ بددیانتی کرے گا تو وہ اپنے لیے خود دشمن پیدا کرے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں