بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ ، 5شہری زخمی پاکستان کا شدید احتجاج
شیئر کریں
لائن آف کنٹرول(ایل او سی)پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 5شہری زخمی ہوگئے،جبکہ پاکستان نے بھارت سے سخت احتجا ج کرتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرلیا،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے ایل او سی پر نکیال سیکٹر میں رات گئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔بیان میں کہا گیا کہ زخمی ہونے والے شہریوں میں 2بزرگ خواتین اور 2لڑکے شامل ہیں جبکہ پاک فوج نے بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔پاکستان نے لائن آف کنٹرول ( پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 5شہریوں کے زخمی ہونے پر پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے ورکنگ باونڈری پر جدید ہتھیاروں اور بھاری گولہ باری سے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔رواں سال اب تک بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ایک ہزار 595مرتبہ خلاف ورزی کی جاچکی ہے جس کے نتیجے میں 14بے گناہ شہری شہید اور 121زخمی ہوئے۔بیان میں نہتے شہریوں پر بھارتی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی فائرنگ 2003کے سیز فائر معاہدے، بین الاقوامی انسانی حقوق اور اقدار کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدام سے کنٹرول لائن کے اطراف ماحول مزید کشیدہ ہو سکتا ہے اور خطے میں امن و استحکام متاثر کر سکتا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ بانڈری پر کشیدگی کو بڑھا کر بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔پاکستان نے بھارت پر زوردیا کہ 2003کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے ، ایل اوسی اور ورکنگ باونڈری پر امن قائم کرے۔ بیان میں زوردیاگیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔واضح رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔


