یہ انارکی
شیئر کریں
دنیا میں امن ترقی وخوشحالی کا ضامن ہوا کرتا ہے، انارکی کو ایسی بیل قرار دیا گیا ہے جو جتنی چڑھتی ہے تباہی وبربادی اتنی ہی بلند ہوتی چلی جاتی ہے، ہمارے یہاں بھی ایک ایسی ہی بیل کا بیج برسوں قبل بویا گیا تھا جو آج منڈھے چڑھ چکی ہے اور اس کا عکس زمین پر واضح دکھائی دینے لگا ہے، پورے ملک کو اس انارکی نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، کوئی اپنے بس میں نہیں، سب ہی آپے سے باہر دکھائی دیتے ہیں، حکمران ہیں تو وہ سب اچھا کا راگ الاپتے نہیں تھکتے، اپوزیشن ہے کہ اس نے وہ وہ کیڑے کلون کرلیے ہیں ۔
جن کا اب سے کچھ سال قبل تک بڑے بڑے سائنسدانوں کے ذہنوں میں تصور تک دکھائی نہیں دیتا تھا، ادارے ہیں تو وہ مادرپدر آزاد، کسی کی کوئی سمت نہیں، عدالتیں ہیں تو اس پر بھی سوالیہ نشان ہے، گویا سب کچھ تلپٹ ہے، ایسے میں بے چاری قوم ٹک ٹک دیدم دم نہ کشدم کی مصداق سر پر ہاتھ رکھے اپنی قسمت کو کوس رہی ہے۔ اس انارکی نے ملک کی سرحدوں سے باہر ہمارے دشمنوں کو جگا دیا ہے۔ پڑوسی ملک نے سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے، اس کی کوشش ہے کہ ہماری انارکی کے اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے، جس کی ایک مثال حال ہی میں فنانس ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش تھی تاکہ اس طرح پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کیا جاسکے اور اس میں بھارت ہی کا کردار واضح نہیں تھا بلکہ امریکا بھی اس میں پیش پیش رہا اور اب بھی اس کا کردار ختم نہیں ہوا لیکن بھلا ہو ہمارے چند دوست ممالک کا جن کی مہربانی سے فی الحال ہم شکنجے میں آنے سے بچ گئے لیکن ابھی خطرہ ٹلا نہیں، تین ماہ بعد ہماری کارکردگی کا جائزہ لیکر دوبارہ فیصلہ کیا جائے گاکہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
لیکن لگتا ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو اس بات کی کوئی فکر ہے ہی نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں طرف کے رہنما سرجوڑ کر بیٹھتے اور دنیا کو بتاتے کہ ہمیں ہر چیز پر پاکستان کا مفاد مقدم ہے اور ہم سب ایک ہیں، لیکن سب نے ہی زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کا کردار ادا کیا ہے، سب ہی اپنے اپنے دائروں میں گھوم رہے ہیں۔
افغانستان کے معاملے پر امریکا ہماری کسی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں، اسے معلوم ہے کہ وہ وہاں جنگ ہار رہا ہے، طالبان نے اسے ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں، اس کی قائم کرائی ہوئی حکومت کا اثر پورے افغانستان کے صرف پندرہ فیصد حصے پر ہے، ایسے میں اگر کوئی ہے جو امریکا کو اس گرداب سے نکال سکے تو وہ ہے پاکستان۔ ایسا کیوں ہے وہ اس لیے کہ جب سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تو یہ پاکستان ہی تھا جسے امریکا نے استعمال کیا اور یہاں سے جنگجو تیار کرکے افغانستان بھیجے گئے، ان کی کارروائیوں نے نا صرف سوویت یونین کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کیا بلکہ خود بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ امریکا جانتا ہے جس طرح کل اس کی ایما پر پاکستانی جنگجو افغانستان میں لڑتے رہے ہیں اسی طرح آج بھی کہیں اسی طرح کی کارروائی اس کے ساتھ تو نہیں ہورہی، جس کا بارہا وہ اظہار بھی کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کا بیانیہ اس قدر کمزور ہے کہ وہ امریکا تو کیا دنیا کا کوئی ملک بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہماری گزشتہ برسوں کی بُری خارجہ پالیسی نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں۔ اپوزیشن نے ملک میں انارکی پھیلانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی تو حکمران اس سے بچنے اور اپنا اقتدار بچانے کی فکر میں مگن رہے، کسی کو ملک بچانے کی فکر ہی نہیں ہے۔ کیا ہمارے حکمران اس بات سے نا آشنا ہیں کہ بھارت ہماری اس طرح کی انارکی سے پہلے بھی فائدہ اٹھا چکا ہے۔ آج حالات65 والے نہیں، جب افغانستان، ایران اور تمام ملحقہ سرحدیں ہمارے حق میں تھیں مگر اب مفادات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے، ایران اپنی بندرگاہ بھارت کو دے چکا ہے، یہ وہی بندرگاہ ہے جہاں سے بھارتی جاسوس کُلبھوشن کارروائیاں کر تا رہا ہے۔ افغانستان کا سب سے اچھا دوست بھی آج بھارت ہے، بنگلادیش کی سرحد بھی اب ہمارے لیے ملائم نہیں رہی، لے دے کر ایک چین ہے جو ہمارے مفادات کو بچانے کے لیے ڈھال بنا ہوا ہے اور اس میں ہمارے مفاد سے زیادہ اس کا اپنا مفاد ہے ۔
کیونکہ وہ یہاں اربوں ڈالر جھونک چکا ہے لیکن یہ ڈھال بھی کب تک ہم پر ہونے والے وار روک سکے گی۔ اب حکمرانوں کو بھی آنکھیں کھول لینا چاہئیں اور اپوزیشن سمیت اداروں کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ملک کے مفاد میں فیصلے کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا عمل جاری رہا، انارکی کی بیل اسی طرح ہمارے سروں پر چڑھی رہی تو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںآزادی کو70 سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور ہمارے رہنما اب تک دست وگربیاں ہیں، کیا پاکستانیوں کا ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل حق نہیں، کیا یہ قوم سڑکوں کی مخدوشی، گٹروں کے ابال اور نان شبینہ کے چنگل سے کبھی نکل سکے گی، کیا اس کے خوابوں کو بھی کبھی تعبیر مل سکے گی، کیا یہ قوم بھی کبھی منزل سے ہمکنار ہوگی، ہاں ایسا اسی وقت ممکن ہے، جب قیادت مستحکم ہو لیکن ہم پر تو سیاسی قیادت، مذہبی قیادت، فوجی قیادت، عدالتی قیادت اور نہ جانے کون کون سی قیادتیں مسلط ہیں ۔
یہ سب ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں اور یہی قیادتیں انارکی کا سبب ہیں کیونکہ سب کا اپنا وژن ہے، سب کی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کوئی ماؤژے تنگ ، کوئی مہاتیر محمد دکھائی نہیں دیتا۔ اب فیصلے کی گھڑی آچکی ہے، دنیا ہماری بربادی کے لیے گٹھ جوڑ کرنے میں مصروف ہیاگر اب بھی حکمران، اپوزیشن اور ادارے نہ جاگے، انارکی کی بیل کو اکھاڑکر نہ پھینکا گیا تو پھر ہمیں بھی عراق، لیبیا اور شام بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے مری بات


