میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
گرمی اور آلودگی صرف موسم نہیں: چھ اقدامات صحت اور معیشت دونوں بدل سکتے ہیں

گرمی اور آلودگی صرف موسم نہیں: چھ اقدامات صحت اور معیشت دونوں بدل سکتے ہیں

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

شدید گرمی، دھواں، غیر محفوظ پانی اور گھریلو ایندھن کو عموماً الگ الگ مسائل سمجھا جاتا ہے، مگر عالمی ادارۂ صحت کی نئی رپورٹ انہیں ایک ہی صحت کے بحران کے مختلف رخ قرار دیتی ہے۔ 4 نومبر کو جاری تجزیے کے مطابق چھ ثابت شدہ اقدامات کو عالمی سطح پر پھیلایا جائے تو ہر سال اندازاً 16 لاکھ اموات روکی جا سکتی ہیں۔ یہ ایک ماڈل پر مبنی تخمینہ ہے، کوئی یقینی پیش گوئی نہیں، مگر اس کا پیغام اہم ہے: موسم سے متعلق صحت کے نقصان کو کم کرنے کے عملی طریقے پہلے سے موجود ہیں۔

ان چھ اقدامات میں گرمی کے خطرے سے آگاہ کرنے کے نظام، موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے والی پینے کے پانی کی خدمات، بنیادی صفائی، ہاتھ دھونے کی سہولت، کھانا پکانے اور گرمائش کے لیے صاف ایندھن و ٹیکنالوجی، اور فوسل فیول کی مؤثر قیمت کاری شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات سے کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ماڈل نے پانچ اقدامات کے لیے اوسطاً ہر ایک ڈالر سرمایہ کاری کے بدلے 24 ڈالر تک فائدے کا اندازہ دیا، جبکہ گرمی کی وارننگ کے نظام کے لیے ممکنہ معاشی فائدہ اس سے بھی زیادہ بتایا گیا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ بحث خاص طور پر عملی ہے۔ گرمی کی لہریں، شہری فضائی آلودگی، سیلاب یا پانی کی قلت، اور گھروں میں دھوئیں والے ایندھن سب صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ خطرہ سب کے لیے ایک سا نہیں: شیر خوار بچے، حاملہ خواتین، عمر رسیدہ افراد، دائمی بیماری کے مریض، کھلے آسمان کے نیچے کام کرنے والے مزدور اور کم وسائل والے گھرانے نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے “گرمی میں پانی پی لیں” مفید مشورہ ضرور ہے، مگر مسئلے کا پورا حل نہیں۔ مقامی سطح پر محفوظ پانی، بجلی، ٹھنڈی پناہ گاہ، سایہ، ہسپتالوں کی تیاری اور بروقت وارننگ بھی درکار ہیں۔

گھرانے فوری طور پر چند محفوظ اقدامات کر سکتے ہیں:

شدید گرمی میں دوپہر کے غیر ضروری بیرونی کام محدود رکھیں؛ بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی پانی پینے اور گرمی سے بچاؤ کی ضرورت پر خاص توجہ دیں؛ پینے کے پانی کو آلودگی سے بچائیں؛ اور دھوئیں والے چولہے کے بند کمرے میں استعمال سے گریز کریں۔ مگر طبی ایمرجنسی—مثلاً بے ہوشی، الجھن، بہت تیز جسمانی درجہ حرارت یا سانس میں دشواری—کو محض “گرمی لگنا” سمجھ کر گھر پر نہ سنبھالیں؛ فوری طبی مدد ضروری ہے۔

رپورٹ کی ایک اہم حد بھی ہے:

اس میں 2024 سے 2075 تک کے منظرناموں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر تخمینے لگائے گئے ہیں، اس لیے مقامی نتائج پالیسی، سرمایہ کاری اور نفاذ کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس سے بنیادی حقیقت نہیں بدلتی کہ صاف پانی، صفائی، صاف توانائی اور گرمی کی تیاری صرف ماحولیاتی منصوبے نہیں بلکہ براہِ راست صحت کی سرمایہ کاری ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں