تبدیلی لازماً ترقی نہیں ہوتی!
شیئر کریں
انسانی تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں، سلطنتوں اور انقلابوں کی داستان نہیں، بلکہ انسانی ذہن کے بدلتے ہوئے تصورات، عقائد اور تشریحات کی تاریخ بھی ہے۔ انسان ماضی میں جو کچھ دیکھتا، سمجھتا اور سچ تسلیم کرتا ہے، ضروری نہیں کہ مستقبل میں بھی اس کی نظر میں وہی حقیقت برقرار رہے۔ وقت، تجربہ، علم اور شعور اس کے ذہن میں ایسے نئے دریچے کھولتے ہیں جن سے پرانی حقیقتیں نئے معنی اختیار کر لیتی ہیں۔ اصل دانش یہ نہیں کہ انسان زندگی بھر اپنے ہر سابقہ خیال کا دفاع کرتا رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہی تصورات کو سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی اخلاقی جرات پیدا کرے۔ کیونکہ جو ذہن اپنے ماضی کے عقائد پر نظرثانی سے انکار کر دے، وہ بالآخر اپنی ہی تعمیر کردہ فکری قید میں زندگی گزارنے لگتا ہے۔ جرمن فلسفی ہانس گیورگ گادامر نے اپنی شہر آفاق کتاب‘‘ٹروتھ اینڈ میٹھڈ’’میں انسانی تفہیم کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالی۔ ان کے فلسفے کے مطابق ہم کسی متن، واقعے یا خیال کو کسی خالی ذہن کے ساتھ نہیں سمجھتے؛ ہمارے سابقہ تجربات، تاریخی حالات اور پہلے سے موجود تصورات بھی ہماری تفہیم پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی چیز کو دوبارہ پڑھنا محض الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ اپنے بدلتے ہوئے شعور کے ساتھ اس کے نئے معانی دریافت کرنا بھی ہے۔
انسان جب کسی پرانی کتاب کی طرف لوٹتا ہے تو کتاب وہی رہتی ہے، مگر پڑھنے والا انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔ یہی فرق انسانی شعور کی ترقی کا بنیادی راز ہے۔تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تہذیبوں کی بڑی تبدیلیاں اکثر اس وقت پیدا ہوئیں جب کسی فرد یا معاشرے نے مروجہ تصورات کو حتمی حقیقت ماننے سے انکار کیا۔ قدیم یونان میں سقراط نے سوال اٹھانے کو فکری زندگی کا بنیادی اصول بنایا۔ اس نے ایتھنز کے شہریوں کو بتایا کہ اپنے علم پر شک کرنا جہالت کا اعتراف ضرور ہو سکتا ہے، مگر یہی اعتراف حقیقی دانش کی ابتدا بھی
ہے۔ سقراط کا جرم دراصل یہ تھا کہ وہ ایسے معاشرے میں سوال کرتا تھا جو اپنے مروجہ عقائد کو سوال سے بالاتر سمجھنے لگا تھا۔ اس کی موت ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے اکثر غلطی سے زیادہ اس شخص سے خوف زدہ ہوتے ہیں جو ان کی غلطی کو نمایاں کر دے۔یورپ کی نشاۃ ثانیہ نے بھی انسانی ذہن کو ماضی کی اتھارٹی سے آگے دیکھنے کا حوصلہ دیا۔ صدیوں تک مذہبی اور روایتی تصورات علم کی حدود متعین کرتے رہے، لیکن کوپرنیکس، گلیلیو اور دوسرے مفکرین نے کائنات کے بارے میں رائج نظریات کو چیلنج کیا۔ زمین کو کائنات کا مرکز سمجھنے والا تصور نئے مشاہدات کے سامنے کمزور پڑنے لگا۔ مسئلہ صرف فلکیات کا نہیں تھا؛ یہ انسانی انا، اختیار اور یقین کا مسئلہ بھی تھا۔
انسان کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل تھا کہ جس حقیقت کو وہ صدیوں سے ناقابلِ تردید سمجھتا آیا ہے، وہ نامکمل یا غلط بھی ہو سکتی ہے۔ اس تاریخی تجربے نے واضح کیا کہ حقیقت کے قریب پہنچنے کے لیے کبھی کبھی اپنی محبوب ترین یقین دہانیوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ سائنسی تاریخ میں تھامس کُہن کی کتاب The structure of scientific revolution اس عمل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ کُہن نے واضح کیا کہ سائنس کی ترقی ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں ہوتی؛ بعض اوقات نئے شواہد پرانے علمی نمونے کو چیلنج کرتے ہیں اور بالآخر سوچنے کا پورا طریقہ بدل جاتا ہے۔ نیوٹن کے قوانین نے طبیعیات کو ایک طاقتور فکری بنیاد دی، لیکن بعد میں آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت نے یہ دکھایا کہ بعض حالات میں کائنات کو سمجھنے کے لیے زیادہ وسیع نظریاتی فریم ورک درکار ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ماضی کا تمام علم بے کار ہو گیا، بلکہ یہ کہ علم کی حدود اور اطلاق کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت پیدا ہوئی۔ یہی فرق ہے ذہنی پختگی اور فکری ضد میں: پختہ ذہن سابقہ علم کی قدر کرتے ہوئے اس کی حدود تسلیم کرتا ہے، جب کہ ضدی ذہن حدود کو بھی اپنی توہین سمجھتا ہے۔
انسانی نفسیات میں اس کے برعکس ایک طاقتور رجحان موجود ہے جسے ماہرینِ نفسیات ConfirmationBias، یعنی تصدیقی تعصب، کہتے ہیں۔ انسان اکثر ایسی معلومات کو ترجیح دیتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم عقائد کی تائید کرتی ہوں، جب کہ مخالف شواہد کو نظرانداز یا مسترد کر دیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عقائد صرف خیالات نہیں ہوتے؛ وہ ہماری شناخت، تعلقات، سماجی حیثیت اور جذباتی تحفظ کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ جب کوئی ہمارے نظریہ کو چیلنج کرتا ہے تو ہمیں بعض اوقات محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمارے وجود پر حملہ کر رہا ہو۔ اسی لیے لوگ واضح شواہد کے باوجود اپنی غلطیوں کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔جرمن ماہرِ نفسیات لیون فیسٹنگر کے نظری Cognitive Dissonance کے مطابق جب انسان کے عقائد اور تجربات میں تضاد پیدا ہوتا ہے تو اسے ذہنی بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔ اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے وہ اپنا عقیدہ بدل سکتا ہے، اپنے عمل کی اصلاح کر سکتا ہے، یا حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کے خلاف دلائل تراش سکتا ہے۔ یہی نفسیاتی عمل سیاست، مذہب، سماجی تعصبات اور ذاتی تعلقات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ انسان بعض اوقات سچائی سے اس لیے نہیں بھاگتا کہ وہ اسے سمجھ نہیں سکتا، بلکہ اس لیے کہ سچائی تسلیم کرنے کی قیمت اسے بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یورپ کی اصلاحِ مذہب، فرانسیسی انقلاب اور غلامی کے خاتمے کی تحریکوں کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تاریخی تبدیلیوں کے پیچھے صرف نئے سیاسی مطالبات نہیں تھے، بلکہ انسان اور اختیار کے بارے میں بنیادی تصورات پر نظرثانی بھی شامل تھی۔ جن معاشروں میں طبقاتی امتیاز، شاہی اقتدار یا نسلی برتری کو فطری حقیقت سمجھا جاتا تھا، وہاں نئے مفکرین اور تحریکوں نے ان تصورات کو انسانی ساختہ نظام قرار دے کر چیلنج کیا۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر تبدیلی لازماً ترقی نہیں ہوتی؛ انقلاب کے نام پر نئے جبر بھی پیدا ہوئے۔ اس لیے دانش مندی صرف پرانے نظریے کو مسترد کرنے میں نہیں، بلکہ نئے نظریے کو بھی تنقیدی شعور کے ساتھ پرکھنے میں ہے۔یہی اصول قوموں کی اجتماعی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
جرمنی نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنے ماضی کے جرائم، نازی نظریے اور اجتماعی ذمہ داری کے سوالات کا سامنا کیا۔ اس عمل میں یادداشت، تعلیم اور تاریخی احتساب کو اہمیت دی گئی۔ اس کے برعکس جب کوئی قوم اپنے ماضی کو صرف عظمت کی داستان بنا کر پیش کرتی ہے، غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتی اور ہر تنقید کو دشمنی قرار دیتی ہے تو وہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ ماضی سے محبت اور ماضی کی پرستش دو مختلف چیزیں ہیں۔ پہلی انسان کو اپنی جڑوں سے جوڑتی ہے؛ دوسری اسے حقیقت دیکھنے سے محروم کر سکتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں بھی اس فکری مسئلے کی گہری مثالیں موجود ہیں۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان ایک بڑی تاریخی تبدیلی تھی، لیکن نئی ریاست کو جمہوریت، وفاقی تعلقات، زبان، شناخت اور شہری مساوات جیسے بنیادی سوالات کا سامنا رہا۔ 1958ء کے پہلے مارشل لا سے لے کر 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک، ہماری تاریخ نے بار بار دکھایا کہ سیاسی غلطیوں، اقتدار کے ارتکاز اور اختلافِ رائے کو دبانے کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کے بحران کو صرف بیرونی سازشوں یا چند افراد کی غلطیوں تک محدود کر دینا ان داخلی سیاسی، لسانی اور نمائندگی کے مسائل سے آنکھیں چرانا ہے جنہوں نے اس المیے کو گہرا کیا۔اسی طرح پاکستان میں جمہوری اداروں کی کمزوری، سیاسی انتقام، انتخابی تنازعات اور مخالف آوازوں کو دشمن قرار دینے کا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ہم اکثر تاریخ سے سبق لینے کے بجائے اپنی سابقہ غلطیوں کو نئے ناموں سے دہراتے ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم نے وفاقی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا، مگر آئینی وعدوں کو حقیقی انصاف میں بدلنے کے لیے مسلسل سیاسی عزم درکار ہے۔ سندھ سمیت تمام صوبوں کے حقوق، زبانوں، ثقافتی شناختوں اور وسائل کے منصفانہ استعمال کو تسلیم کرنا اسی وقت ممکن ہے جب ریاست اور معاشرہ اپنے تصورات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے نہ اپنی پوری تاریخ کو رد کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہر تاریخی فیصلے کو مقدس سمجھنے کی اسے سچائی، شواہد اور اجتماعی احتساب کی بنیاد پر اپنے ماضی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔آخرکار انسان کی فکری پختگی کا امتحان یہ نہیں کہ اس نے زندگی میں کتنے نظریات اختیار کیے، بلکہ یہ ہے کہ نئے علم اور تجربے کے سامنے وہ کتنی دیانت داری سے اپنے نظریات کا جائزہ لے سکتا ہے۔ کسی پرانے عقیدے کو ترک کرنا ہمیشہ ماضی کی ذات سے غداری نہیں ہوتا؛ کبھی یہ اسی ذات کی ترقی کا ثبوت ہوتا ہے۔ جو شخص آج وہ دیکھ سکتا ہے جو کل اس کی نگاہ سے اوجھل تھا، اسے اپنے سابقہ شعور پر شرمندہ ہونے کے بجائے اپنی نئی بصیرت کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
تاریخ کا سب سے خطرناک سبق یہ نہیں کہ انسان غلطیاں کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کو عقیدہ، روایت اور شناخت بنا کر نسل در نسل منتقل بھی کر سکتا ہے۔ قومیں اسی وقت بالغ ہوتی ہیں جب وہ اپنی یادداشت کو تعصب سے، اپنی سیاست کو انتقام سے اور اپنے علم کو غرور سے آزاد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کیونکہ سچائی کسی ایک دور، نسل یا شخصیت کی جاگیر نہیں۔ وہ مسلسل سوال، تجربے اور نظرثانی کے ذریعے ہماری سمجھ میں زیادہ واضح ہوتی ہے۔حقیقی دانش اپنے ماضی کو مٹانے میں نہیں، بلکہ اس کی طرف دوبارہ دیکھنے اور یہ تسلیم کرنے میں ہے کہ انسان بدل سکتا ہے، اس کی سمجھ بدل سکتی ہے، اور کبھی کبھی آگے بڑھنے کے لیے اسے اپنے ہی کل کے یقین سے اختلاف کرنا پڑتا ہے۔
٭٭٭


