میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 غامدی، ایڈورڈ سعید اور اسلام

 غامدی، ایڈورڈ سعید اور اسلام

جرات ڈیسک
هفته, ۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کسی مسئلے کو سمجھنے کے لیے فکرِ غامدی سے رجوع کرنا ،میرے جاننے کے ماخذات میں سے ایک بڑا ماخذ رہاہے۔ یہودیوں کے ساتھ تاریخ میں جو کچھ ہوا،دی بلیک ہول کے پروگرام میں ڈاکٹر محمد اقبال فرما رہے تھے ‘کہ ان کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوا ہے ،ہٹلر نے زیادہ کیا تو وہ زیادہ مشہور ہوگیا’۔ اینا فرینک کی ڈائری جو اس نے نازی کمیپ کی دہشت ناک اسیری میں لکھی ؛تو یہ سب میری یہودیوں سے مذہب سے بالا انسانی بنیادوں پر ہمدردی و درد مندی کی بنیاد بنیں اور آج بھی ہیں۔
فلسطین میں برپا حالیہ صورت حال پر جب غامدی صاحب کا موقف کہ ‘‘حماس نے پہل کی ،وہ ممالک جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا انہیں ۱۹۴۹ء میں ہی جب اقوامِ متحدہ نے تسلیم کرلیا تھا تو تسلیم کرلینا چاہیے تھاکیوں طاقت کاپلڑا ان کی طرف جھک چکاتھا۔ اسرائیل پر حملے کا مطلب مزید املاک و جانیں گنوا نا ہے۔ پہلے خود کو تیار کریں’’، الفاظ مختلف ہوسکتے ہیں لیکن مفہوم یہی تھا۔ مجھے بھی کلاس میں طالب علموں سے بات کرنے کے لیے کوئی واضح رائے چاہیے ہوتی ہے تو میں نے غامدی صاحب سے خود کو متفق پایا اور کلاس میں بھی اسی کا پرچار کیااورصرف اتنا ہی نہیں بلکہ میری ایران سے حمایت بھی متاثر ہوئی تھی۔ پھر ایک انٹرویو جو ایران اسرائیل جنگی محاذ کھلنے کے بعد شہزادغیاث نے کیا ۔ اس میں غامدی صاحب کو پہلی مرتبہ لمحے بھر کے لیے لیکن جذباتی ہوتے ہوئے اور سوال کو درمیان سے کاٹتے ہوئے دیکھا۔ یہ انٹرویو بھی میرے ایک کالم کا موضوع بنا تھا‘‘مرگ بر امریکہ ’ ، مرگ بر شیطان’کا نعرہ لگاتے ایرانی عوام ؛ سیاست میں عوامی سیاست اور نعرے بازی ایک سطح، سفارت کاری دوسری سطح اور پس ِپردہ یا خفیہ سفارت کاری تیسری سطح؛ ایران ہو کہ امریکہ ،تاریخی ہو کہ حالیہ ؛یہ سب جاری رہتی ہیں۔ ،غامدی صاحب اسکالر ی سطح رکھتے ہیں، ان کی بلند نظری و تجزیہ عوام کے جذبات کو ابھارنے اور استعمال کرنے والے نعروں کی بنیادپر اگر نہیں بنا تھا تو غامدی صاحب اس کا حوالہ بھی نہیں دیتے جو انہوں نے دیا۔ ایران نے شاہ کے بعد خود کو برابری کی سطح پر رکھ کر خواہ وہ امام خمینی کے کارٹر سے رابطے ہی کیوں نہ ہوں،بات چیت کی ،مذاکرات میں برابری کی سطح پر رکھنا اور اس سطح کو برقرار رکھنا ، ایرانی سیاست کی بڑی کامیابی ہے۔
جاوید احمد غامدی سنی مسلمان اور اسلامی اسکالر ہیں جب کہ ایڈورڈ سعید عیسائی ہیں اور اسلام کے طرف داراتنے کہ انہوں نے اورئینٹلزم جیسی کتاب لکھ کرمستشرقین کی فکر اور مغربی میڈیا کی قلعی کھول دی ۔ مجھے لگتا ہے کہ جس تقسیم سے کسی سنی یا شیعہ مسلمان کا ابھرنا مشکل ہے، یوں نہیں کہ ایڈورڈ سعید اس تقسیم کا ادراک نہ رکھتے ہوں لیکن وہ اس کا حصہ اس طرح نہیں تھے جیسے غامدی ہیں۔ غالباََ ایڈورڈ سعید کے
لیے مسلمان اسلام کی چھتری تلے ہی آتے ہیں خواہ ان میں کتنے ہی فرقے ہوں جب کہ غامدی صاحب بہرحال ایک فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔بقول غامدی ‘سنی خلافت کی اور شیعہ ہمیشہ امامت کی بات کریں گے۔’ سیاست دانوں نے زمینی حقیقتوں کو الہامی زنجیروں سے جکڑا ہے تو عوام پر قابو پانے کے لیے ،سیاست دانوں کا تعلق اگر عوام کی فلاح سے ہو تو یہ مسئلے مسئلے نہیں رہیں گے۔ یہاں مذہب کو مسئلہ بنانے کا ہی نتیجہ ہے کہ غامدی کو پاکستان چھوڑنا پڑا اور ایڈورڈسعید امریکہ میں رہتے ہوئے مخالفتیں تو سہنا پڑیں لیکن امریکہ نہیں چھوڑنا پڑا بلکہ وہ وہاں پروفیسری کرتے رہے۔عوام کو مذہب کی افیون امریکہ میں بھی دی گئی لیکن وہاں نظام بھی بنا اور جمہوریت بھی پنپی ۔ٹرمپ جو اقدامات کررہا ہے وہ امریکہ میں جمہوری قدروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ہم نے تو ابھی جمہوریت صحیح طرح سے چکھی بھی نہیں۔
‘‘مغربی میڈیا میں اسلام کی تصویر کشی’’یہ وہ قضیہ ہے جس کی طرف ایڈورڈ سعید نے اپنی کتابوں اور مضامین کے ذریعے توجہ دلائی۔ وہی ذہن سازی جو ہماری درسی کتب اور ذرائع ابلاغ تاریخ اور یہود و نصاریٰ و ہنود کے حوالے سے ہماری کرتے رہے ہیں، وہی ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو ’ کا قدیم یونانی نسخہ جوبر صغیر کی تقسیم کے بعد بھی آزمودہ رہااور یہی آزمودہ حربہ مغرب میں مستشرقین کا کعبہ اور میڈیا کا قبلہ بنا۔
کتاب ‘‘ایڈورڈ سعید :تنقیدات ، مکالمات اور تخلیقات’’، مرتبہ ڈاکٹر آسیہ نازلی ،سٹی بک پوائنٹ ،۲۰۲۱ء ؛ میں نے اس کتاب کا باقاعدہ مطالعہ صفحہ نمبر ۱۸۲ سے کیا جہاں سے ایڈورڈ سعید کے مضامین کے تراجم شروع ہوتے ہیں۔اس میں تین مضامین بعنوان ‘اسلام اور مغربی ذرائع ابلاغ(تعارف ۱۹۹۶ء ایڈیشن)’، ‘اسلام اور مغربی ذرائع ابلاغ(تعارف۱۹۸۰ء ایڈیشن)’،‘اسلام اور مغربی ذرائع ابلاغ(تعارف ۱۹۸۱ء ایڈیشن)’ ان کے واحد مترجم ظہیر جاوید ہیں ۔ یہاں میں پہلے مضمون کا پہلا اقتباس(ص ۲۴۳) نقل کررہی ہوں: ‘‘ کورنگ اسلام کی اشاعت کو پندرہ برس ہوگئے ہیں۔ ان پندرہ برسوں کے دوران امریکہ اور مغربی میڈیا نے مسلمانوں اور اسلام کو کچھ اس طرح سے تنقید کا نشانہ بنائے رکھا کہ میں نے اپنی کتاب کی پہلی اشاعت میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جس مبالغہ آمیزی، نہ تبدیل ہونے والی رائے اور سوچ اور گہری دشمنی کا ذکر کیاتھا وہ ہیچ معلوم ہونے لگی ،ایسا معلوم ہوتا ہے ،جیسے مغربی دنیا کی یہ سوچ بڑی پختہ ہوچکی ہے کہ اسلام چونکہ ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کا دوسرانام ہے ،اس لیے ایران جیسے ملک ،مغرب اور مغربی زندگی کے انداز و اطوار کے لیے کھلا خطرہ بن چکے ہیں، اس وہم نے مغربی دنیا کا یہ حال کردیا ہے کہ مسلمانوں کی خیالی سازشوں کا تصور باندھتی ،اس خوف سے سہمی رہتی ہے کہ ابھی عمارتیں دھماکے سے اُڑ جائیں گی،تجارتی ہوائی جہاز سبوتاژ ہوں گے،پانی کی سپلائی لائنوں کو زہر آلود کردیا جائے گا،اس مخصوص اور معلوم انداز ِ فکر نے مغربی ‘‘ماہرین’’ کی ایک فوج تیارکردی ہے ، اب جب اور جہاں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے ،یہ ماہرین خبروں کے پروگراموں اور ٹاک شوز میں آدھمکتے ہیں اور اسلام کے متعلق اپنی گھسی پٹی سوچ کو ،نمائشی اور رسمی انداز میں بیان کرنے لگتے ہیں،ان پروگراموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پادریوں کے ،جس مذہبی انداز کو غیر معتبر قرار دیا جاچکاتھااور اسلام کے متعلق سفید فاموں سے ہٹ کر مشرقی علوم کے ماہرین کے جو خیالات کبھی کے رد ہوچکے ہیں اس خیال اور اس انداز کو پھر سے اختیار کیا جارہا ہے،آگے لایا جارہا ہے اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہورہا ہے ،جب دوسرے ثقافتی پروگراموں کے متعلق نسل اور مذہبی غلط بیانی کو عقل و خرد سے عاری انداز میں پھیلانے کا زمانہ کبھی کا گزر چکاہے ، ایسے میں ان ‘‘ماہرین ’’ کا اور ان کے خیالات کابہت اہمیت اختیار کرنا بڑا تشویشناک ہے ،اور اس لیے تشویش ناک ہے کہ یہ لوگ مباحثوں میں مسلمانوں کی ذہنیت،ان کے کردار، مذہب ،ثقافت کے متعلق الگ الگ یا باحیثیت مجموعی جو کچھ کہتے ہیں،اسے آج کے دور میں افریقیوں ،یہودیوں ،دوسرے مشرقی یا ایشیائی باشندوں کے متعلق بھی نہیں کہا جاسکتا،اس بات کو یوں سمجھیے کہ آج کے مغرب میں اگر کسی غیر ملکی کلچر کو کلنک کا ٹیکہ قرار دینا مقصود ہے ، تو مغربی میڈیاکسی اور کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ اسلام کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیتا ہے۔’’
کیا مغربی میڈیا کا یہ تاریخی پروپیگنڈہ جاوید احمد غامدی کے علم میں نہیں؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں