سندھ حکومت کی کارکردگی سے شہری مایوس، نئے صوبوں کا قیام ناگزیر قرار
شیئر کریں
خستہ حال سڑکیں، کھلے گٹر اور بنیادی سہولیات کا فقدان انتظامی نظام پر سوالیہ نشان اٹھا دیے
کراچی میں بجلی کیلئے سولر، پانی کیلئے ٹینکر اور گیس کیلئے سلنڈر استعمال کرنے پر شہریوں کی دہائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ حکومت کی کارکردگی سے مایوس شہریوں نے بڑھتی ہوئی آبادی، بنیادی سہولیات کے فقدان اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا ہے۔
کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں کے شہریوں نے کہا کہ عوام کو صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر انتظامی نظام کی ضرورت ہے، تاکہ مسائل کا بروقت حل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوسکے۔
شہریوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات بھی عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے متبادل کے طور پر سولر سسٹم، پانی کے حصول کے لیے ٹینکرز اور گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سلنڈرز استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے گھریلو اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
شہریوں نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کرایے پر چل رہا ہو، جہاں بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے بھی عوام کو اپنی جیب سے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ان کے مطابق کراچی کی رونقیں بحال کرنے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل حل کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں بہتری لانا ضروری ہے۔
شہریوں نے شہر کی سڑکوں کی خستہ حالی اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلے گٹروں میں بچوں کے گرنے اور جان سے ہاتھ دھونے جیسے واقعات شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور جواب دہ انتظامی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شہریوں کے مطابق سندھ حکومت عوامی مسائل حل کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں توقعات پر پوری نہیں اتر سکی، جس کے باعث نئے صوبوں کے قیام اور بہتر انتظامی نظام کی بحث اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ انتظامی اختیارات کو عوام کے قریب لانے سے مقامی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی میں مدد مل سکتی ہے۔
شہریوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے مختلف علاقوں کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے تیار کرنے، صحت و تعلیم کی سہولیات بہتر بنانے اور عوام کو ان کی دہلیز پر خدمات فراہم کرنے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔شہریوں نے کہا کہ مسیحی برادری سمیت مختلف طبقات کے افراد نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک بہتر انتظامی نظام کے ذریعے عوامی مسائل کے حل اور سہولیات کی فراہمی کو مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
شہریوں کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عوامی ضروریات، انتظامی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے تناظر میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، تاکہ سندھ کے تمام علاقوں میں ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچ سکیں۔


