میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محکمہ ورکس، اربوں کی ترقیاتی اسکیمیں سست روی کا شکار

محکمہ ورکس، اربوں کی ترقیاتی اسکیمیں سست روی کا شکار

جرات ڈیسک
منگل, ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

33ارب 26کروڑ روپے خرچ ،116اسکیموں پر کوئی خرچ نہ ہونے کا انکشاف

99اسکیموں کی مانیٹرنگ رپورٹس غیر تسلی بخش قرار، چار میں انکوائری کی سفارش

کراچی(رپورٹ: اسد آرائیں ) محکمہ ورکس اینڈ سروسز سندھ کے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی پروگرام (ADP)کے وسط مدتی جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ سڑکوں کے شعبے کی 616ترقیاتی اسکیموں کے لیے مجموعی طور پر 64؍ارب 29کروڑ روپے مختص کیے گئے،

تاہم 2؍جنوری 2026 تک ان اسکیموں پر 33؍ارب 26کروڑ روپے خرچ ہوئے، جو مختص رقم کا 51.73فیصد بنتے ہیں۔ سندھ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیل کی جانب سے جاری اجلاس کی کارروائی کے مطابق محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے ترقیاتی منصوبوں کا وسط مدتی جائزہ 16؍جنوری 2026 کو چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال، منصوبوں پر پیش رفت اور انتظامی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سڑکوں کے شعبے کی 616اسکیموں میں 568جاری اور 48نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ جاری اسکیموں کے لیے 47ارب 42کروڑ روپے جبکہ نئی اسکیموں کے لیے 16؍ارب 87کروڑ روپے کی حتمی تخصیص کی گئی۔ نئی اسکیموں پر 2؍جنوری تک صرف 69کروڑ 77لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جو مختص رقم کا 4.13فیصد ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 344اسکیمیں تکمیل کے قریب ہونے والی کیٹیگری میں شامل ہیں، جن کے لیے 25 ارب 47کروڑ روپے مختص کیے گئے، جبکہ ان پر 17؍ارب 65کروڑ روپے سے زائد اخراجات ریکارڈ کیے گئے۔ ان اسکیموں میں مکمل فنڈنگ کے ساتھ تکمیل کے قریب منصوبے بھی شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے 9جنوری 2026تک مجموعی طور پر 46ارب 66کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے، جبکہ اخراجات بڑھ کر 34ارب 51کروڑ روپے ہو گئے۔ اس تاریخ تک مختص رقم کے مقابلے میں اخراجات کی شرح 53.67فیصد جبکہ جاری فنڈز کے مقابلے میں 73.95 فیصد رہی۔جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 9جنوری 2026 تک محکمہ ورکس اینڈ سروسز سڑکوں کے شعبے کی 116 اسکیموں پر کوئی اخراجات نہیں کر سکا۔

ان میں 34ایل ٹی بی سی اور 82دیگر جاری اسکیمیں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق 62اسکیمیں ایسی ہیں جن کے لیے فنڈز جاری کیے گئے، لیکن ان پر کوئی اخراجات نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ 31پرانی اسکیمیں، جو جولائی 2020سے پہلے شروع کی گئی تھیں، جبکہ 63اسکیمیں نظرثانی کے مراحل میں ہیں۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ 99اسکیموں سے متعلق غیر تسلی بخش مانیٹرنگ رپورٹس سامنے آئیں۔ ان میں 25اسکیمیں مالی سال 2025-26اور 74گزشتہ سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP)سے متعلق ہیں، تاہم متعلقہ انتظامی محکموں کی جانب سے ان پر وضاحتی جوابات جمع نہیں کرائے گئے۔ مزید چار اسکیموں کے معاملے میں محکمانہ انکوائری کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سڑکوں کے شعبے کی 968اسکیمیں مکمل ہوئیں، تاہم 519اسکیموں کے تکمیلی معائنے کے سرٹیفکیٹس (PC-IVs)جمع کرائے گئے، جبکہ 449اسکیموں کے PC-IVs متعلقہ انتظامی محکموں کی جانب سے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو فراہم نہیں کیے گئے۔

اسی طرح 596اسکیموں کی ماہانہ پیش رفت رپورٹس (MPRs)جمع کرائی جا رہی ہیں، جبکہ 20اسکیموں کی ماہانہ رپورٹس متعلقہ انتظامی محکموں کی جانب سے جمع نہیں کرائی جا رہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سڑکوں کے شعبے میں 48نئی اسکیمیں شامل کی گئیں، جن میں 26صوبائی ترقیاتی پروگرام (PDWP)اور 22ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (DDWP)سے متعلق ہیں۔

ان اسکیموں میں سے 46کے PC-Iجمع کرائے گئے، جن میں 25صوبائی اور 21ضلعی ترقیاتی پروگرام کی اسکیمیں شامل ہیں۔ ان میں سے 44 اسکیموں کی منظوری دی جا چکی ہے اور متعلقہ مشورے یا رضامندی بھی جاری کی گئی ہے، جبکہ دو اسکیموں کے PC-I صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے موخر کر دیے۔

دستاویز کے مطابق ADPاسکیم نمبر 3345 ک ا PC-I انتظامی محکمے نے واپس لے لیا، جبکہ ADP اسکیم نمبر 3632کا PC-IIتاحال PCFMSپر اپ لوڈ نہیں کیا گیا۔اجلاس میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے ترقیاتی کاموں کی رفتار بہتر بنانے، فنڈز کے موثر استعمال، انتظامی تاخیر ختم کرنے اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، انتظامی و مالیاتی محکموں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے پر زور دیا، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن بنائی جا سکے۔ترقیاتی اسکیموں پر اخراجات میں سست روی، 116منصوبوں پر کوئی رقم خرچ نہ ہونے، مانیٹرنگ رپورٹس میں خامیوں اور مکمل اسکیموں کے تکمیلی سرٹیفکیٹس جمع نہ ہونے کے انکشافات نے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی کارکردگی پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت، چیف سیکریٹری سندھ اور متعلقہ اعلی حکام اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی وجوہات کا تعین کریں، ذمہ دار افسران سے وضاحت طلب کریں اور فنڈز کے مثر استعمال، شفافیت اور منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں