جماعت اسلامی کے گرفتار بلدیاتی نمائندے چند گھنٹوں بعد رہا
شیئر کریں
نمائندوں کو حراست میں لینے کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں
کارروائیاں بلدیاتی نمائندوں کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہیں،منعم ظفر
کراچی میں جماعت اسلامی کے 10 سے زائد بلدیاتی نمائندوں کو حراست میں لیے جانے کے چند گھنٹوں بعد رہا کردیا گیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے منتخب نمائندوں کو تھانوں میں بلا کر حراست میں لینے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کی مذمت کی۔
منعم ظفر خان کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں سے جماعت اسلامی کے یونین کمیٹی چیئرمینوں، وائس چیئرمینوں اور کونسلروں کو تھانوں سے فون کرکے بلایا گیا، جہاں پہنچنے پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نمائندوں کو حراست میں لینے کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں۔ ‘ٓ
امیر جماعت اسلامی کراچی نے دعویٰ کیا کہ شہر میں جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں بلدیاتی نمائندوں کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔منعم ظفر خان نے بتایا کہ کورنگی کے علاقے میں یوسی چیئرمین خورشید اقبال کو زمان ٹاؤن پولیس تھانے لے گئی، جہاں انہیں باہر جانے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح چنیسر ٹاؤن کے کونسلر اطہر امام اور مجاہد، جناح ٹاؤن کے وارڈ کونسلر ساجد جیلانی اور دیگر بلدیاتی نمائندوں کو بھی مختلف تھانوں میں حراست میں رکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق حراست میں لیے جانے والوں میں یوسی 7 زمان ٹاؤن کے چیئرمین خورشید اقبال، یوسی 6 گلشن اقبال کے وائس چیئرمین عادل محمد، چنیسر ٹاؤن کے کونسلر اطہر امام، گلشن اقبال کے کونسلر جاوید، جناح ٹاؤن کے وارڈ کونسلر ساجد جیلانی اور اللہ گل شامل تھے۔بعدازاں جماعت اسلامی کے سیکریٹری توفیق الدین نے رات گئے تصدیق کی کہ پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے تمام منتخب بلدیاتی نمائندوں کو رہا کردیا گیا ہے۔


