گونگے انسان
شیئر کریں
رات کے ٹھیک بارہ بجے دنیا کے تمام انسانوں کی قوت گویائی چھن گئی۔ نہ کوئی اعلان ہوا، نہ آسمان سے کوئی آواز آئی، بس اچانک
انسانوں کے ہونٹ حرکت کرتے رہے مگر آوازغائب ہوگئی۔ نیویارک سے اسلام آباد تک، ایوان اقتدار سے جھونپڑی تک، پوری دنیا گونگی
ہوچکی تھی۔ صبح ہوئی تو وزیراعظم دفتر پہنچے ۔ اجلاس شروع ہوا، وزیروں نے فائلیں کھولیں، افسران نے کاغذات آگے رکھے ، مگر کوئی کسی سے کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا۔چینلوں پراینکر کیمرے کے سامنے بیٹھے تھے ۔ ہونٹ ہل رہے تھے ، ہاتھ فضا میں بلند تھے ، چہروں پرتشویش تھی، مگر آوازنہیں تھی۔بازاروں میں بھی دلچسپ صورت حال تھی۔ دکاندارقیمتیں لکھ کر بتاتے ، خریدار کیلکولیٹر پر بھاؤ تاؤ کرتے ۔ دنیا کے بڑے ایوانوں میں امن کے اجلاس جاری تھے ۔ میز پرنقشے پھیلے تھے ، انگلیاں سرحدوں پر چل رہی تھیں، مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں۔ ایک رہنما نے کاغذ پر امن لکھا تو دوسرے نے نیچے میزائل کا نقشہ بنا دیا۔ شاید دنیا کو پہلی بار احساس ہوا کہ جنگیں صرف زبان سے نہیں لڑی جاتیں اور امن صرف لفظ لکھ دینے سے قائم نہیں ہوتا۔
اسی خاموش دنیا میں ایک بوڑھی ماں اپنے بیٹے کے سامنے بیٹھی تھی، جو کئی ماہ بعد گھر لوٹا تھا۔ ماں کی آنکھوں میں محبت بھی تھی اورشکایت بھی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، بیٹا وضاحت دینا چاہتا تھا، مگر دونوں کے پاس الفاظ نہیں تھے ۔دنیا کو گونگا ہوئے ابھی چند گھنٹے گزرے تھے ۔
کہیں اقتداربے زبان تھا، کہیں دولت بے بس، کہیں جنگیں، کہیں محبت خاموش تھی۔ دوپہرتک دنیا کی خاموشی نے ایک نیا رنگ اختیار
کرلیا۔ عدالتوں میں جج فیصلے لکھ رہے تھے ، وکیل کاغذوں پردلائل درج کررہے تھے اورملزم اپنی صفائی میں ہاتھ ہلا رہے تھے ۔ ایک جج نے ایک بااثرملزم کی طرف دیکھا، پھراس کے سامنے پڑی فائل کھولی۔ ملزم نے حسبِ عادت جیب سے موبائل نکالا اور کسی کو پیغام بھیجنے لگا۔ جج نے موبائل ضبط کرنے کا اشارہ کیا تو ملزم کے چہرے پر پہلی مرتبہ پریشانی دکھائی دی۔ اسے شاید یہ گمان تھا کہ دنیا کی ہر مشکل کا کوئی نہ کوئی بااثررابطہ ہوتا ہے ، مگر آج رابطوں کی دنیا بھی خاموش تھی ۔اسپتالوں میں صورتِ حال کہیں زیادہ سنگین تھی۔ ایک بچہ درد سے تڑپ رہا تھا، ماں ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی، مگراس کی فریاد بے آواز تھی۔ ایک طرف ایک ماں کی آنکھوں میں امید تھی، دوسری طرف ایک غریب باپ کاؤنٹر پر کھڑا علاج کے اخراجات دیکھ رہا تھا۔ اس نے جیب سے چند مڑے تڑے نوٹ نکالے ، گنے اور دوبارہ جیب میں رکھ لیے ۔ وہ کسی سے بحث نہیں کرسکتا تھا، کسی سے رحم کی اپیل نہیں کرسکتا تھا۔ اس کی خاموشی میں ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب کسی اسپتال کی دیوار پر نہیں لکھا تھا۔ادھرسوشل میڈیا پر دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے کو پیغامات بھیج رہے تھے ۔ کسی نے لکھا کہ آج جھوٹ بند ہوگیا، کسی نے کہا کہ آج نفرت کا کاروبار ٹھپ ہوگیا، کسی نے اسے قدرت کا انتقام قرار دیا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ انسان کی آواز چھن گئی تھی، اس کی سوچ نہیں بدلی تھی۔ جو شخص کل تک دوسروں کے خلاف زہر اگلتا تھا، آج بھی نفرت بھرے الفاظ لکھ رہا تھا۔ جو کل جھوٹ بولتا تھا، آج جھوٹ ٹائپ کررہا تھا۔ معلوم ہوا کہ زبان تو صرف خیالات کی ترجمان ہے ، اصل شور تو انسان کے اندربستا ہے ۔شام ڈھلنے لگی تو ایک اور منظر سامنے آیا۔ سڑک کے کنارے ایک مزدور اپنے بچے کے ساتھ بیٹھا تھا۔ بچہ بھوکا تھا ،اس نے آتے جاتے لوگوں کی طرف دیکھا، ہاتھ پھیلایا، مگر لوگ اپنی اپنی دنیا میں مصروف تھے ۔ اسی سڑک پر ایک مہنگی گاڑی رکی، اندر بیٹھے شخص نے شیشہ نیچے کیا، چند نوٹ نکالے اور مزدور کی طرف بڑھا دیے ۔ مزدور نے ہاتھ اٹھا کر دعا دینے کی کوشش کی، مگرآواز نہ نکلی۔ اس نے صرف دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیے ۔ گاڑی آگے بڑھ گئی، مگر اس لمحے ایک سوال سڑک پررہ گیا، انسان کو انسان کی تکلیف سمجھنے کے لیے کیا واقعی اس کی آواز سننا ضروری ہے؟ رات کے گیارہ بجنے والے تھے ۔ دنیا نے چوبیس گھنٹوں میں اقتدار کی بے بسی، دولت کی حد، رشتوں کی خاموش محبت اور غربت کی بے آواز فریاد دیکھ لی تھی۔ مگر کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ زبان واپس آتے ہی سب سے پہلے کون سا لفظ ادا ہوگا۔ کوئی معافی مانگے گا، کوئی شکایت کرے گا، کوئی نعرہ لگائے گا، کوئی پھر سے جھوٹ بولے گا۔
رات کے ٹھیک بارہ بجے دنیا کی زبانیں واپس آگئیں۔ کسی نے خدا کا شکرادا کیا، کسی نے اپنے پیاروں کو آواز دی، کسی نے ٹیلی وژن پر
خبر سنانے کے لیے مائیک سنبھال لیا۔ وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا۔اگلی صبح دنیا پھراپنے پرانے راستے پر تھی۔ عدالتوں میں مقدمے
چل رہے تھے ، سیاست دان وعدے کررہے تھے ، ٹیلی وژن پر شور تھا، بازاروں میں مہنگائی تھی اور طاقتور اپنی طاقت کے نشے میں مست
تھے ۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں نے ہمیں کیا سکھایا۔ کسی نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی، کسی نے کسی بھوکے کا مستقل سہارا بننے کا فیصلہ نہیں کیا، کسی نے نفرت کی تجارت چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا۔انسان نے زبان واپس ملنے پرجشن تو منایا، مگر شاید یہ بھول گیا کہ قدرت نے اسے گونگا کرکے سزا نہیں دی تھی، ایک موقع دیا تھا۔ ایسا موقع جس میں وہ دیکھ سکتا تھا کہ اس کے الفاظ کے بغیردنیا کتنی بے بس ہے اوراس کے احساس کے بغیر کتنی بے رحم۔ ہم روز بولتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں، وعدے باندھتے ہیں، محبت کا اظہار کرتے ہیں، مظلوموں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہماری زبانیں تو زندہ رہتی ہیں، ہمارا ضمیر خاموش ہوجاتا ہے ۔ دنیا کو چوبیس گھنٹے گونگا کرنے کی ضرورت نہیں، انسان اگر ایک لمحے کے لیے اپنے ضمیر کی آواز سن لے تو شاید بہت سی زبانوں سے نکلنے والا زہرخود بخود ختم ہوجائے۔
٭٭٭


