جامعہ کراچی کے غیر تدریسی ملازمین کے لیے مفت دانتوں کی صفائی کی سہولت فراہم کرنے کا اقدام
شیئر کریں
پان، گٹکا، ماوا، مین پوری، نسوار اور تمباکو استعمال کرنے والے ملازمین کو زبانی صحت سے متعلق آگاہی بھی دی جائے گی، علاج کے لیے پوائنٹ بسوں کا انتظام
جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے پان، گٹکا، ماوا، مین پوری، نسوار اور تمباکو استعمال کرنے والے غیر تدریسی ملازمین کی زبانی صحت بہتر بنانے اور انہیں منہ کے سرطان سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے مفت دانتوں کی صفائی کی سہولت دینے کا اقدام کیا ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کی خصوصی ہدایات پر شروع کیے گئے اس اقدام کا مقصد ملازمین کو منہ اور دانتوں کی صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ مضرِ صحت اشیا کے استعمال کے نقصانات سے روشناس کرانا ہے۔
اس سلسلے میں ملازمین کی صحت کو ترجیح دینے اور انہیں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے مطابق پان، گٹکا، ماوا، مین پوری، نسوار اور تمباکو جیسی اشیا کا استعمال منہ اور دانتوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور منہ کے سرطان سمیت سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں ملازمین کو ان اشیا کے استعمال سے اجتناب کرنے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ملازمین کو دانتوں کی صفائی کی سہولت تک رسائی دینے کے لیے انہیں کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی لے جانے اور واپس جامعہ کراچی لانے کے لیے پوائنٹ بسوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ملازمین کی پہلی کھیپ جمعہ کو نمازِ جمعہ کے بعد روانہ کی گئی، جبکہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ملازمین کو دانتوں کی صفائی کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ زبانی صحت، منہ کے سرطان سے بچاؤ اور صحت مند زندگی گزارنے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بھی دی جائے گی۔ اس اقدام کو ملازمین کی صحت و بہبود کے لیے ایک عملی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔


