جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار
شیئر کریں
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگی
مہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ
جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار دے دی ہے۔
اس حوالے سے رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس میں تمام رئیس کلیات (ڈینز)، ڈائریکٹرز اور شعبہ جاتی سربراہان کو نئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹی کے اندر کسی بھی نوعیت کے اکیڈمک پروگرام، سیمینار، کانفرنس، تقریب یا دیگر ایونٹ کے انعقاد سے قبل مجاز اتھارٹی، یعنی وائس چانسلر، سے رجسٹرار آفس کے ذریعے منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
اس مقصد کے لیے متعلقہ شعبے یا سیکشن کو مجوزہ پروگرام کی تاریخ سے کم از کم 15 روز قبل مقررہ پروفارما پر درخواست جمع کرانا ہوگی، جس کے ساتھ پروگرام کی مکمل تفصیلات اور تمام متعلقہ دستاویزات بھی منسلک کرنا ضروری ہوں گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر کوئی پروگرام یا تقریب منعقد نہیں کی جاسکے گی۔ اسی طرح کسی وزیر، معزز یا ممتاز شخصیت اور دیگر خصوصی مہمانوں کو مدعو کرنے کے لیے بھی وائس چانسلر کی منظوری ضروری ہوگی۔
ہدایات کے تحت مہمانوں کو دعوت نامے جاری کرنے کا اختیار متعلقہ شعبوں یا سیکشنز کے بجائے رجسٹرار آفس کو دیا گیا ہے۔ متعلقہ شعبہ یا سیکشن مہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری نہیں کرسکے گا، بلکہ منظوری ملنے کے بعد دعوت نامے رجسٹرار آفس، جامعہ کراچی کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ یونیورسٹی قواعد و ضوابط کے تحت ذمہ دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ نے تمام متعلقہ افسران اور شعبہ جاتی سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ نئی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں سیمسٹر بریک سے قبل مختلف شعبہ جات کے تحت پروگرامز اور تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک روز قبل شعبہ کمپیوٹر سائنس کے تحت منعقدہ تقریب میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے شرکت کی تھی، جبکہ تقریب کے اختتامی سیشن میں صوبائی وزیر برائے بورڈز و جامعات اسماعیل راہو کی شرکت بھی متوقع تھی۔
اس سے قبل شعبہ ابلاغِ عامہ کے تحت منعقدہ ایک پروگرام میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور ٹیلی ویڑن ڈراموں سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی تھی۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ان تقریبات کا براہِ راست حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم نئی ہدایات کے تحت آئندہ یونیورسٹی میں ہونے والے تمام پروگرامز اور ان میں مدعو کیے جانے والے مہمانوں کی شرکت پیشگی منظوری سے مشروط ہوگی۔


