میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میر رضا قتل کیس، جے آئی ٹی سمیت تین تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل

میر رضا قتل کیس، جے آئی ٹی سمیت تین تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل

جرات ڈیسک
هفته, ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ جے آئی ٹی کے سربراہ مقرر، آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز اور این سی سی آئی اے کے نمائندے شامل 

جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا تعین، ڈاکٹر اسامہ شیخ کی تربیت سے متعلق سفارش بھی ارسال

 

سندھ حکومت نے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد شروع کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) سمیت تین تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دینے کے اقدامات کیے ہیں۔ جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کریں گے، جبکہ آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

سندھ حکومت نے متعلقہ اداروں کو مراسلے ارسال کرکے گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے افسران نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق میر رضا علی قتل کیس کی مزید تحقیقات اور جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جے آئی ٹی کے قیام کا مقصد کیس کی تحقیقات کو آگے بڑھانا ہے، جبکہ دیگر کمیٹیوں کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار، کارکردگی اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لیا جائے گا۔میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور این سی سی آئی اے کے سینئر افسران شامل ہوں گے۔

سندھ حکومت نے ان اداروں کو خطوط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ وہ گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے افسران نامزد کریں، تاکہ مشترکہ ٹیم مختلف پہلوؤں سے کیس کی تحقیقات کرسکے۔دوسری جانب سندھ حکومت نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسر کی سربراہی میں ایک الگ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی ہے۔

اس مقصد کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو خط ارسال کرکے سینئر افسر نامزد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ مجوزہ کمیٹی میں ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا تعین کرنے کے لیے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک پر مشتمل ایک رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ اس کمیٹی کی معاونت کریں گے۔کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات کی روشنی میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، کارکردگی اور مجموعی پولیسنگ کا جائزہ لے۔ اس کے علاوہ جائے وقوع کو جلائے جانے کے معاملے میں انسپکٹر غوث کے کردار کی مزید تحقیقات بھی کی جائیں گی۔

کمیٹی اپنی تحقیقات مکمل کرکے ہر متعلقہ افسر اور اہلکار کے حوالے سے نتائج اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید کارروائی کا تعین کیا جاسکے گا۔محکمہ داخلہ سندھ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر آئی جی سندھ کو خط ارسال کردیا ہے۔

خط کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات اور صوبائی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات بھی بھجوائی گئی ہیں، تاکہ متعلقہ افسران کے کردار کا جائزہ لے کر قواعد و ضوابط کے مطابق اقدامات کیے جاسکیں۔رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش اور متعلقہ اہلکاروں کے کردار کے حوالے سے سامنے آنے والے نکات پر مزید غور کرنے کی ضرورت ظاہر کی گئی تھی۔

سندھ حکومت نے ان مشاہدات کی روشنی میں متعلقہ پولیس حکام کو اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق مختلف پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی، معطلی اور مزید تحقیقات سے متعلق سفارشات بھی زیر غور ہیں۔ تاہم ہر افسر کے خلاف حتمی کارروائی کا انحصار متعلقہ تحقیقات، دستیاب شواہد اور مجاز حکام کے فیصلوں پر ہوگا۔

میر رضا علی کے پوسٹ مارٹم اور میڈیکو لیگل امور سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات کی روشنی میں محکمہ داخلہ سندھ نے سیکریٹری صحت کو بھی خط ارسال کیا ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانے اور دو سالہ تربیت فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے اس معاملے پر محکمہ صحت کو آگاہ کیا گیا ہے، تاکہ متعلقہ سفارشات کا جائزہ لے کر ضروری کارروائی کی جاسکے۔ واضح رہے کہ میر رضا علی قتل کیس کا مقدمہ کراچی کے تھانہ فیروز آباد میں درج ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق 25 سالہ تاجر میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوئے تھے، جبکہ دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

اہل خانہ نے واقعے کو اغوا کے بعد تشدد کرکے قتل کیے جانے کا معاملہ قرار دیتے ہوئے ابتدائی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔خاندان کے تحفظات کے بعد عدالت کے حکم پر لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ بعدازاں سندھ حکومت نے عدالتی کمیشن قائم کیا، جس نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ کمیشن کی سفارشات سامنے آنے کے بعد حکومت سندھ نے معاملے کی مزید تحقیقات اور ذمہ داران کے کردار کا تعین کرنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے قائم کردہ جے آئی ٹی، مجوزہ ایف آئی اے کمیٹی اور پولیس افسران کے کردار کا جائزہ لینے والی کمیٹی کی کارروائی آئندہ تحقیقات اور سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے اہم ہوگی۔ حکومتی اقدامات کا حتمی نتیجہ متعلقہ کمیٹیوں کی رپورٹس اور مجاز حکام کے فیصلوں کے بعد سامنے آئے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں