میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
وزیر اعظم مریم نواز ؟

وزیر اعظم مریم نواز ؟

جرات ڈیسک
هفته, ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

اس حقیقت سے کون انکار کرے گاکہ موجودہ وقت میں پاکستان کی سیاست میں عوام کی نمائندہ حکومت کا راستہ تقریباً بند ہوچکا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے عوام کے بجائے طاقت ور حلقوں سے معاملات طے کرکے کامیابی حاصل کرتی ہیں،اب یہ تبصرہ کیا جاتاہے کہ اقتدار کے لیے مقبولیت نہیں قبولیت ضروری ہے۔ 26 ویں اور27ویں ترمیم کے بعد پارلیمنٹ اور عدلیہ پر انتظامیہ غالب ہے فروری 2024کے انتخابات کے بعد انتخابی عمل کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ہے جس کے بارے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بار بار کہتے ہیں،یہ نظام زر اور زور کی بنیاد پر قائم ہے۔ اب ملک میں 28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جس کے ذریعے صوبوں کے مالی اور انتظامی اختیارات میں تبدیلی کاامکان ہے ۔ہوسکتا اس عمل کے دوران معاملات طے کرتے وقت نئے وزیر اعظم کا نام بھی سامنے آجائے ۔

حال ہی میں صوبہ پختون خواہ میں گورنر راج کے نفاذ کے چند روز بعد ایک سروے سامنے آیا ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ 98فیصد عوام کی خواہش ہے کہ مریم نواز پاکستان کی وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوں ۔غالب امکان ہے کہ یہ سروے مستند یا معیاری نہیں ہوگا۔ شاید یہ فرمائشی سروے بھی ہوسکتاہے لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ مریم نواز کو وزیر اعظم بنانے کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اگر عالمی اور قومی سطح پر مریم نواز کو قبولیت مل جاتی ہے تو ایسی صورت میں مریم نواز وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوسکتی ہیں۔ ایک مرتبہ یہ عہدہ حاصل کرنے کے بعد اس قبولیت کے برقرار رکھنے میں کامیابی کے ذریعے وہ طویل مدت تک وزارت عظمٰی کے عہدے پر برقرار رہ سکتی ہے ۔یہ مدت پندرہ سال تک بھی جاسکتی ہے جو ایک ریکارڈ ہوگا۔ ان کے لیے بظاہر حالات سازگار ہیں۔ صوبہ پختون خواہ میں گورنر راج کے بعد حکمران طبقات اور برسراقتدا مسلم لیگ ن کو پی ٹی آئی سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔اگر مزید کوئی چیلنج سامنے آیا تو پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ عمران خان پہلے ہی اپنی زندگی کے جیل میں خاتمے کا اندیشہ ظاہر کرچکے ہیں۔ وہ اپنی بہن کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں بتا چکے ہیں کہ انہیں جیل میں ماردیا جائے گا۔ اس وقت عمران خان کی تینوں بہنیں قید میں ہیں۔

پختون خواہ میں گورنر راج کے نفاذ کے بعدصوبے کی تمام سڑکوں گلیوں سے پی ٹی آئی کے جھنڈے ،بینر ،پوسٹراتارنے اور پیننٹ کیے ہوئے پی ٹی آئی کے نشانات مٹانے کا عمل جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ مستقبل میں صوبہ پختون خواہ پر مسلم لیگ ن کی حکمرانی ہوگی ۔مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا ء للہ بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ چھ ماہ کی مدت میں مسلم لیگ اپنا وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ میں لے آئے گی۔

اپریل 2022میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جس طرح کا موجودہ نظام ملک میں رائج ہے، اس میں اقتدار اسی سیاسی جماعت کے حوالے کیا جائے گا جو عالمی اور قومی سطح پر قبولیت حاصل کرلے گا ۔آنے والے انتخابات میں اگر موجودہ طریقہ کار برقرار رہا توبعض سیاسی رہنماؤں اور مبصرین کے مطابق آئندہ انتخابات میں مریم نواز کے حامی امیدواروں کے دو سو ووٹ بھی دولاکھ ووٹ میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ فروری2024کے انتخابی نتائج کے بعد ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی مسلسل الزام عائد کر رہے ہیں کہ یہ حکومت جعلی فارم 47پر قائم کی گئی ہے اور وہ اسے جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ اسی طرح جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی موجودہ نظام کو جعلی کہنا شروع کردیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے ہی فروری 2024کے انتخابات کو جعلی قرار دیا تھابین الاقوامی میڈیا نے بھی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی خبریں شائع اور نشر کی تھیں۔ مولانا فضل الرحمان نے صوبہ پختون خواہ میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی نے انہیں ثالث تسلیم کرلیاتھا اور لانگ مارچ ختم کرنے اور عمران خان کے علاج اور ملاقاتوں کے سلسلے میں حکومت اور پی ٹی آئی سے بات طے ہوگئی تھی ،وزیر اعظم بھی راضی تھے لیکن اچانک اسحٰق ڈار نے ان کو فون پر بتایا کہ گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔مولانا کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ہنگامی حالات کا نفاذ بنیا دی طو پرپختون خواہ میں معدنیات کے حصول کے لیے کیا گیا ہے۔ مولانا کے بیانات پر مریم نواز سمیت حکومت کے وزراء کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

مولانا پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ صوبہ پختون خواہ میں اپنا گورنر لانا چاہتے تھے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ جب انہیں حصہ نہیں ملاتو وہ حکومت پر سخت تنقید کرنے لگے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سیاسی قوتیں انتہائی کمزور ہیں۔ عمومی طور پر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ بر سر اقتدار جماعتیں مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی عوامی حمایت بڑی حد تک کم ہوگئی ہے ۔یہی دجہ ہے کہ ملک کے مقتدر حلقے سیاسی جماعتوں پر غلبہ حاصل کرچکے ہیں ۔بر سراقتدار سیاسی جماعتیں سب کچھ تسلیم کرنے کو اس لیے بھی تیار ہیں کہ عوام میں ان کی پذیرائی نہیں ہے ۔نئی آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے مالی اختیارات کم ہوجائیں گے ۔نئے صوبوں کے قیام کی راہ ہموار ہوجائے گی۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کراچی اور گوادر کوفاق کی تحویل میں دے دیا جائیگا۔ مریم نواز وزیر اعظم کا عہدہ قبول کرکے اس فارمولے کو تسلیم کر سکتی ہیں۔ نوازشریف بھی مسلم لیگ کو اس مقصد کے لیے تیار کرسکتے ہیں۔قومی اور عالمی طاقتور قوتوں کی سرپرستی کی صورت میں مریم نواز وزیراعظم کے عہدے تک آسانی سے پہنچ سکتی ہیں۔بحیثیت وزیر اعظم تمام قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے معدنی ذخائرکی دریافت اور اس کی عالمی منڈی میں فروخت کے نظام کی نگرانی بھی کر سکتی ہیں۔ بعض قیمتی معدنی ذخائر کی دریافت اور اس کی فروخت کے عمل میں کئی سال درکار ہونگے۔ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عام لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ ملے گا بھی یا نہیں ملے گا۔

اہم ترین مسئلہ پاکستان کے عوام کی موجودہ نظام سے دوری ہے۔ عوام اس نظام کو تسلیم کرنے کو تیا ر نہیں ہیں۔ عمران خان جیل میں رہ کر مزید مقبول ہورہے ہیں۔بر سر اقتدار قوتوں کی جانب سے پی ٹی آئی میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کے باوجود اس کی مقبولیت میں کمی نہیں ہوسکی۔ غربت ،مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان عوام میں روز بروز عمران خان کے لیے ہمدردی پیدا ہورہی ہے۔ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کے نتیجے لوگ بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کرسکتے ہیں، لیکن پاکستان کی طاقتور انتظامی مشینری نے حالات کو قابو کر رکھاہے ۔پاکستان میں نومبر کامہینہ ہنگامہ خیز اور بڑی تبدیلیوں کاباعث ہوگا ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں