ملکی معاملات میں مودی کی ڈھیلی پڑ تی گرفت
شیئر کریں
جی ہاں، حالیہ بین الاقوامی اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملکی معاملات پر نریندر مودی کی آہنی گرفت واضح طور پر ڈھیلی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اکتوبر 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس، بشمول امریکی اخبار The Washington Post کی رپورٹ، یہ واضح کرتی ہیں کہ مودی حکومت کو اس وقت اپنی تاریخ کے شدید ترین عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے ،اس گرفت کے کمزور ہونے کی چند اہم ترین وجوہات میں نوجوانوں کا "کاکروچ” (CJP) احتجاج بھی شامل ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت کی انتخابی فہرستوں (Voter Lists) میں کی جانے والی تبدیلیوں اور 130 ملین سے زائد ناموں کے مبینہ اخراج کے خلاف نوجوانوں نے ملک گیر احتجاج شروع کر رکھا ہے۔ خود کو طنزیہ طور پر "کاکروچ” کہنے والے اس نوجوان طبقے کی تحریک نے مودی سرکار کو شدید دباؤ میں لے رکھا ہے۔ اس سے قبل پیپرز لیک ہونے کے معاملے پر بھی اسی عوامی دباؤ کی وجہ سے مودی کے وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا بڑھتا ہوا اتحاد بھی مودی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعتیں ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کے خلاف متحد ہو کر سپریم کورٹ کا رخ کر چکی ہیں اور سڑکوں پر مودی کی ناقابلِ شکست تصویر کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں،مودی حکومت کو اس وقت بڑھتی ہوئی بے روزگاری، افراطِ زر (مہنگائی)، اور بھارتی روپے پر مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے تجارتی ٹیرف اور پابندیوں کے خطرات نے مودی کی اقتصادی پالیسیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حکومت کی روایتی فیصلہ کن تصویر اب دھندلا رہی ہے اور مودی کی اپنی اتحادی جماعتیں بھی مختلف ملکی اور علاقائی معاملات پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر رہی ہیں۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی جو گزشتہ 12 سال سے زائد عرصے سے حکومت کر رہے ہیں، اب وہ سیاسی طور پر کمزور پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں اور ان کا وہ یکطرفہ دباؤ اب ختم ہوتا جا رہا ہے جہاں ان کے ہر فیصلے کو بلا چوں و چراں قبول کر لیا جاتا تھا۔بھارت میں جین زی (Gen Z یعنی نوجوان نسل) اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کا معاملہ اس وقت بین الاقوامی میڈیا اور ملکی سیاست کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ احتجاج بھارتی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر (گیانیش کمار) کے خلاف ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل اور ترامیم کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ناقدین اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ووٹر لسٹوں سے 10 سے 13 کروڑ کے قریب ووٹروں کے نام خارج کیے گئے ہیں، جس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ فہرستوں سے صرف فوت شدہ یا نقل مکانی کرنے والے افراد کے نام ہٹائے گئے ہیں۔ نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں نوجوانوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید مظاہرے کیے گئے، جنہیں روکنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے اور سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ، دی فنانشل ٹائمز، دی نیویارکر، اور دی اکنامسٹ جیسے بین الاقوامی اداروں نے اس تحریک کو مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج قرار دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی احتجاج کرنے والوں اور صحافیوں کے خلاف پولیس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ مودی کی آہنی گرفت اب ڈھیلی پڑرہی ہے، نوجوانوں نے سب سے بڑا طوفان کھڑا کر دیا، مودی کی ناقابلِ شکست تصویر دھندلارہی ہے۔دی نیویارکر نے چھاپا کہ 10 کروڑ ووٹر غائب اور اب احتجاج پر کریک ڈاؤن،کیا یہ جمہوریت کا خاتمہ ہے؟اس کے علاوہ فنانشل ٹائمز نے کہا ہے کہ مودی چاہے جتنا چاہیں دبائیں، نوجوان اب چپ نہیں رہیں گے۔دی اکنامسٹ نے تبصرہ کیا کہ 12 سال کے بعد مودی کو جین زی نے آڑے ہاتھوں لے لیا اور وہ مودی کی چالوں سے بالکل متاثر نہیں ہوتے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پولیس مظاہرین کو پیٹ رہی ہے، گاڑیوں میں ٹھونس رہی ہے، صحافیوں کو اٹھا رہی ہے،یہ جمہوریت کی ماں ہے یا کچھ اور؟ علاوہ ازیں ٹائم میگزین نے لکھا کہ بھارت میں انتخابی شفافیت پر گہرا سایہ ہے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کریک ڈاؤن میں سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔سکیورٹی فورسز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا۔یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ووٹر لسٹوں میں کی گئی ان ترامیم کے خلاف کیا جارہا تھا جن کے حوالے سے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


