آپ کے مسائل اور اُن کا حل
شیئر کریں
مفتی محمد وقاص رفیع
۔۔۔۔
قسم کے کفارے میں مدرسے کو دس طلبہ کے دو وقت کے کھانے کا خرچ دینا
سوال:مجھ پر قسم کا کفارہ لازم ہے۔ ہمارے گاؤں کے مدرسے میں بورڈنگ ہے، میں ایک دن کے لیے دس طلبہ کے دونوں وقت کے کھانے کا خرچ مدرسے کو دینا چاہتا ہوں۔ کیا اس سے کفارہ ادا ہوجائے گا؟
جواب: قسم کے کفارے میں دس مساکین کو ایک دن دونوں وقت (صبح و شام) پیٹ بھر کر کھانا کھلانا درست ہے، اور یہ کھانا خود کھلانے کے بجائے کسی دوسرے کو وکیل بنا کر کھلوانا بھی جائز ہے،لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں سائل مدرسے کے ذمہ داران کو یہ بتا کر رقم دے کہ یہ قسم کے کفارے کی رقم ہے اور اس سے دس طلبہ کو ایک دن کے دونوں وقت کا کھانا کھلانا ہے، اور ذمہ داران درج ذیل طریقے کے مطابق کھلا دیں، تو کفارہ ادا ہوجائے گا:
1۔ یہ دس طلبہ مسکین ہوں، مالدار نہ ہوں۔
2۔ جن دس طلبہ کو صبح کا کھانا کھلایا جائے، شام کا کھانا بھی انہی کو کھلایا جائے۔ اگر شام کا کھانا دوسرے طلبہ کو کھلایا گیا تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
3۔ دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلایا جائے۔
پس مدرسہ کے ذمہ دار کے لیے مذکورہ رقم بورڈنگ کے عمومی خرچ میں شامل کرنے اور متعین دس طلبہ کو کفارے کی نیت سے دونوں وقت کھانا نہ کھلانے کی شرعا اجازت نہیں ہوگی، اگر ذمہ دار نے کفارہ کی رقم مصالح مدرسہ میں استعمال کرلی، تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
غریب بھائی کو زکوٰۃ کی رقم دینا:
سوال: مفتی صاحب ایک مسئلہ کسی ساتھی نے پوچھا ہے کہ اس نے کچھ زکوۃ دینی ہے اور زکوۃ کی کچھ اماونٹ اُس کے پاس پڑی ہوئی ہے۔ لیکن وہ یہ کہتا ہے اس کا بڑا بھائی ہے وہ گورنمنٹ جاب کرتا ہے اور وہ ابھی کوئٹہ سے واہ کینٹ اسلام اباد ٹرانسفر ہو گیا ہے کوئی تین چار مہینے ہو گئے ہیں، تو وہاں اس کو رینٹ وغیرہ کے بڑے مسئلے ہو گئے ہیں مطلب کچھ سختیاں آ گئی ہیں اس پر، تو ابھی وہ کوئٹہ آیا ہوا تھا عید کی وجہ سے اور ابھی اس نے واپس بھی جانا ہے اب وہاں پر اس کا کرایہ بھی آیا ہوا ہے اور اُس نے بجلی وغیرہ کے بل بھی ادا کرنے ہیں۔ اب اس معاملے میں اس کے حالات بہت ٹائٹ ہوئے ہیں کچھ مہینوں سے تو سوال یہ تھا کہ وہ لڑکا کہہ رہا تھا کہ کیا میں اپنے بھائی کو زکوۃ میں سے کچھ اماؤنٹ دے سکتا ہوں جب کہ اس کی جاب بھی ہے لیکن اس کے حالات کچھ زیادہ ہی سخت ہیں کچھ مہینوں سے تو اس بارے میں تھوڑی رہنمائی فرما دیں۔
جواب: اگر آپ کے بھائی صاحب نصاب نہیں ہیں یعنی اُن کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد مالیت نہیں ہے تو آپ زکوٰۃ کی رقم سے ان کی معاونت کرسکتے ہیں۔واللہ اعلم
نچلے ہونٹ کے نیچے کے بال کاٹنے کا حکم:
سوال: ریش بچہ یعنی نچلے ہونٹ کے نیچے جو ڈاڑھی کے بال ہوتے ہیں ان کو کاٹنے کا کیا حکم ہے؟ آیا وہ داڑھی کے حکم میں ہیں یا نہیں؟ اور انہیں بالکل صاف کرنا درست ہے یا نہیں؟ (اعزاز علی حیدر آباد)
جواب: نچلے ہونٹ سے متصل تھوڑی کے اوپر کے بال اور اس کے دائیں بائیں کا حصہ، جسے عرف میں ”ریش بچہ”یا ”داڑھی بچہ” کہا جاتا ہے، یہ بال بھی داڑھی کا حصہ ہونے کی وجہ سے ڈاڑھی کے حکم میں ہیں، لہٰذا ان کا رکھنا واجب ہے اور ان کو منڈوانا، کاٹنا، ترشوانایانوچنا بدعت و خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، اس لیے اس کے کاٹنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، البتہ دونوں ہونٹوں کے قریب دونوں کناروں سے بال ختم کرنا؛ تاکہ کھانا کھاتے وقت منہ میں نہ جائیں،درست اور جائز ہے۔ فقط: واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
بیوہ کی عدت اسلامی مہینوں کے اعتبار سے شمار ہو گی یا عام دنوں کے اعتبار سے؟
سوال:مفتی صاحب آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ اب اسلامی تاریخ میں جیسے کوئی مہینہ اُنتیس کا ہوتا ہے کوئی تیس کا، تو اسے پورا ایک ایک مہینہ شمار کریں گے یا گنتی کے ساتھ ایک سو تیس دن پورے کریں گے تب عدت ختم ہوگی؟
جواب: اگرکسی عورت کے شوہر کا انتقال قمری (اسلامی) مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ میں ہوا تواس صورت میں عورت کی عدت چاند کے مہینوں کے اعتبار سے چار ماہ دس دن پوری کرنا لازم ہوگی، خواہ کوئی مہینہ انتیس کا ہی کیوں نہ ہو۔اور اگر شوہر کا انتقال مہینے کے درمیان میں ہوا ہو تو کل ایک سو تیس دن شمار کرکے عدت گزارنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
غریب زمین دار کو صدقہ زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم:
سوال: ایک آدمی کسی غریب شخص کو صدقہ زکوٰۃ کی رقم دینا چاہتا ہے لیکن اُس کی ملکیت میں ایک قیمتی زمین ہے جس سے وہ غلہ اناج حاصل کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے اور اُس سے اُس کو مزید کوئی بچت حاصل نہیں ہوتی تو کیا اُس شخص کو صدقہ زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتے ہیں؟ (مولانا محمد جمال حسن ابدال)
جواب: زمین چوں کہ اُس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہے اِس لیے ایسے شخص کو صدقہ زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتے ہیں۔
عشاء پڑھانے والے امام کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کرنے والے شخص کی نماز کا حکم
سوال: یہ مسئلہ ہے کہ دومسافر تھے ایک امام بن گیا اور ایک ان کے مقتدی، ایک نے مغرب کی نماز ادا کرنی تھی اور دوسرے نے عشاء کی، تو نماز کی دونوں نے نیت باندھ لی، اب امام عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے اور مقتدی اُن کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے، امام نے دو رکعت ادا کرنی تھیں، انہوں نے دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا اورمقتدی نے اپنی ایک رکعت بعد میں اکیلے ادا کرلی،تو اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مقتدی کی نماز ہو گئی ہے۔ جزاک اللہ خیرا سائل:محمد عاصم کہوٹہ
جواب: مقتدی کی نماز امام کے پیچھے نہیں ہوئی۔ کیوں کہ امام اور مقتدی کی نماز میں نیت کی موافقت ضروری ہے۔ جب امام عشاء کی نماز پڑھا رہاتھا اور مقتدی اُس کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کر رہا تھا تو امام اور مقتدی دونوں کی باہمی نیت میں موافقت نہ ہونے کی وجہ سے مقتدی
کی نماز امام کے پیچھے ادا نہیں ہوئی، لہٰذا مقتدی کو اپنی نماز لوٹانی پڑے گی۔ واللہ اعلم
بیوی کی آزادی مانگنے پر ہاں کا لفظ کہنے پر طلاق کا حکم:
سوال: مفتی صاحب میں نے آپ سے صبح بات کی تھی کہ میری اور میری بیوی کی کال پر لڑائی ہوگئی تھی، ہماری بحث مسلسل چلتی رہی، اِس پر میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم کیا چاہتی ہوکہ میں تمہیں آزاد کردوں؟ اُس نے کہا ہاں، تو میں نے کہا ٹھیک ہے اور کال رکھ دی۔ اب مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا ہوا ہے اور کیا نہیں ہوا۔ برائے کرم میری راہ نُمائی فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب: ایسی صورت پر آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ آپ دونوں حسب دستور آپس میں میاں بیوی ہی ہیں۔ واللہ اعلم


