میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، تعمیراتی لاقانونیت پر علاقہ مکین پریشان، کارروائی کامطالبہ

سندھ بلڈنگ، تعمیراتی لاقانونیت پر علاقہ مکین پریشان، کارروائی کامطالبہ

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

لیاقت آباد نمبر 3میں پلاٹ 590اور 593 کی بوسیدہ عمارتوں پر چھٹی منزلیں تعمیر

غیر قانونی تعمیرات پر ضیاء کالا کے کردار کے حوالے سے الزامات، تعمیراتی ضوابط نظرانداز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیاقت آباد نمبر 3 میں پلاٹ نمبر 590 اور 593 پر مبینہ طور پر چھٹی منزلوں کی تعمیر کے معاملے نے ایک بار پھر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی اور تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

علاقے میں پہلے سے موجود متعدد منزلہ عمارتوں پر مزید تعمیرات کی اطلاعات کے بعد مکینوں نے متعلقہ حکام سے فوری مداخلت اور موقع پر معائنے کا مطالبہ کیا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق گنجان آباد علاقے کی تنگ گلیوں میں واقع پرانی عمارتوں پر اضافی منزلوں کی تعمیر نہ صرف عمارتوں کی ساختی مضبوطی بلکہ ہنگامی صورت حال میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی عمارت پر مزید منزل تعمیر کرنے سے قبل اس کی بنیادوں، ستونوں اور مجموعی ساخت کی تکنیکی جانچ ضروری ہے تاکہ رہائشیوں اور اطراف میں موجود آبادی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے ۔دوسری جانب ضیاء کالا کے مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث غیر قانونی تعمیرات میں تیزی آنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

متعلقہ ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد کی مبینہ چشم پوشی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے ۔ شفافیت کے تقاضوں کے تحت ضروری ہے کہ تمام الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور متعلقہ حکام کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے ۔

علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس بی سی اے کی متعلقہ ٹیم فوری طور پر پلاٹ نمبر 590 اور 593 کا معائنہ کرے ، تعمیرات کے منظور شدہ نقشوں اور اجازت ناموں کی جانچ کی جائے اور اضافی منزلوں کی قانونی حیثیت واضح کی جائے ۔ شہریوں کے مطابق عمارتوں کی ساختی مضبوطی کا مستند تکنیکی جائزہ بھی لیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آیا موجودہ عمارتیں مزید منزلوں کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات میں قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے بروقت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ معائنے اور کارروائی کے نتائج سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ علاقے میں پائی جانے والی تشویش کا ازالہ ہوسکے۔ لیاقت آباد کے رہائشیوں کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ حکام کسی ممکنہ حادثے سے پہلے حرکت میں آتے ہیں یا نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں