سندھ بلڈنگ میں مشکوک تبادلوں کا کھیل بے نقاب
شیئر کریں
تعیناتی کے فوراً بعد ایڈمن ٹرانسفر سے شکوک بڑھ گئے، غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی برقرار
پی ای سی ایچ ایس میں اورنگزیب کی منتقلی پر سوالات، آصف شیخ سسٹم پھر تنقید کی زد میں
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا عمل ایک بار پھر متنازع شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں ایڈمن ٹرانسفرز کو محض نمائشی اقدامات قرار دیا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مختلف افسران کو بظاہر تبدیل کر کے اصلاحات کا تاثر دیا جا رہا ہے ، مگر عملی طور پر خلاف ضابطہ تعمیرات کی نگرانی اور مبینہ سرپرستی کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق آصف شیخ کے رائج کردہ نظام کے تحت پی ای سی ایچ ایس سمیت مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہری پہلے ہی تشویش کا شکار تھے ۔ اب بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی ایڈمن ٹرانسفر نے مزید سوالات کو جنم دے دیا ہے کہ آیا یہ اقدام حقیقی اصلاح ہے یا محض عوامی دباؤ کم کرنے کی ایک اور کوشش۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے تبادلوں کے اعلانات سامنے آتے رہے ، لیکن زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور غیر قانونی تعمیرات بلا روک ٹوک جاری رہیں۔ شہری حلقوں کے مطابق اگر یہی روش برقرار رہی تو ایڈمن ٹرانسفرز محض کاغذی کارروائی ثابت ہوں گے ۔دوسری جانب ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے ،کیونکہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 پلاٹ 40K , 40M پر جاری خلاف ضابطہ تعمیرات کے خلاف عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے ۔شہریوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ نمائشی تبادلوں کے بجائے غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کار افسران کے خلاف شفاف اور مؤثر کارروائی کی جائے ، تاکہ شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے ۔


