میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ کی جامعات اور چینی یونیورسٹیوں کے درمیان تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

سندھ کی جامعات اور چینی یونیورسٹیوں کے درمیان تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

وزیراعلیٰ کا سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کا دورہ، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے

مشترکہ تحقیق اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی تجاویز

سندھ میں 60 سے زائد جامعات اور تکنیکی تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں، مراد علی شاہ

……………………………….

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی جامعات اور چین کی سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے درمیان تعلیمی و ثقافتی روابط کو وسعت دینے، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیم قوموں کے درمیان ایک اہم پل ہے اور پاکستانی و چینی جامعات کے مضبوط روابط نوجوانوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے بہتر مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بات چین کے دورے کے دوران سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی آمد پر یونیورسٹی کی قیادت، اساتذہ اور متعلقہ حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں ڈیجیٹل خواندگی، فنی تربیت، تحقیقی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جب کہ چینی تعلیمی اداروں کے تجربات سے استفادہ کرکے صوبے کے تعلیمی نظام کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی چین کے دورے پر ہے، جس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن اور جام خان شورو، معاون خصوصی قاسم نوید، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری سرمایہ کاری راجہ خرم شہزاد اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن شامل ہیں۔

سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی پہنچنے پر وزیراعلیٰ سندھ کا یونیورسٹی کے ڈپٹی پریزیڈنٹ مسٹر لی اور فیکلٹی اراکین نے استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ڈیجیٹل تدریس اور تعلیم کے لیے قائم کلاس رومز کا دورہ کیا، جہاں انہیں ڈیجیٹل تعلیمی نظام، جدید تدریسی طریقوں اور تعلیمی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے یونیورسٹی کے نائب صدر پروفیسر پینگ شوانگ جی اور پارٹی کمیٹی کے سیکریٹری مسٹر شیا لی شِن سے ملاقات کی، جس میں سندھ اور چین کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے میزبان شخصیات کو اجرک اور سندھی ٹوپی کے تحائف بھی پیش کیے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی جامعات اور سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے درمیان وسیع تر تعلیمی روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے طلبہ کے تبادلے، اساتذہ کی تربیت، مشترکہ تحقیق اور جدید تعلیمی طریقوں کے فروغ پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی شراکت داری کو صرف کلاس رومز تک محدود رکھنے کے بجائے نوجوانوں کے درمیان دیرپا روابط قائم کرنے کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ دونوں ملکوں کی نئی نسل ایک دوسرے کی ثقافت، معاشرت اور تجربات کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی اور اسمارٹ سٹیز کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار ترقی موجودہ دور کے اہم چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی اشتراک ناگزیر ہے۔ پاکستانی اور چینی جامعات مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے ذریعے ان مسائل کے حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ تعلیم، تحقیق اور تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ یونیورسٹی کا تجربہ سندھ کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے، تدریسی معیار بہتر کرنے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں 60 سے زائد جامعات اور تکنیکی تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں، جہاں سے ہر سال دو لاکھ سے زائد طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ نوجوان سندھ کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور وہ صلاحیتوں، عزم اور محنت کے ذریعے صوبے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم، فنی مہارتوں اور عالمی سطح پر دستیاب تعلیمی مواقع سے مستفید کرنے کے لیے بین الاقوامی جامعات کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے چینی زبان کی تعلیم کے فروغ پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے تعلیمی اداروں اور سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے درمیان چینی زبان کی تدریس کے حوالے سے تعاون بڑھانے سے طلبہ کو اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ مؤثر رابطے میں مدد ملے گی۔ زبان سے واقفیت نہ صرف تعلیمی تبادلے کو آسان بنائے گی بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان باہمی تفہیم اور دوستی کو بھی فروغ دے گی۔

انہوں نے سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے اساتذہ کی تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبوں میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ طویل علمی تاریخ اور اساتذہ کی تربیت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یونیورسٹی کی تاریخ 1903ء سے شروع ہوتی ہے، جب کہ اس کے تجربات سے سندھ کے تعلیمی ادارے مختلف شعبوں میں استفادہ کرسکتے ہیں۔

یونیورسٹی کی قیادت نے وزیراعلیٰ سندھ کو ادارے کے تعلیمی پروگراموں، تحقیقی سرگرمیوں اور عالمی شراکت داریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی میں 30 ہزار سے زائد طلبہ اور تقریباً 2,500 اساتذہ ہیں، جب کہ اس کے 25 اسکول اور شعبے بیچلرز، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر تعلیمی پروگرام پیش کرتے ہیں۔

یونیورسٹی تعلیم، سماجی علوم، چینی زبان و ادب اور نفسیات کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت اور تعلیمی ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی تحقیق اور تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ عالمی سطح پر سوچنے اور مقامی سطح پر مؤثر انداز میں کام کرنے والے نوجوان رہنماؤں کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ان کے مطابق سندھ اور چین کے تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری نوجوانوں کو نئے خیالات، تحقیقی تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ جدت، خوشحالی اور امن پر مبنی مستقبل کی بنیاد مضبوط کرسکتی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے یونیورسٹی کے صدر ڑاؤ لِنگ یون، اساتذہ اور طلبہ کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور ماہرین تعلیم کو سندھ کے دورے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں چینی تعلیمی وفود کا خیرمقدم کیا جائے گا اور دونوں جانب کے تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون، اعتماد اور مشترکہ مقاصد کے فروغ کے لیے روابط جاری رہنے چاہییں۔

دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے یونیورسٹی میں زیرتعلیم پاکستانی طلبہ و طالبات سے بھی ملاقات کی اور انہیں محنت، لگن اور تعلیمی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پاکستان کے سفیر ہیں اور ان کی کامیابی دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

مراد علی شاہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سندھ اور چین کے صوبے ہوبئی کے درمیان تعاون کو نئی جہت ملے گی اور دونوں جانب کے تعلیمی ادارے مشترکہ خوابوں اور باہمی اعتماد کے تحت آگے بڑھیں گے۔ ان کے مطابق سندھ اور سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی شراکت داری سے نوجوانوں کو ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور پاکستان و چین کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں