گورنر راج لگانے کیلئے زیادہ پھرتیاں پیپلز پارٹی کی نظر آرہی ہیں، شوکت یوسفزئی
شیئر کریں
صوبے میں غیر اعلانی گورنر راج کسی صورت قبول نہیں، وزرا اور ممبران اسمبلی کی اپنے صوبے میں گرفتاریوں پر تشویش ہے، رہنما پی ٹی آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی جمہوری پارٹی نہیں رہی، گورنر راج لگانے کے لیے زیادہ پھرتیاں پیپلز پارٹی کی نظر آرہی ہیں۔لانگ مارچ سے متعلق اپنے پیغام میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور دیگر مطالبات تسلیم ہونے تک مارچ جاری رہے گا، صوبے میں غیر اعلانی گورنر راج کسی صورت قبول نہیں، وزرا اور ممبران اسمبلی کی اپنے صوبے میں گرفتاریوں پر تشویش ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ رواں سال بجٹ میں پولیس کے لیے 191 ارب روپے رکھے گئے ہیں، کے پی بجٹ میں پولیس کا حصہ 7.8 فیصد ہے، پنجاب میں صرف 3.9 فیصد ہے، مالی مشکلات کے باوجود پولیس کی 3550 اسامیوں کی منظوری دی گئی، گزشتہ سال بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، صوبائی حکومت دہشت گردی کیخلاف جنگ میں رکاوٹ نہیں ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے تمام اسٹیک ہولڈرز کیساتھ بیٹھ کر متفقہ پالیسی بنے، صوبائی حکومت دہشت گردی کیخلاف متفقہ پالیسی پر عمل درآمد کیلئے تیار ہے، جنید اکبرخان کہہ چکے ہیں کہ متفقہ پالیسی پر عمل درآمد کروائیں گے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کو پی ٹی ائی کے ساتھ مسئلہ ہے تو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ جائے، حکومت اور پی ٹی آئی میں ثالثی کا پوری طرح علم نہیں، سنا ہے مولانا فضل الرحمان سے ثالثی کے لیے رابطہ کیا گیا ہے، مولانا ثالثی کے لیے آتے ہیں تو خیر مقدم کریں گے۔


