جب تاریخ نے طاقت کا مقدمہ چلایا!
شیئر کریں
بیسویں صدی نے انسانی تاریخ کے سامنے ایک ایسا منظر کھولا جس کے بعد شاید انسان کو اپنے بارے میں ہمیشہ شرمندہ رہنا چاہیے تھا۔
نازی جرمنی۔یہاں برائی کسی جنگل سے نہیں آئی تھی۔ وہ یونیورسٹیوں، وزارتوں، عدالتوں، ریلوے اسٹیشنوں، اخبارات، کارخانوں،
لیبارٹریوں اور سرکاری دفاتر سے گزر کر آئی تھی۔ یہاں قتل کسی وحشی ہجوم کا بے قابو عمل نہیں رہا تھا؛ اسے ریاستی منصوبہ بندی، کاغذی
کارروائی، ٹرانسپورٹ، اعداد و شمار، انتظامیہ اور حکم کی زبان میں ڈھالا گیا۔ انسان پہلے شناختی نشان بنا، پھر نمبر بنا، پھر ریکارڈ بنا، پھر فہرست
بنا، اور آخر میں لاش بن گیا۔یہی جدید برائی کی سب سے خوفناک شکل ہے:جب انسان کو مارنے کے لیے نفرت کافی نہ رہے تو نظام اسے
ایک انتظامی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ہٹلر نے لاکھوں انسانوں کو اپنے ہاتھ سے قتل نہیں کیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک پورا نظام تھا-97افسر، جرنیل، جج،
پولیس، ڈاکٹر، صنعت کار، کلرک، ٹرین چلانے والے، ریکارڈ رکھنے والے اور وہ لوگ بھی جو سب کچھ دیکھتے ہوئے خاموش رہے۔ اسی لیے
ہولوکاسٹ ہمیں صرف ایک ڈکٹیٹر کی کہانی نہیں سناتا؛ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک معاشرہ کس طرح آہستہ آہستہ اپنی اخلاقی حساسیت کھو سکتا
ہے۔پہلے ایک انسان کو دوسرے سے کمتر کہا جاتا ہے۔پھر اسے اجنبی کہا جاتا ہے۔پھر خطرہ کہا جاتا ہے۔پھر دشمن کہا جاتا ہے۔پھر انسان
کہنا بند کر دیا جاتا ہے۔اور آخر میں اس کے قتل کو ‘‘ضروری’’ قرار دے دیا جاتا ہے۔یہ انسانی نفسیات کا وہ اندھا کنواں ہے جہاں سے
واپسی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔
20 نومبر 1945 کو نیورمبرگ میں انٹرنیشنل ملٹری ٹریبونل کی کارروائی شروع ہوئی۔ جنگ ختم ہو چکی تھی، برلن ملبے میں بدل چکا تھا،
نازی پرچم اتر چکا تھا اور وہ سلطنت جس نے خود کو ہزار سال تک قائم رہنے والی سمجھا تھا، چند برسوں میں تاریخ کا ملبہ بن چکی تھی۔ عدالت
کے سامنے بڑے نازی عہدیدار تھے اور دنیا پہلی مرتبہ اتنی واضح قانونی زبان میں یہ سوال پوچھ رہی تھی کہ کیا ریاست کے نام پر کیا گیا جرم
فرد کو بری کر دیتا ہے؟نیورمبرگ کا جواب تھا: نہیں۔ریاستی عہدہ بین الاقوامی جرم کی ذمہ داری سے انسان کو آزاد نہیں کرتا، اور محض ‘‘حکم کی
تعمیل’’ ہر حال میں دفاع نہیں بن سکتی۔ اقوامِ متحدہ کے انٹرنیشنل لاء کمیشن نے بعد میں نیورمبرگ کے انہی اصولوں کو بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی صورت میں مرتب کیا۔یہاں نیورمبرگ صرف عدالت نہیں رہا۔یہ تہذیب کے ضمیر کی عدالت بن گیا۔کیونکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی شدت سے یہ سوال سامنے آیا کہ اگر قانون خود جرم کا آلہ بن جائے تو قانون اور انصاف ایک ہی چیز کیسے رہ سکتے ہیں؟
سقراط کے زمانے سے یہ سوال انسان کے پیچھے چل رہا تھا: کیا صرف اس لیے کوئی کام درست ہو جاتا ہے کہ ریاست اسے درست قرار
دیتی ہے؟ نیورمبرگ نے صدیوں بعد اسی سوال کو خون سے لکھا۔اور پھر ایک خوفناک جملہ بار بار سامنے آیا:ہم نے صرف حکم مانا تھا۔یہ جملہ
شاید انسانی تاریخ کے سب سے خطرناک جملوں میں سے ایک ہے۔کیونکہ ‘‘میں صرف حکم مان رہا تھا’’ انسان کو اپنے ضمیر سے طلاق دے
دیتا ہے۔ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری کسی دوسرے کے حوالے کر دیتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کو کہتا ہے کہ میں ذمہ دار نہیں، حکم ذمہ دار ہے؛ اپنی زبان
کو کہتا ہے کہ میں نے فیصلہ نہیں کیا، مجھے بتایا گیا تھا؛ اپنے ضمیر کو کہتا ہے کہ میں صرف ملازم تھا۔مگر نیورمبرگ نے کہا کہ انسان اپنی اخلاقی
ذمہ داری مکمل طور پر کسی عہدے، وردی یا حکم کے حوالے نہیں کر سکتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہنّا آرنٹ کی بعد کی فکر خوفناک معنویت اختیار
کرتی ہے۔ آئخ مین کے مقدمے کو دیکھتے ہوئے آرنٹ نے اس سوال پر غور کیا کہ کیا برائی ہمیشہ کسی شیطان کی طرح آتی ہے؟ یا کبھی ایک
عام، فرمانبردار، دفتری ذہن بھی ایسی مشین کا پرزہ بن سکتا ہے جو انسانوں کو موت تک پہنچا رہی ہو؟برائی کبھی کبھی چیختی نہیں۔وہ فائل مکمل
کرتی ہے۔وہ دستخط کرتی ہے۔وہ مہر لگاتی ہے۔وہ حکم آگے بھیجتی ہے۔وہ کہتی ہے: ‘‘یہ میرا کام نہیں، میرا فرض ہے۔’’اور شاید یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں سب سے زیادہ خوفناک شخص ہمیشہ وہ نہیں جو خون سے ہاتھ رنگتا ہے؛ کبھی وہ شخص زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو خون کو صرف ایک انتظامی نتیجہ سمجھتا ہے۔
نیورمبرگ کے اصل مقدمے میں 22 بڑے نازی عہدیداروں پر مقدمہ چلا؛ 19 کو سزا ہوئی اور 3 بری ہوئے۔ 12 کو سزائے موت
سنائی گئی۔ اس کے بعد 1946 سے 1949 کے درمیان امریکی فوجی عدالتوں نے مزید 12 مقدمات چلائے، جن میں ڈاکٹر، جج، فوجی
افسر، صنعت کار اور دیگر اہلکار بھی شامل تھے۔یہ تفصیل معمولی نہیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ جرم صرف بندوق اٹھانے والے سپاہی کا نہیں
تھا۔جرم کبھی کبھی میز کے پیچھے بیٹھے اس شخص کا بھی تھا جو فیصلہ لکھتا ہے۔اس ڈاکٹر کا بھی تھا جو انسان کو تجربہ گاہ بنا دیتا ہے۔اس صنعت کار کا
بھی تھا جو جنگی مشین کو منافع میں بدل دیتا ہے۔اس جج کا بھی تھا جو انصاف کے نام پر ظلم کو قانونی شکل دیتا ہے۔اور اس معاشرے کا بھی
سوال بنتا ہے جو سب کچھ دیکھتے ہوئے خاموش رہتا ہے۔یہاں تاریخ ہمیں ایک اور تلخ سبق دیتی ہے:ظلم کو ہمیشہ لاکھوں ظالموں کی
ضرورت نہیں ہوتی؛ اسے کبھی کبھی صرف چند فیصلہ کرنے والے اور بہت سے خاموش لوگ کافی ہوتے ہیں۔پھر سوال پیدا ہوتا ہے: انسان
خاموش کیوں رہتا ہے؟نفسیات اس کا ایک جواب دیتی ہے: انسان اکیلا کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے۔ وہ گروہ سے الگ ہونے سے ڈرتا
ہے۔ وہ اپنی نوکری، عزت، خاندان، سماجی حیثیت اور مستقبل کھونے سے ڈرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ دوسرے خاموش ہیں، اس لیے وہ اپنی
خاموشی کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔یہی ‘‘معمول’’ ایک دن ظلم کی سب سے مضبوط دیوار بن جاتا ہے۔ظالم کی طاقت صرف اس کے ہاتھ میں
موجود ہتھیار سے نہیں آتی؛ کبھی کبھی اس طاقت کا ایک حصہ ان لوگوں کی خاموشی سے آتا ہے جو ہتھیار کے سامنے کھڑے ہونے کے بجائے
نظریں جھکا لیتے ہیں۔اسی لیے تاریخ میں آمریتیں صرف آمروں سے نہیں بنتیں۔وہ خوف، مصلحت، خاموشی، شخصیت پرستی اور اجتماعی خود
فریبی سے بنتی ہیں۔اور پھر ایک دن لوگ کہتے ہیں:ہمیں معلوم نہیں تھا۔ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ہم صرف حکم مان رہے تھے۔ہم صرف اپنی
زندگی بچا رہے تھے۔تاریخ ان جملوں کو سنتی ہے، مگر ہمیشہ معاف نہیں کرتی۔نیورمبرگ کی سب سے بڑی میراث پھانسی کے تختے نہیں تھے۔ اس کی اصل میراث یہ اصول تھا کہ انسان، ریاست سے پہلے بھی اخلاقی وجود رکھتا ہے؛ اور بین الاقوامی قانون کے تحت فرد بھی ذمہ
دار ہو سکتا ہے۔بعد میں 9 دسمبر 1948 کو اقوامِ متحدہ نے جینوسائڈ کنونشن( Genocide Convention) منظور کیا، جس نے نسل کشی کو بین الاقوامی قانون کے تحت جرم قرار دیا اور ریاستوں پر اسے روکنے اور سزا دینے کی ذمہ داری عائد کی۔لیکن تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ قانون بن جانے سے انسان فرشتہ نہیں بن جاتا۔نیورمبرگ کے بعد بھی قتل عام ہوئے۔جنگیں ہوئیں۔نسلیں اجاڑی گئیں۔
شہروں کو خاک کیا گیا۔آمریتیں قائم ہوئیں۔سیاسی مخالفین کو دبایا گیا۔اور طاقت نے بارہا خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے کی کوشش کی۔اس کا
مطلب نیورمبرگ کی شکست نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون انسان کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر انسان کو اس راستے پر چلنے کا فیصلہ خود کرنا
پڑتا ہے۔یہاں کامیو یاد آتا ہے: انسان کی اصل آزمائش شاید اس وقت شروع ہوتی ہے جب اسے معلوم ہو کہ دنیا میں کوئی آسمانی ضمانت
نہیں کہ انصاف ضرور جیتے گا، پھر بھی وہ انصاف کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کرے۔
پاکستان کی تاریخ کو اسی آئینے میں دیکھیں تو نیورمبرگ ہمارے لیے کسی ایک شخص، جماعت یا ادارے کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک سوال بن جاتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں آئینی بحران، فوجی مداخلتیں، غیر جمہوری ادوار، سیاسی انتقام، ادارہ جاتی کشمکش اور طاقت کے ارتکاز نے بارہا یہ سوال اٹھایا کہ ریاست میں اصل حاکم کون ہے: قانون یا طاقت؟1958 کا مارشل لا ہو، 1977 کا فوجی قبضہ ہو یا 1999 کا ایک اور فوجی اقتدار-97پاکستان کی تاریخ نے مختلف ادوار میں یہ تجربہ کیا کہ جب آئینی عمل کمزور ہوتا ہے تو طاقت صرف حکومت تبدیل نہیں کرتی، وہ پورے معاشرے کی سیاسی نفسیات بدل دیتی ہے۔ لوگ شخصیتوں کے وفادار ہونے لگتے ہیں، اصولوں کے نہیں؛ جماعتوں کے دفاع میں وہ کام بھی جائز سمجھنے لگتے ہیں جنہیں مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر ظلم کہتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں پکڑتی ہے۔
کیونکہ اگر ظلم صرف اس لیے درست سمجھا جائے کہ وہ ‘‘اپنوں’’ نے کیا ہے، تو ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔اگر قانون صرف مخالف کے
لیے قانون ہو اور اپنے لیے مصلحت، تو ہم نے نیورمبرگ کا مطلب نہیں سمجھا۔اگر شہری آزادی، آئین، انصاف اور انسانی وقار کی قیمت
جماعت، شخصیت، ادارے یا طاقت کے ترازو میں تولی جائے، تو پھر ریاست ایک اخلاقی معاہدہ نہیں رہتی؛ وہ طاقت کے مختلف گروہوں کا
میدان بن جاتی ہے۔اور میدان میں سب سے پہلے انسان مرتا ہے۔ہمیں تاریخ سے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ہٹلر کیوں پیدا ہوا۔ہمیں اس
سے زیادہ خطرناک سوال پوچھنا چاہیے:وہ معاشرہ کیسا تھا جس نے اسے طاقت تک پہنچنے دیا؟وہ لوگ کہاں تھے جنہوں نے ابتدا میں
خطرے کو معمول سمجھا؟وہ دانشور کہاں تھے؟وہ جج کہاں تھے؟وہ صحافی کہاں تھے؟وہ ادارے کہاں تھے؟اور وہ عام انسان کہاں تھا جس
نے سوچا تھا کہ یہ ظلم مجھ تک نہیں پہنچے گا؟
تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ ظلم ہمیشہ پہلے کسی دوسرے کے دروازے پر دستک دیتا ہے، اس لیے انسان اسے اپنا مسئلہ نہیں سمجھتا۔پھر وہ
دروازہ دروازہ چلتا ہوا آخرکار اس کے اپنے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔نیورمبرگ میں صرف نازی مجرم کٹہرے میں نہیں تھے۔کٹہرے میں ایک
پورا تصور کھڑا تھا:طاقت کیا انسان سے بڑی ہے؟عدالت نے جواب دیا:نہیں۔ریاست انسان سے بڑی نہیں۔عہدہ انسان سے بڑا
نہیں۔وردی انسان سے بڑی نہیں۔پارٹی انسان سے بڑی نہیں۔قوم انسان سے بڑی نہیں۔اور کوئی حکم انسان کے ضمیر کو مکمل طور پر معطل
نہیں کر سکتا۔کیونکہ آخر میں تاریخ فائلیں نہیں پڑھتی۔وہ نتائج پڑھتی ہے۔وہ لاشیں گنتی ہے۔وہ اجڑے ہوئے گھروں کی خاموشی سنتی
ہے۔وہ ان بچوں کے چہروں کو دیکھتی ہے جن کے والدین واپس نہیں آئے۔اور پھر وہ ایک دن عدالت لگاتی ہے۔شاید اسی لیے انسانی
تاریخ کا سب سے خوفناک سوال یہ نہیں کہ تم نے کیا کیا؟بلکہ یہ ہے:جب تمہیں معلوم تھا کہ یہ غلط ہے، تب تم نے کیا کیا؟نیورمبرگ کی
عدالت ختم ہو گئی۔ جج چلے گئے۔ ملزمان اپنے انجام تک پہنچے۔ مگر تاریخ کی عدالت ختم نہیں ہوئی۔وہ آج بھی جاری ہے۔
٭٭٭


