میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پندرہ سال کی شہزادی اور اقتدار کا اندھیرا

پندرہ سال کی شہزادی اور اقتدار کا اندھیرا

جرات ڈیسک
اتوار, ۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ کبھی کبھی اپنے سب سے بڑے سبق کسی بادشاہ کے تخت پر نہیں بلکہ ایک خوف زدہ لڑکی کی خاموش آنکھوں میں لکھتی ہے۔ 1549ء میں
انگلستان کی پندرہ سالہ شہزادی الزبتھ ایسی ہی ایک تاریخ کے بیچ کھڑی تھی۔ وہ صرف ایک لڑکی تھی، مگر اس کے گرد تخت، اقتدار، سازش، شہوت،
خوف، الزام اور موت کا ایسا جال بُنا جا رہا تھا جس میں ذرا سی لغزش اس کی زندگی کا خاتمہ کر سکتی تھی۔ یہی لڑکی آگے چل کر ملکہ الزبتھ اوّل بنی، مگر
ملکہ بننے سے بہت پہلے اسے انسانی طاقت کا وہ چہرہ دیکھنا پڑا جسے تاریخ کی کتابیں اکثر تاج اور تخت کے پیچھے چھپا دیتی ہیں۔الزبتھ کے والد
ہنری ہشتم مر چکے تھے۔ اس کی والدہ این بولین کو برسوں پہلے زنا اور غداری کے الزامات میں موت دی جا چکی تھی، اور خود الزبتھ بچپن ہی میں
ایک ایسے شاہی نظام کا حصہ بن چکی تھی جہاں کسی عورت کی عزت صرف اس کی اپنی نہیں رہتی تھی۔ وہ خاندان، تخت اور سیاست کی ملکیت بن جاتی تھی۔ ہنری ہشتم کے تمام بچوں کو 1544ء میں دوبارہ جانشینی کی ترتیب میں شامل کیا گیا، مگر اس واپسی کے ساتھ تحفظ کی ضمانت نہیں آئی تھی۔
پھر اس کی زندگی میں تھامس سیمور آیا۔ وہ اس کی سوتیلی ماں کیتھرین پار کا شوہر تھا، بادشاہ ایڈورڈ ششم کا ماموں تھا اور خود بھی اقتدار کی بلند
منزلوں تک پہنچنے کی خواہش رکھتا تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق سیمور کم عمر الزبتھ کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتا، صبح اس کے کمرے میں چلا آتا
اور اس کے ساتھ ایسی جسمانی قربت کی کوشش کرتا جس نے بعد میں ایک بڑے سیاسی اسکینڈل کو جنم دیا۔ کیتھرین پار نے بالآخر ایک موقع پر
دونوں کو تنہائی میں دیکھا اور الزبتھ کو وہاں سے دور بھیج دیا۔یہاں تاریخ کا ایک خوفناک فلسفہ سامنے آتا ہے: طاقت کے قریب رہنے والا انسان
اکثر دوسرے انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک امکان سمجھنے لگتا ہے۔ کبھی اقتدار کا امکان، کبھی دولت کا، کبھی تخت کا، کبھی اپنے نام کو تاریخ میں لکھوانے کا۔

سیمور کے معاملے میں بھی الزبتھ محض ایک نوجوان لڑکی نہیں تھی؛ وہ شاہی خاندان کی رکن، بادشاہ کی بہن اور مستقبل کی طاقت کا دروازہ تھی۔ اسی لیے ایک انسانی تعلق کے اندر سیاسی مفاد داخل ہوگیا۔کیتھرین پار کی موت کے بعد سیمور نے دوبارہ الزبتھ کے قریب آنے کی کوشش کی۔ پھر
1549 ء میں اسے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ الزبتھ کو بھی سخت پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی عمر صرف پندرہ برس تھی، مگر اسے معلوم
تھا کہ اس کے ہر لفظ کو اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نے خاموشی، احتیاط اور الفاظ پر قابو رکھنے کا ایسا مظاہرہ کیا جو شاید اس کی عمر
سے کہیں زیادہ پختہ ذہن کی علامت تھا۔ آخرکار اس کے خلاف مزید کارروائی نہ ہوئی، جبکہ سیمور کو غداری کے جرم میں مارچ 1549ء میں موت
دے دی گئی۔یہ واقعہ صرف ایک شاہی اسکینڈل نہیں تھا۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک آئینہ تھا۔انسان جب خوف میں ہوتا ہے تو دو راستے اختیار کرتا
ہے، یا وہ ٹوٹ جاتا ہے، یا وہ اپنے اندر ایک نیا انسان پیدا کرتا ہے۔ الزبتھ نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اس نے شاید اسی عمر میں سمجھ لیا کہ طاقت
کی دنیا میں جذبات بھی ثبوت بن سکتے ہیں، خاموشی بھی زبان بن سکتی ہے اور reputation یعنی ساکھ بھی زندگی اور موت کے درمیان دیوار
بن سکتی ہے۔بعد میں جب وہ ملکہ بنی تو اس کی پوری سیاسی زندگی میں اپنی ذات، اپنی ساکھ اور اپنی آزادی پر غیر معمولی کنٹرول دکھائی دیتا ہے۔
وہ شادی کے معاملے میں بھی دباؤ کے باوجود آزاد رہنے پر مصر رہی۔ Historic Royal Places کے مطابق، اس نے اپنے گرد موجود مردانہ سیاسی

طاقت کو واضح طور پر چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دربار میں کسی مرد کو اپنا حاکم نہیں بنائے گی۔یہیں سے تاریخ ہمیں ایک اور
سبق دیتی ہے: جو انسان کم عمری میں طاقت کا اصل چہرہ دیکھ لے، وہ بڑے ہو کر طاقت کی زبان دوسروں سے زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔

انسانی تاریخ میں یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں۔ روم کے محلات ہوں، عثمانی دربار، یورپ کی بادشاہتیں، فرانسیسی انقلاب کے بعد کا سیاسی میدان،
روسی زاروں کی دنیا یا جدید ریاستیں اقتدار نے بارہا انسان کو انسان کے بجائے وسیلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ کبھی عورت سیاسی اتحاد کا ذریعہ بنی،
کبھی بیٹا تخت کا وارث، کبھی بھائی خطرہ، کبھی دوست دشمن اور کبھی عوام صرف اعداد و شمار۔فرائڈ نے انسانی نفسیات میں خواہش اور خوف کے تعلق
کو سمجھنے کی کوشش کی، یونگ نے انسان کے اندر چھپے ہوئے سائے کی بات کی، نطشے نے طاقت کی خواہش کو انسانی رویوں کے بنیادی محرکات میں
شمار کیا، اور ابن خلدون نے صدیوں پہلے دکھایا کہ اقتدار جب عصبیت، مفاد اور آسائش کے چکر میں داخل ہوتا ہے تو ریاست کے اندر اخلاقی
زوال بھی جنم لے سکتا ہے۔ تاریخ کے یہ مختلف مفکر ہمیں ایک ہی خوفناک حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں: انسان صرف طاقت حاصل نہیں کرتا،
طاقت بھی انسان کو تبدیل کرتی ہے۔اور شاید اس سے زیادہ خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب معاشرہ ظلم کو معمول سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔پہلے ایک
غلط رویہ ہوتا ہے، پھر لوگ اسے برداشت کرتے ہیں، پھر اس کے عادی ہوجاتے ہیں، اور آخرکار وہی رویہ معاشرتی معمول بن جاتا ہے۔ ہنّا
آرنٹ نے برائی کی روزمرہ صورتوں پر غور کرتے ہوئے دکھایا کہ خوفناک نظام صرف چند ظالم لوگوں سے نہیں بنتے؛ بعض اوقات عام لوگ بھی
خاموشی، اطاعت اور ذمہ داری سے فرار کے ذریعے اس نظام کو چلنے دیتے ہیں۔الزبتھ کی کہانی کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ایک پندرہ
سالہ لڑکی اقتدار کے قریب تھی؛ اصل المیہ یہ ہے کہ اسے پندرہ سال کی عمر میں یہ سیکھنا پڑا کہ طاقتور لوگوں کے درمیان معصومیت بھی خطرہ بن سکتی
ہے۔اور پھر تاریخ ایک عجیب موڑ لیتی ہے۔وہی لڑکی جسے کبھی دوسروں کے ارادوں سے اپنی عزت اور زندگی بچانی پڑی، چند برس بعد خود
انگلستان کے تخت پر بیٹھی۔ اس کے بعد اس کی پوری سیاسی زندگی میں اپنی آزادی، اپنی تصویر، اپنی ساکھ اور اپنے اختیار کو بچانے کی شدید خواہش
نظر آتی ہے۔ اس کا ماضی اس کی سیاست کا خاموش استاد بن چکا تھا۔یہیں سے ہمیں پاکستان کو بھی دیکھنا چاہیے۔
پاکستان کی تاریخ میں بھی اقتدار بارہا انسانوں کو محض شہری نہیں بلکہ اعداد، ووٹ، ہجوم، کارکن، مخالف یا خاموش تماشائی سمجھنے کی طرف گیا ہے۔

ہماری سیاسی تاریخ میں جمہوری حکومتیں آئیں، مارشل لا آئے، پارلیمانیں بنیں، توڑ دی گئیں، آئین بنے اور معطل ہوئے، سیاسی کارکن گرفتار ہوئے، صحافت نے دباؤ دیکھا اور عوام نے بار بار وعدوں اور حقیقت کے درمیان فاصلہ محسوس کیا۔ مسئلہ صرف حکمران نہیں، مسئلہ وہ سیاسی نفسیات بھی ہے جو طاقت کو جواب دہ بنانے کے بجائے طاقتور کے سامنے خاموش رہنے کو محفوظ راستہ سمجھتی ہے۔پاکستانی معاشرے کا اصل بحران صرف غربت یا سیاسی عدم استحکام نہیں؛ ایک گہرا بحران خوف کا ہے۔ جب شہری یہ سوچنے لگے کہ سچ بولنے سے نقصان ہوگا، سوال کرنے سے مسئلہ پیدا ہوگا، اختلاف کرنے سے دشمن سمجھا جائے گا اور خاموش رہنے سے شاید زندگی آسان رہے گی، تو جمہوریت کا جسم باقی رہتا ہے مگر اس کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں صرف ٹینکوں، محلوں اور پارلیمانوں سے نہیں بنتیں، ریاستیں شہری کے اندر موجود اس یقین سے بنتی ہیں کہ اس کی عزت، آزادی اور آواز کی بھی کوئی قیمت ہے۔پندرہ سالہ الزبتھ نے اقتدار کے دربار میں ایک خوفناک سبق سیکھا تھا: طاقت کے سامنے جذبات نہیں، شعور کام آتا ہے، شور نہیں، ضبط کام آتا ہے؛ اور سب سے بڑھ کر اپنی سچائی اور ساکھ کی حفاظت کام آتی ہے۔شاید آج بھی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم طاقت کو انسان کے لیے استعمال کریں گے یا انسان کو طاقت کے لیے؟کیونکہ تاریخ کا المیہ یہ نہیں کہ ظالم پیدا ہوتے ہیں، تاریخ کا اصل المیہ تب شروع ہوتا ہے جب معاشرہ ظلم دیکھ کر خاموش ہوجاتا ہے۔اور جب خاموشی عادت بن جائے تو پھر ایک دن انسان کو ظلم دکھائی نہیں دیتا-97صرف اپنا خوف دکھائی دیتا ہے۔تاریخ کے محل بدل جاتے ہیں، بادشاہ بدل جاتے ہیں، تخت بدل جاتے ہیں مگر طاقت اور انسان کے درمیان یہ جنگ آج بھی وہیں کھڑی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں