عالمی سلامتی کے نئے سوالات
شیئر کریں
مشرقِ وسطیٰ اور مغربی دنیا میں عالمی سلامتی ،فضائی سفرکے تحفظ اور عالمی سیاست کے پیچیدہ تعلقات موضوع ِ بحث ہیں۔ دبئی سے تل ابیب جانے والے اماراتی طیارے میں پائلٹوں کے درمیان پیش آنے والا خونریز واقعہ اور برطانیہ میں فضائی اڈے کے قریب دہشت گردی اور دھماکہ خیزمواد سے متعلق الزامات کے تحت پانچ افراد کی گرفتاری بظاہر دوالگ واقعات ہیں، تاہم اِن دونوں میں ایک مشترکہ سوال جو موجود ہے کہ کیا موجودہ عالمی کشیدگی نے سلامتی کے اِن خطرات کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے جن کا سامنا ریاستوں اور عام شہریوں کو ہے؟
تیس ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کودورانِ سفر ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرناپڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں کپتان پر حملہ کیاجس کے نتیجے میں طیارہ اچانک بلندی سے نیچے آنے لگا تاہم واقعے کے محرکات کی حتمی تصدیق ابھی تحقیقات سے ہونا باقی ہے ۔مسافروں اور طیارے میں موجود دیگر پائلٹوں کی مدد سے جہاز کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اُتارکر بعد ازاں مسافروں کودبئی کے دوسرے طیارے سے تل بیب پہنچایا گیا۔
اِس واقعے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک ایسے خطے میں جہاں فضائی حدود،سفارتی تعلقات اورعسکری مفادات پہلے ہی باہم الجھے ہوئے ہیں، وہاں ایک مسافر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ نے مزید سوالات پیداکردیے ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اگرچہ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں، سعودی عرب کا اپنی سرزمین پر اسرائیل جانے والے مسافروں کو ہنگامی صورتِ حال میں سہولت دینا انسانیت دوستی کی ایک عمدہ مثال ضرورہے۔
یہ واقعہ یاددہانی ہے کہ فضائی سفرکاتحفظ جدید طیاروں ،جدید ریڈاراور فضائی دفاعی نظام تک محدود نہیں ،بلکہ طیارے کے اندرموجود عملے کی تربیت،ذہنی وپیشہ وارانہ جانچ،حفاظتی ضوابط اور ہنگامی حالات میں فوری فیصلے بھی اہمیت رکھتے ہیں،اگر کاک پٹ میں بیٹھا فرد ہی خطرے کاباعث بن جائے تومعمول کے حفاظتی انتظامات کو بھی غیر معمولی آزمائش کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس واقعے کے بعد پائلٹوں کی جانچ اور فضائی کمپنیوں کے داخلی حفاظتی نظام اور عالمی سطح پر توجہ بڑھنے کا امکان ہے۔دوسری جانب برطانیہ میں ہونے والی گرفتاریوں نے مغربی دنیا میں ممکنہ دہشت گردی کے خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے 27ستمبرکو برطانوی پولیس نے گلوسٹر شائر میں واقع آراے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ افراد کو دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم اور دہشت گردی کی تیاری کے شبہ میں گرفتار کیا ،یہ فضائی اڈہ امریکی فوج بھی استعمال کرتی ہے ، ایران کے خلاف امریکی فوجی کاروائیوں کے تناظر میں اِس کی اہمیت نمایاں ہوئی ہے۔ برطانوی حکام نے ممکنہ بیرونی ریاستی مداخلت سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کیں تاہم گرفتار افراد کو بعد میں ضمانت پر رہا کردیا ،کیونکہ کسی غیر ملکی حکومت یا منظم دہشت گرد نیٹ ورک کے ملوث ہونے کاحتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
کیا مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی دنیا کے امن اور سلامتی کو متاثر کرسکتی ہے؟اِس امکان کو اگر مکمل طورپررَد نہیں بھی کیا جا سکتا تو بھی کسی ایک واقعے کی بنیادپر یہ نتیجہ اخذا کرنا درست نہیں کہ یورپ میں دہشت گردی کی تمام نئی سرگرمیوں کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں یا کوئی مخصوص ملک کارفرما ہے۔ تحقیقات کا نتیجہ اِس حوالے سے اہم ہوگا کہ آیایہ کسی منظم کاروائی کی کوشش تھی ،کسی انفرادی گروہ کی سرگرمی یا محض ایک مشتبہ صورتحال ۔
امریکہ اور یورپ کے لیے یہ صورتحال اِس لیے اہم ہے کہ مغربی ممالک کی فوجی تنصیبات کو اب صرف روایتی عسکری خطرات ہی نہیں بلکہ ممکنہ تخریبی کارروائیوں اور سائبر حملوں جیسے نئے چیلنج بھی ہیں، اگر کسی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش ثابت ہوتی ہے تو اِس کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ نیٹو کے رُکن ممالک اور امریکہ کے دیگر اتحادی بھی اپنی حساس تنصیبات کے تحفظ کے انتظامات پر نظر ثانی کر سکتے ہیں تاہم اِس نوعیت کے اقدامات میں احتیاط ضروری ہے تاکہ غیر مصدقہ خدشات کی بنیاد پرغیر ضروری تناؤ پیدا نہ ہو ۔
مذکورہ دوونوں واقعات کو ایک ساتھ دیکھنے سے عالمی سلامتی کا ایک وسیع تر منظر نامہ سامنے آتاہے ایک طرف خلیجی خطے میں اسرائیل، ایران ،سعودی عرب اور عرب امارات کے مفادات ہیں تو دوسری طرف یورپ اور امریکہ کی فوجی اور سیاسی حکمتِ عملی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو متاثر کرتی ہے۔
لہٰذا کسی ایک خطے میں پیداہونے والا بحران دوسرے خطوں میں بھی سلامتی کے نئے خدشات پیدا کر سکتا ہے، لیکن اِن واقعات کا ایک دوسرا پہلوبھی ہے سعودی عرب کی جانب سے ہنگامی لینڈنگ کے لیے سہولت فراہم کرنا ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود انسانی جانوں کے تحفظ اور ہنگامی حالات میں تعاون کی گنجائش ہے ۔اسی طرح طیارے کے مسافروں اور عملے کی بروقت مداخلت اِس حقیقت کو اُجاگر کرتی ہے کہ بحران کے لمحوں میں انسانی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کی غیر معمولی اہمیت ہو جاتی ہے۔ عالمی سیاست میں جہاں اکثر طاقت اور مفادات کی بات ہوتی ہے وہاں ایسے واقعات انسانی تعاون کی اہمیت یاد دلاتے ہیں ۔
تاہم اصل امتحان اب یہ ہے کہ کیا فضائی کمپنیاں اپنے حفاظتی نظام کو مزید موثر ،حکومتیں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو فروغ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنے اختلافات کے باوجودعلاقائی استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کر سکیں گے؟اِ ن سوالات کے جوابات آنے والے دنوں اور ہفتوں میں سامنے آنے والی تحقیقات اور سفارتی سرگرمیوں سے واضح ہوں گے۔اب علاقائی تنازعات،بڑی طاقتوں کی رقابت اور داخلی سلامتی کے مسائل ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے تاہم ہر حادثے کو عالمی سازش اور ہر گرفتاری کو کسی عالمی تصادم کی علامت سمجھنا بھی دانشمندی نہیں ،ضرورت اِس امرکی ہے کہ حقائق اور قیاس آرائیوں کے درمیان فرق رکھا جائے تاکہ عالمی سلامتی کے مسائل تعصبات کی نظرنہ ہوں ۔
دبئی سے تل ابیب جانے والے طیارے کا تبوک میں اُترنا اور برطانیہ میں مشتبہ افرادکی گرفتاریاں شاید عالمی سیاست کارُخ تبدیل نہ کریں لیکن یہ واقعات ایک ایسے عالمی نظام کی کمزوریوں اور چیلنجوں کو نمایاں کرتے ہیں جس میں ایک خطے کا عدمِ استحکام دوسرے خطے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ،آنے والے دنوں میں اصل اہمیت اِ ن واقعات کے شور سے زیادہ اِن کی تحقیقات ،نتائج اور اِن سے حاصل ہونے والے اسباق کی ہوگی۔
٭٭٭


