ٹرمپ نے عسکری امداد کی سمت مشرق وسطی سے لاطینی امریکہ کی طرف موڑ دی
شیئر کریں
52 ملین ڈالر کی امداد کو چار ممالک کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا گیا، ڈیموکریٹک قانون سازوں کی عائد پابندی نظر انداز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی اور مشرق وسطی کے ممالک کے لیے مختص 52 ملین ڈالر کی عسکری امداد واپس لے لی ہے اور اسے لاطینی امریکہ کے چار ممالک کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا ہے،
اس اقدام نے قانون سازوں کے منظور کردہ فنڈز کو تبدیل کرنے کے انتظامیہ کے اختیارات پر کانگریس کے ڈیموکریٹک رہنمائوں کے ساتھ تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
امریکی اخبار نے تین امریکی حکام کے حوالے سے نقل کیا کہ انتظامیہ نے سلوواکیہ، شمالی مقدونیہ، تیونس اور عراق کے لیے مختص فنڈز کو پاناما، پیرو، ایکواڈور اور کولمبیا منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اس اقدام پر روک لگا رکھی تھی۔امریکی وزارت خارجہ نے گزشتہ ستمبر میں کانگریس کو امداد کی از سر نو تخصیص کی اپنی نیت سے آگاہ کیا تھا جس پر ڈیموکریٹک سینیٹر جین شاہین اور ڈیموکریٹک نمائندے گریگوری میکس نے اس کے رخ کی تبدیلی کے اعتراض میں فنڈز کی منتقلی پر روک لگا دی تھی۔
بدھ کو رات گئے ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو اطلاع دی کہ وہ روک کو نظرانداز کرتے ہوئے منتقلی کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو امریکی عسکری امداد کے انتظام اور بیرونی اخراجات کی ترجیحات پر انتظامیہ اور ڈیموکریٹک قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کی عکاسی کر رہا ہے۔
سب سے نمایاں اعتراضات سلوواکیہ اور شمالی مقدونیہ کے لیے مختص فنڈز کی منتقلی پر ہیں کیونکہ یہ امداد یوکرین کی مدد کے ضمیمے میں شامل تھی اور خاص طور پر ان ممالک کے لیے تھی جو روسی جنگ کے اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام ایک خط میں قانون سازوں نے کہا کہ کانگریس نے روسی فوجی کارروائی کے بعد یوکرین اور یورپی اتحادیوں کی مدد کے لیے یہ فنڈز مختص کیے تھے۔
قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنڈز اجرا کرنے والی اتھارٹی کے پاس ان کا رخ دوسرے سیاسی ترجیحات کی طرف موڑنے کا اختیار نہیں ہے جو ان اہداف سے متعلق نہیں ہیں جن کے لیے انہیں منظور کیا گیا تھا۔
دوسری طرف امریکی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اور مشرق وسطی سے فنڈز کو مغربی کرہ ارض کی طرف دوبارہ مختص کرنا انتظامیہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مطابق ہے۔
وزارت نے وضاحت کی کہ نئی فنڈنگ کا استعمال منشیات سے جڑے دہشت گردی کے خاتمے، پاناما نہر کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور امریکی سکیورٹی شراکت داریوں کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ خطے میں حریف طاقتوں کے فوجی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی بیرونی امداد کی ترجیحات کو دوبارہ ترتیب دینے کے رجحان کے تحت سامنے آیا ہے جس میں لاطینی امریکہ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
کانگریس کے مختص کردہ فنڈز میں تصرف کے انتظامی اختیارات کی حدود پر ڈیموکریٹس کے ساتھ ٹرمپ کے اختلافات برقرار ہیں۔


