لیون زولگور
شیئر کریں
کیا امریکہ کے عوام سوا صدی قبل کے اس کردار ‘لیون زولگور’سے واقف ہوں گے؟ اورجو ہوں گے وہ اس کو صدر کے قاتل کی حیثیت سے جانتے ہوں گے جس نے موت سے چند سیکنڈ قبل یہ کہا کہ یہ قتل اس نے امریکہ کے عوام کے لیے کیا؟ یہ کہ اس نے مجرمانہ نہیں بلکہ محروم زندگی گزاری؟ وقت کے اس عمل کے بارے میں تاریخ کا فیصلہ کیا ہے؟ کیا تاریخ بھی اسے مجرم اور قاتل ہی ٹھہرائے گی؟
ـ‘‘سرخ رو’’ ایما گولڈ مان کی خود نوشت ہے جس کا ترجمہ محمد مظاہر نے کیا ہے اور سٹی بک پوائنٹ ،کراچی سے یہ ۲۰۲۶ء میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب پر کتنے ہی مضامین اور کالم سیاہ کیے جاسکتے ہیں، کتنے ہی عنوان اس کو پڑھتے ہوئے ذہن میں کلبلاتے ہیں ۔یہ ایک انارکسسٹ باغی عورت کی زندگی کی داستان ہے اور اس سے کتنے ہی واقعات، کردار اور کہانیاں جڑی ہیں۔ایک واقعہ بھی تنہا اپنے اندر ایک ہی واقعہ نہیں ہوتا،پیاز کی پرتوں کی طرح چھیلتے چلے جاؤ۔ اسی کتاب سے یہ تحریک ملی کہ انارکزم کے بارے میں جانا جائے جو سماجی انتشار و بد نظمی کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔ابھی تو بس اتنا ہی جانا کہ یہ ایک سیاسی نظریہ ہے جس کے حصے میں سماجی بدنامی آئی ہے۔
ملک امریکہ ،سال ۱۹۰۱ء ایما گولڈ مان سے ایک اخبار کی نمائندہ عورت ‘ٹی’ ملنے آئی ۔وہ امریکی صدر میکنلے کے قتل اور قاتل لیون
زوولگوزکی فوری گرفتاری کی عینی شاہد تھی۔اس واقعے نے بہ حیثیت صحافی اس کی پیشہ ورانہ زندگی کو کس طرح متاثر کیا اور کمرۂ عدالت میں
اس نے کیا محسوس کیا۔اس نے بتایا کہ(کتاب سے نقل ) :
‘‘ وہ میکنلے کے بہت نزدیک کھڑی تھی اور ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو قطار بنا کر اس سے مصافحہ کرنا چاہتے تھے ۔اسی قطار میں اس نے ایک
نوجوان کو دیکھا جو اوروں کے ساتھ آگے سرک رہاتھا۔ ایک سفید رومال اس کے ہاتھ میں بندھا ہوا تھا۔ صدر کے قریب پہنچتے ہی اس نے
ریوالور نکال کر اسے چلادیا۔ افراتفری پھیل گئی اور لوگ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے ۔مگر جو لوگ کھڑے ہوئے تھے انہوں نے صدر کو اٹھایا اور
انہیں کنونشن ہال میں لے گئے ۔ دوسرے حملہ آور پر ٹوٹ پڑے اور اسے پیٹنے لگے ،وہ منہ کے بل پڑا ہوا تھا۔ اچانک وہاں پر خوف ناک چیخ
و پکار شروع ہوگئی اور یہ آوازیں اس نوجوان کے منہ سے آرہی تھیں جو زمین پر پڑا تھا۔ایک مسٹنڈا حبشی اس پر سوار تھا جو نوجوان کی آنکھوں
میں اپنے ناخن ٹھونس رہاتھا۔ اس بھیانک منظر نے اسے بیمار کردیا ۔وہ اپنے دفتر کی جانب بھاگی تاکہ ماجرا لکھ کر دے سکے۔ مدیر نے اس
کی کہانی پڑھی اور اسے بتایا کہ وہ حصہ جس میں حبشی زولگور کی آنکھوں میں ناخن ٹھونس رہا تھا ،نہیں چھپے گا،اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ انارکسسٹ
کتا اس کا مستحق نہیں تھا،میں خود بھی یہی کرتا مگر ہم اپنے قارئین کی ہمدردیاں صدر کے لیے چاہتے ہیں ناکہ اس قاتل کے لیے۔
مس ٹی کو ئی انارکسسٹ نہیں تھیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے ہمارے نظریات کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا اور وہ اس شخص کے
خلاف بھی تھیں جس نے میکنلے پر حملہ کیاتھا۔لیکن اس نے جو منظر دیکھا اور مدیر کی سنگ دلی کو دیکھ کر زولگور کے لیے اس کے دل میں نرمی پیدا
ہوگئی ۔اس نے بارہا کوشش کی کہ وہ اس سے جیل میں مل کر انٹرویو کرے مگر اسے کامیابی نہ ہوئی ۔اسے دوسرے اخباری نمائندوں سے معلو م
ہوا کہ زولگور کو اتنا مارا پیٹاگیا تھا اور اذیتیں دی گئی تھیں کہ اسے کسی سے ملوایا نہیں جاسکتا تھا۔ وہ اتنا بیمار تھا کہ اس کا بھی خوف تھا کہ اسے
عدالت تک کیسے پہنچایا جائے ۔کچھ عرصے بعد اسے مقدمے کی کاروائی دیکھنے کے فرائض سونپے گئے۔عدالت کے کمرے کی حفاظت پر مسلح
لوگ تعینات تھے اور وہاں جستجو میں رہنے والے لوگ بھی تھے جس میں زیادہ تر خوش پوشاک عورتیں تھیں ۔ فضامیں بے چینی کی وجہ سے تناؤ
تھا۔ساری آنکھیں اس دروازے پر لگی ہوئی تھیں جہاں سے قیدی کو داخل ہونا تھا۔اچانک ہجوم میں ہلچل پیدا ہوگئی ۔دروازہ جھٹکے سے کھل
گیا اور ایک نوجوان آدمی جسے پولیس والے سہارا دیے ہوئے تھے تقریباََ گھسٹتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔وہ زرد اور لاغر لگ رہاتھا۔سر پر
پٹی بندھی ہوئی تھی اور چہرا سوجا ہوا تھا۔اسے دیکھنا اتنا تکلیف دہ تھا کہ محض اتفاق سے اس پر نظر ڈالی جاسکتی تھی ۔۔۔۔آنکھیں بڑی اور
حسرت بھری تھیں جو پورے کمرے پر دوڑتی رہیں اور اندوہ ناک گہرائی سے تلاش کرتی رہیں جس کا بظاہر مطلب کسی مانوس چہرے کی تمنا
ہوسکتی ہے۔اس کے بعد ان میں جو گہرائی تھی وہ ختم ہوگئی اور ان میں ایک ایسی تابناکی آگئی جو داخلی عرفان کا نتیجہ ہو،روشن مستقبل کے خواب
دیکھنے والے اور جیسی پیغمبروں کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ مس ٹی بولتی گئیں کہ میں یہ سوچ سوچ کر شرم سے گڑی جارہی تھی کہ مجھ میں وہ جرات نہ
تھی جو مجھ سے کہلا دیتی کہ وہ تنہا نہیں ہے اور میں تمہاری دوست ہوں۔ اس کے بعد کئی دنوں تک وہ آنکھیں مجھ پر آسیب بن کر چھائی
رہیں۔آئندہ دو سال تک میں کسی اخبار کے دفتر کے نزدیک نہ پھٹکی ۔میں آج بھی جز وقتی صحافی کے طور پر کام کرتی ہوں ۔جس لمحے مجھے
ایک باقاعدہ ملازمت کا خیال آتا ہے جس کی وجہ سے مجھے اس جیسے تجربے سے دوچار ہونا پڑے ،مجھے وہی آنکھیں نظر آنے لگتی ہیں۔میں
ہمیشہ سے تم سے ملنے کی آرزو مند تھی تاکہ تمہیں اس کے متعلق بتاؤں۔
میں سکتے میں اس کا ہاتھ دبانے لگی تاکہ کچھ کہنے کے قابل ہوجاؤں۔جب میں اپنے جذبات پر قابو پاچکی تو میں نے اس سے کہا کہ کاش یہ سچ ہوتا کہ لیون زولگور باطنی نظروں سے یہ دیکھ سکتا کہ کم از کم ایک متنفس ذات اس کے قریب اس کمرۂ عدالت میں موجود ہے جو بھوکے بھیڑیوں سے بھری ہوئی تھی ’’۔ (صفحات ۲۸۲ تا ۲۸۳)
قاتل کے حالات زندگی اسی کتاب سے :‘‘وہ پس ماندہ لوگ تھے ۔باپ جسمانی مشقت کرنے سے اخروٹ بن چکاتھااور سوتیلی ماں
دھندلائی ہوئی نظروں سے خلا میں دیکھ رہی تھی ۔اس کی ماں اس وقت مر گئی تھی جب وہ ابھی بچہ تھا۔چھ برس کی عمر میں اسے گھر سے اس لیے
نکال دیا گیا تاکہ وہ جوتے چمکائے اور اخبار بیچے ۔ اگر وہ کافی رقم گھر نہ لاتا تو اس کو سزا ملتی اور کھانا نہ ملتا۔اس کو بچپن کی بد نصیبی نے دبو اور
شرمیلا بنادیاتھا۔بارہ برس کی عمر میں اس نے فیکٹری میں کام کرنا شروع کردیا۔یوں وہ بے زبان نوجوان بن گیا جو کتابوں میں ڈوبا رہتااور
سب سے لاتعلق۔ گھر میں اسے باؤلا کہا جاتا اور کارخانے میں تحقیراََ عجیب اور غبی ۔ کوئی ذات اگر اس پر مہربان تھی تو وہ اس کی ہمشیرہ تھی
کولہوکے بیل کی طرح کام کرنے والی ۔۔۔۔ جیل میں لیون سے ملنے وہ ایک مرتبہ بفلو گئی تھی ،لیکن اس نے مجھے منع کردیا کہ آئندہ نہ
آؤں۔کنبے کو اہل محلہ نے بہت ستایا اور باپ کوملازمت سے برطرف کردیا۔پھر میں اس نے ملنے نہ گئی وہ روئے جاتی اور یہی دہرائے
جاتی۔’’ (صفحات ۲۸۳ تا ۲۸۴)
‘‘ بفلو کا سانحہ اپنے اختتام کو پہنچ رہاتھا۔ لیون زولگور تشدد اور زدو کوب کا شکار ہونے کی وجہ سے اب بھی بیمار تھا۔ اس کا چہرہ مسخ ہوگیا
تھااور سرپر پٹی بندھی ہوئی تھی ۔اس کو دو پولیس والے پکڑ کر عدالت میں لائے ۔انصاف اور رحم کے نام پر بفلو کی عدالت نے دو وکلاء کو
بطوروکیل صفائی مقرر کیا ۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ انہوں نے سرِ عام یہ اعلان کردیا کہ انہیں ایسے شخص کی صفائی پر پیش ہونے پر افسوس
ہے جو ایک بد کار جرائم پیشہ ہے جس نے ہمارے محبوب صدر کو قتل کردیا۔اس کے باوجود وہ اپنے فرائض معمول کے مطابق نبھائیں گے اور
مقدور بھر یہ کوشش کریں گے کہ عدالت میں مدعا علیہ کے حقوق پر آنچ نہ آنے ۔
آخری ایکٹ آوبرن جیل میں کھیلا گیا۔ پو پھٹنے سے پہلے ۲۹ ِ اکتوبر ۱۹۰۱ء کو سزائے موت پانے والے قیدی کو بجلی کی کرسی پر بٹھا کر تسموں
سے جکڑ دیا گیا۔جلاد بجلی کے سوئچ پر ہاتھ رکھے اشارہ پانے کا منتظر تھا۔ ایک وارڈن روایتی مسیحی رحم کے تحت آخری مرتبہ یہ کوشش کرتا ہے کہ
کسی طرح گناہ گار کی روح کو چین پہنچانے کی خاطر اسے آمادہ کیا جانے لگاکہ وہ اعتراف ِ جرم کرلے ۔ بڑی نرمی سے وہ کہتاہے ‘‘ لیون ،
میرے بیٹے تم اس بری عورت کی کیوں پشت پناہی کررہے ہو جو ایما گولڈ مان ہے۔ وہ تمہاری دوست بھی نہیں ہے ۔اس نے تو تمہیں ایک
آوارہ گرد ٹھہرایا ہے اور کام کے لیے سست الوجود۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ تم اس سے ہمیشہ قرض مانگا کرتے تھے ۔ایما گولڈ مان نے تم سے
دغا بازی کی ہے ، لیون تم اسے کیوں بچا رہے ہو؟
بے سانسوں کا سناٹا،وقت کا بے کراں لمحہ جس سے موت کا کمرہ بس جاتا ہے اور جو موجود ناظرین کے دلوں میں ڈوب جاتا ہے ۔ آخر میں ایک گھٹی سی سسکی جو قریب قریب ناقابل ِ فہم آواز ہے جو سیاہ نقاب کے اندر سے آتی ہے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایما گولڈ مان نے میرے متعلق کیا کہا۔میری کارروائی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔یہ میں نے اکیلے کیا۔ اور یہ میں نے امریکی عوام کے لیے کیا۔ایک اور سکوت جو پہلے والے سے بھی زیادہ دل فگار۔ ایک سوں سوں کی آواز ……گوشت جلنے کی بو……زندگی کی آخری جھر جھری۔’’ (صفحات ۲۵۴ تا ۲۵۵)
یہ امریکہ کی معاشی،سیاسی، عدالتی، طبقاتی، مذہنی منافقت اور صحافتی تاریخ کی محض ایک جھلک ہے۔
٭٭٭


