میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اپوزیشن اتحاد کی حکومت کی مذاکرات کی پیشکش، بات چیت کیلئے رضامندی

اپوزیشن اتحاد کی حکومت کی مذاکرات کی پیشکش، بات چیت کیلئے رضامندی

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

شہباز شریف سے ملنے کیلئے کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاؤں گا وزیراعظم ہاؤس نہیں جاؤں گا، اچکزئی

ہم ریاست کے ساتھ کھڑے رہے، پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے مگر آپ آواز دباتے رہے ہمیں نہیں سنا، بیرسٹر گوہر

گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا، راجا ناصر عباس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپوزیشن اتحاد نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر کردی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی اور علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔

اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، حکومتی اقدامات اور اپوزیشن کے جوابی اقدامات کے حوالے سے بات کی گئی۔ اجلاس میں حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر اہم گفتگو ہوئی، اپوزیشن اتحاد حکومت کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے آج کے اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے میٹنگ کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی خبر آرہی ہے اس پر بھی غور کیا ہے، ہم نے بانی کی بہنوں کو جیل میں رکھنا اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بھرپور مذمت کی ہے،

ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی گرفتاریاں ہوئی ہیں ان کی بھی مذمت کی ہے، ہم ریاست کے ساتھ کھڑے رہے، پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے مگر آپ آواز دباتے رہے ہمیں نہیں سنا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے چار لوگ اسلام آباد میں تھے، باقیوں کے آپ نے وارنٹ جاری کیے، آپ نے کہا ہم ٹولہ ہیں، انتشاری ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم تو یہ الفاظ بھی دوبارہ دہرانا نہیں چاہتے، ہم نے گورنر راج اور ایمرجنسی پر غور کیا ہے،

وفاقی مضبوط ہوتا ہے جب صوبے خود مختار ہوتے ہیں، اگر عوام کی مرضی کے خلاف کچھ کرتے ہیں تو وفاق کمزور ہوگا، ہم یہ بات پیپلز پارٹی کو بھی یاد کروائیں گے، یہ ہمارا ملک ہے، سب سے پہلے پاکستان اور اس کا امن و امان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مشیران کے آگے اپنے تمام تحفظات رکھے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس ہم گئے آرڈر ایمپلیمنٹ نہیں ہوا، جہاں ہم جاتے ہیں ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے، ہم ابھی بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں،

ہمارے پاس باضابطہ طور پر حکومت نے رابطہ نہیں کیا اگر ہمارے ساتھ رابطہ ہوتا ہے تو ضرور بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جو خط موصول ہوا تھا اس کا جواب دیں گے،

ملاقات کے لئے وزیراعظم آفس یا وزیراعظم ہائوس نہیں جائوں گا، کسی درخت کے نیچے بیٹھ جائوں گا پر ملاقات کیلئے وزیراعظم آفس نہیں جائوں گا، ملاقات کے لیے وزیراعظم کسی اور جگہ آجائیں۔

اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ جمہوری حکومت کبھی بھی فاشسٹ نہیں ہوسکتی وہ عوام سے محبت سے بات کرے گی مگر پاکستان کے ساتھ انہونی ہو رہی ہے، ایک شخص جو پاکستان کا وزیراعظم رہا ہے اسے جیل میں بند رکھا گیا ہے،

پاکستان کے بڑے مسائل ہیں، امن و امان کی صورتحال خراب ہے، معاشی حالات بھی خراب ہیں،عدلیہ اور دیگر نظام تباہ ہوگیا ہے، گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا، آپ کو حق نہیں کسی چیز کو چھیڑنے کا، ہم سیاسی رویہ اپنائیں گے، لانگ مارچ کریں گے، پر امن مارچ کو ہم سپورٹ کریں گے،

انہوں نے پہلے ہی راستے بند کر دییے، سڑکوں پر کیل لگا دئیے، یہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کو بحران سے نکالنے والے ایک ہی شخص ہے جو کہ عمران خان ہے،

عمران خان سب کو راضی کر لیں گے، سندھ، کے پی، پنجاب، بلوچستان سب کو راضی کریں گے، پاکستان سب سے آگے ہونا چاہیے، ریاست کو جو کنٹریکٹ ہے عوام کے ساتھ اس پر فوکس ہونا چاہیے،

پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندے آتے ہیں جو عوام کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، فری اینڈ فیئر الیکشن ہونے چاہئیں،انہوںنے کہاکہ ہم ان چیزوں پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، ہمارا پرامن احتجاج ہو گا، اس کو غلط رنگ دیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو ہمیں مارنے آئے گا ہم اسے بھی پھولوں کا ہار ڈالیں گے مگر ہمیں بزدل ہونے کے طعنے نہ دو، بزدل وہ ہے جس کی عوام میں جڑیں نہیں ہیں جو ڈاکا ڈال کر آتے ہیں، آئیں بات چیت کی طرف چلتے ہیں پاکستان کی بہتری کی طرف جاتے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں