میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پولیس پر تشدد کا کیس؛ ایمان مزاری اور شوہر پر فرد جرم کی تاریخ مقرر

پولیس پر تشدد کا کیس؛ ایمان مزاری اور شوہر پر فرد جرم کی تاریخ مقرر

جرات ڈیسک
منگل, ۲۹ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تھانہ کوہسار میں درج دوسرے مقدمے میں عدالت نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کردیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف پولیس پر تشدد کے کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کردی گئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف پروٹوکول توڑنے اور پولیس پر تشدد کے کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔

دوران سماعت وکیل ریاست علی آزاد اور زینب عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر پروٹوکول توڑنے اور پولیس پر تشدد کے کیس میں چالان کی نقول ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا کو فراہم کر دی گئیں۔عدالت کے مطابق آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کی جائے گی، جس کے لیے عدالت نے 6 اکتوبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی تک کر دی ہے۔

یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔دریں اثنا انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف تھانہ کوہسار میں درج احتجاج کے کیس میں عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دئیے۔انسداددہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس پر سماعت کی، جس میں عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 5 اکتوبر کو دلائل دینے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت شیریں مزار نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو رات کو عدالت کھول کر پیش کیا گیا، جس پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ عدالت رات کو کھلی نہیں بلکہ پہلے سے اپنا کام کررہی تھی۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ریمانڈ آرہا ہے تو میں بیٹھا رہا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں