بھارتی خواتین غیر محفوظ
شیئر کریں
بھارتی شہر چندی گڑھ کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔
لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) میں احتجاج کے دوران کیمپس میں نصب ریٹائرڈ MiG-23 لڑاکا طیارے اور فوجی ٹینک پر طلبہ کے چڑھنے، گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کے ڈرامائی مناظر سامنے آئے ہیں۔
یہ احتجاج اتوار کی رات ایک بجے گرلز ہاسٹل نمبر 3 کے قریب اس وقت شروع ہوا جب طلبہ نے الزام لگایا کہ 3 دن قبل ایک پلمبر نے ایک طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ہاسٹل وارڈن کو آگاہ کرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو کیمپس میں کھڑکیوں کے شیشے اور گملے توڑتے، اشیاء کو آگ لگاتے اور یونیورسٹی مال کے اندر دکانوں اور گروسری سٹور میں لوٹ مار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
احتجاج کے دوران اے ٹی ایم کو بھی توڑا گیا جبکہ کیمپس کے باہر ہونے والی جھڑپوں میں پولیس کی 2 گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور کئی دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
احتجاج کا دائرہ نیشنل ہائی وے 44 تک بھی پھیل گیا جہاں طلبہ نے دہلی-امرتسر ہائی وے کو 15 گھنٹے سے زائد تک بلاک رکھا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
جب پولیس نے سڑک کھلوانے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور پتھر برسائے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ ان جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس نے طلبہ کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک نمونوں اور کال ریکارڈز کا جائزہ لے گی۔
ایل پی یو انتظامیہ نے پیر سے 10 دن کے لیے معمول کی کلاسز معطل اور مڈ ٹرم امتحانات تاحکم ثانی ملتوی کر دیئے ہیں جبکہ طلبہ کو اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
بھارت میں ریپ کے حالیہ واقعات نے خواتین کی حفاظت پر بحث کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ سخت قوانین اور سزاؤں کے باوجود جنسی تشدد میں کمی نہیں آئی۔ نئی دہلی میں طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا اور مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ 2012 کے مشہور کیس کی یاد دلاتا ہے، جب ایک 23 سالہ طالبہ کو بس میں اجتماعی ریپ اور قتل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد سخت قوانین متعارف کرائے گئے، لیکن کارکنان کے مطابق یہ ناکافی ہیں۔
خواتین کے حقوق کی کارکن یوگیتا بھیانا نے کہا کہ اصل مسئلہ ذہنیت کی تبدیلی ہے۔ اب بھی یہ سوچ موجود ہے کہ اگر عورت رات گئے گھر سے باہر ہے یا کسی مرد کے ساتھ نظر آئے تو یہ اس کی غلطی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں روزانہ اوسطاً 80 ریپ کیسز درج ہوئے، جو 2012 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ بدنامی کے خوف سے متاثرہ خواتین اکثر رپورٹ درج نہیں کراتیں۔
حال ہی میں دہلی میں 16 سالہ کی ایک لڑکی ریپ کے بعد مْردہ حالت میں ملی، جبکہ ایک اور 17 سالہ لڑکی کو بس ڈرائیور اور کنڈکٹر نے بارش کے دوران لفٹ دینے کے بہانے ریپ کا نشانہ بنایا۔
بہار میں بھی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک نوعمر لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ہر کیس نے عوامی غم و غصے، گرفتاریوں اور سیاسی مذمت کو جنم دیا۔
2012 کے بعد حکومت نے قوانین سخت کیے، اجتماعی ریپ کے لیے کم سے کم 20 سال قید اور بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی۔ مسئلہ قانون میں نہیں بلکہ نفاذ میں ہے۔
پولیس اور عدالتیں بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ایک پولیس سٹیشن لاکھوں لوگوں کو سنبھالتا ہے جس سے تحقیقات متاثر ہوتی ہیں۔
بھارت میں ریپ کے مقدمات میں سزا کی شرح قریباً ایک چوتھائی ہے۔
2024 میں عدالتوں میں زیرِ سماعت دو لاکھ سے زیادہ کیسز میں سے 10 فیصد سے بھی کم مکمل ہوئے۔ ایک اوسط کیس کو سات سے آٹھ سال لگتے ہیں اور اگر سپریم کورٹ تک جائے تو 20 سال۔ اس تاخیر سے مجرم قانون کا خوف کھو دیتے ہیں اور متاثرہ خواتین امید کھو دیتی ہیں۔
صنفی حقوق کی کارکن پونم متریجا کے مطابق قانونی اصلاحات اکیلے مسئلہ حل نہیں کر سکتیں۔ یہ مسئلہ سماجی رویوں اور عدم مساوات میں جڑا ہوا ہے۔ ثقافتی ممنوعات اور سیاسی مزاحمت نے آگاہی پروگراموں کو کمزور کیا ہے۔
روک تھام جرم سے پہلے گھروں، سکولوں، کمیونٹیز، ڈیجیٹل جگہوں اور پولیس نظام میں شروع ہونی چاہیے۔ بھارت میں خواتین سے زیادتی کے واقعات نے خواتین کے تحفظ سے متعلق بحث دوبارہ تیز کر دی۔
زیادتی کے ایک عام مقدمے میں 7 سے 8 سال لگ جاتے ہیں اور اگر مقدمہ سپریم کورٹ تک چلا جائے تو 20 سال لگتے ہیں جس کے نتیجے میں مجرموں کے دل سے قانون کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور متاثرین امید کھو بیٹھتے ہیں۔
٭٭٭٭


