میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
معیشت کا بحران ، عوام کی مشکلات میں اضافہ

معیشت کا بحران ، عوام کی مشکلات میں اضافہ

جرات ڈیسک
بدھ, ۳۰ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

دنیا ایک مرتبہ پھر مہنگائی کے ایک ایسے دور کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے ۔ چند برس
قبل کورونا وبا کے دوران عالمی معیشت کو جس شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ حالات معمول پر آ جائیں گے ، قیمتوں میں استحکام آئے گا اور لوگوں کی قوتِ خرید بحال ہوگی۔ مگر عالمی معیشت ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچ سکی کہ مہنگائی کا مسئلہ مکمل طور پر ختم ہوجاتا۔ ایک طرف جنگیں اور جغرافیائی کشیدگیاں جاری ہیں، دوسری طرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، موسمی تبدیلی اور خوراک کی پیداوار سے متعلق خدشات نے مہنگائی کے نئے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔

عالمی مہنگائی کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دنیا کی معیشت ایک دوسرے سے اس قدر جڑ چکی ہے کہ کسی ایک خطے
میں پیدا ہونے والا بحران بہت جلد دوسرے ممالک کے بازاروں تک پہنچ جاتا ہے ۔ کسی ملک میں تیل کی پیداوار متاثر ہو، کسی اہم سمندری
راستے پر کشیدگی پیدا ہو یا کسی بڑے زرعی خطے میں فصل خراب ہوجائے تو اس کے اثرات صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہتے ۔ خام مال،
توانائی اور خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور پھر یہ اضافہ مختلف ملکوں میں مصنوعات اور خدمات کی قیمتوں تک منتقل ہوجاتا ہے ۔موجودہ عالمی
مہنگائی میں توانائی کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے ۔ دنیا کی صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ اور تجارت اب بھی بڑی حد تک تیل اور گیس پر
انحصار کرتی ہے ۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو سب سے پہلے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے ۔ اس کے بعد
ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں اور سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا مہنگا ہوجاتا ہے ۔ صنعت میں مشینیں چلانے ، بجلی پیدا کرنے
اور مختلف اشیا تیار کرنے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ یوں توانائی کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی معیشت کے کئی شعبوں کو متاثر کرسکتی ہے ۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بھی عالمی توانائی کی منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے ۔ دنیا کے کئی اہم توانائی کے راستے
اسی خطے سے وابستہ ہیں۔ جب کسی جنگ یا کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی رسد کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں تو عالمی منڈی
میں قیمتیں فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ بعض اوقات حقیقی قلت پیدا ہونے سے پہلے ہی مستقبل کے خدشات قیمتوں کو اوپر لے جاتے
ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، بازار اور عام صارف تک پہنچتے ہیں۔

خوراک بھی عالمی مہنگائی کا ایک اہم سبب بن رہی ہے ۔ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ موسمی تبدیلی نے زراعت کو پہلے سے زیادہ غیر یقینی بنا دیا ہے ۔ کہیں شدید گرمی فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے ، کہیں سیلاب زرعی زمینوں کو متاثر کرتا ہے اور کہیں خشک سالی پیداوار کم کردیتی ہے ۔ زرعی پیداوار میں کمی کا مطلب صرف کسان کی آمدنی میں کمی نہیں بلکہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمت میں اضافے کا خطرہ بھی ہے ۔ کھاد، ڈیزل، بجلی، پانی، زرعی مشینری اور نقل و حمل کی قیمتیں بڑھنے سے کسان کی پیداواری لاگت بھی بڑھتی ہے ۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو اس کا اثر منڈی تک پہنچنے والی خوراک پر پڑتا ہے ۔ یوں روٹی، آٹا، چاول، سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں صرف مقامی طلب و رسد سے نہیں بلکہ عالمی حالات سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔

عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی مہنگائی کو بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک اپنی صنعتوں اور مقامی کاروبار کے
تحفظ کے لیے درآمدی محصولات، پابندیاں اور دوسری تجارتی رکاوٹیں عائد کرتے ہیں۔ بظاہر ایسی پالیسیاں مقامی صنعت کو تحفظ دینے کے
لیے بنائی جاتی ہیں، لیکن جب خام مال یا تیار شدہ مصنوعات کی درآمد مہنگی ہوجائے تو کاروباری اداروں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
کاروبار اکثر اس اضافی لاگت کا ایک حصہ صارفین تک منتقل کرتے ہیں، جس سے اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں۔عالمی سپلائی چین بھی ابھی تک
مکمل طور پر محفوظ اور مستحکم نہیں ہوئی۔ جدید دنیا میں ایک موبائل فون، گاڑی، مشین یا صنعتی مصنوعات کے مختلف پرزے کئی ملکوں میں تیار
ہوتے ہیں۔ اگر کسی ایک اہم ملک سے خام مال کی فراہمی رک جائے یا کسی سمندری راستے میں رکاوٹ پیدا ہوجائے تو پوری پیداواری
زنجیر متاثر ہوسکتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں اشیا کی فراہمی کم اور قیمتیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔

مہنگائی کا ایک اہم پہلو عام آدمی کی قوتِ خرید سے بھی متعلق ہے ۔ جب قیمتیں مسلسل بڑھتی ہیں تو آمدنی میں اسی رفتار سے اضافہ نہ
ہونے کی صورت میں لوگوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ تنخواہ وہی رہتی ہے لیکن گھر کا کرایہ، بجلی، گیس،
پٹرول، خوراک، تعلیم اور علاج کے اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ یوں مہنگائی صرف معاشی اصطلاح نہیں رہتی بلکہ خاندان کے روزمرہ
فیصلوں، بچوں کی تعلیم، صحت اور معیارِ زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے ۔

یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مہنگائی کی رفتار کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ قیمتیں واپس پرانی سطح پر آگئی ہیں۔ اگر کسی چیز کی قیمت پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہو اور بعد میں اس میں اضافے کی رفتار کم ہوجائے تو عام صارف کو وہ چیز پھر بھی مہنگی ہی محسوس ہوگی۔ اسی لیے بہت سے ممالک میں مہنگائی کی شرح کم ہونے کے باوجود عوام کو زندگی گزارنے کی لاگت کا دباؤ محسوس ہوتا رہتا ہے ۔مرکزی بینکوں کے لیے بھی موجودہ صورتحال ایک مشکل چیلنج ہے ۔ مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے تاکہ قرض لینے اور اخراجات کرنے کی رفتار کم ہو، لیکن بلند شرح سود کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار پر دباؤ ڈال سکتی ہے ۔ دوسری طرف اگر شرح سود بہت جلد کم کردی جائے اور قیمتوں کا دباؤ برقرار رہے تو مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے ۔ چنانچہ دنیا کے مرکزی بینکوں کو معاشی ترقی اور قیمتوں کے استحکام کے درمیان محتاط توازن قائم کرنا پڑتا ہے ۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے عالمی مہنگائی کا اثر نسبتاً زیادہ محسوس ہوسکتا ہے ، کیونکہ عالمی منڈی میں توانائی، خوراک اور صنعتی خام مال کی
قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت کو بھی متاثر کرتا ہے ۔ درآمدی اشیا مہنگی ہونے سے کاروباری لاگت بڑھ سکتی ہے اور اس کے بعد اس کا اثر
مقامی بازار تک پہنچتا ہے ۔ اگر عالمی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ملکی کرنسی پر بھی دباؤ ہو تو درآمدی مہنگائی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے ۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا آج ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں مہنگائی صرف مقامی فیصلوں کا نتیجہ نہیں رہی۔ جنگ، توانائی، تجارت،
موسمی تبدیلی، زرعی پیداوار اور عالمی سپلائی چین ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ کسی ایک خطے کا بحران دنیا کے دوسرے حصے کے صارف
کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے ۔عالمی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف شرح سود میں اضافہ کافی نہیں۔ دنیا کو جنگوں اور جغرافیائی کشیدگی میں کمی، توانائی کی محفوظ رسد، مستحکم تجارتی راستوں، مضبوط سپلائی چین، بہتر زرعی منصوبہ بندی اور خوراک کی پیداوار میں پائیداری کی ضرورت ہے ۔ حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ کم آمدنی والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

دنیا نے کورونا کے بعد یہ حقیقت اچھی طرح دیکھ لی ہے کہ عالمی معیشت کتنی باہم جڑی ہوئی ہے ۔ آج ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران کل دوسرے خطے کے بازار میں قیمت بڑھا سکتا ہے ۔ اس لیے عالمی مہنگائی کا حل بھی عالمی تعاون، معاشی استحکام اور سیاسی کشیدگی میں کمی سے جڑا ہوا ہے ۔ اگر دنیا توانائی اور خوراک کی فراہمی کو محفوظ بنانے ، تجارت کو مستحکم رکھنے اور جنگی کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو مہنگائی کے دباؤ میں کمی آسکتی ہے ۔ لیکن جب تک عالمی معیشت کو بار بار جنگ، توانائی کے بحران، تجارتی رکاوٹوں اور موسمی خطرات کا سامنا رہے گا، مہنگائی کا مسئلہ بھی دنیا کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا رہے گا۔

عالمی مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے جنوبی ایشیا کے عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ کردیا ہے ۔ پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا
اور خطے کے دوسرے ممالک میں توانائی، خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں عالمی حالات سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ جنوبی
ایشیا کی خاص کمزوری یہ ہے کہ خطے کے کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے عالمی منڈی
میں تیل اور گیس مہنگی ہونے کا اثر مقامی معیشت تک جلد پہنچتا ہے ۔ عالمی توانائی کی قیمت بڑھنے سے صرف پٹرول اور بجلی مہنگی نہیں ہوتی
بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، کھاد اور خوراک کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ ورلڈ بینک کے مطابق جنوبی ایشیا درآمدی توانائی
کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے خاص طور پر حساس خطہ ہے ، جبکہ عالمی توانائی کی منڈی میں مزید رکاوٹیں مہنگائی کو مزید بڑھا سکتی
ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے ، کیونکہ آمدنی محدود رہنے کے باوجود گھر کے ماہانہ اخراجات مسلسل بڑھتے
جاتے ہیں۔ یوں عالمی منڈی میں پیدا ہونے والا بحران جنوبی ایشیا کے عام گھرانے کے بجٹ، قوتِ خرید اور معیارِ زندگی کو براہِ راست متاثر
کررہا ہے ۔

عالمی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے ان عالمی بحرانوں کا خاتمہ ضروری ہے جو توانائی اور تجارت کی سپلائی کو متاثر کررہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں شدید رکاوٹ اور باب المندب و بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی
کشیدگی نے عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کو غیر یقینی سے دوچار کردیا ہے ۔ عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے
مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ جنگی کشیدگی کا براہِ راست اثر تیل، گیس، خوراک، ٹرانسپورٹ اور اشیا کی ترسیل کی
قیمتوں پر پڑتا ہے ۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانا عالمی معیشت کے
لیے ناگزیر ہے ۔ اس کے ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع، متبادل تجارتی راستوں اور مضبوط سپلائی چینز کو فروغ دینا ہوگا تاکہ کسی ایک خطے
میں جنگ یا بحران پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال نہ بنا سکے ۔ اگر عالمی طاقتیں محاذ آرائی کے بجائے تعاون، مذاکرات اور پرامن سفارت
کاری کو ترجیح دیں تو نہ صرف جنگ کے خطرات کم ہوسکتے ہیں بلکہ عالمی مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی لانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں