میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،عوام کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، حافظ نعیم الرحمن

امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،عوام کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، حافظ نعیم الرحمن

جرات ڈیسک
پیر, ۲۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

حکومت کو پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا ،حکومت تحریک انصاف کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرے

بلاول واقعی اسٹیبلشمنٹ کے انتخابی نظام کے خلاف ہیں تو کراچی میں جعلی میئر شپ ،فارم 47 والی نشستوں سے دستبردار ہوجائیں

حکومتی وزرا کی دھمکیاں اور لہجے درست نہیں ہیں، گورنر راج کا غیر آئینی اقدام حکومت کے گلے پڑجائے گا، پریس کانفرنس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیر کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،

ہماری اسٹریٹ پاورسب نے دیکھ لی ہے، ہم کسی بھی صورت عوام کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، ہماری جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو جو ریلیف ملا ہے اسے ہم اس کا ناکافی سمجھتے ہیں،

حکومت اس ماہانہ 25،30ارب روپے کے ریلیف کوبہت بڑا کارنامہ سمجھتی ہے ، حکومت کو پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا ،

بلاول زرداری اگر واقعی اسٹیبلشمنٹ کے انتخابی نظام کے خلاف ہیں تو کراچی میں جعلی میئر شپ اورقومی و صوبائی اسمبلی کی فارم 47کی بنیاد پر ملنے والی نشستوں سے دستبردار ہوجائیں۔

ملک کے موجودہ حالات افراتفری میں عوام کے اصل ایشوز نظرانداز ہورہے ہیں ،ہم کسی بھی سیاسی جماعت کے آئین وقانون کے مطابق احتجاج کو مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت سنجیدگی سے مذاکرات کرے اور تحریک انصاف کے حوالے سے مسئلے کو حل کرے،

ہمارا مطالبہ ہے کہ خواتین سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ، ڈاکٹر یاسمین راشد ،اعجاز چوہدری ،شاہ محمود قریشی ، محمود رشید جیسے افراد کی صحت خراب ہے اور ان کو جیلوں میں رکھا ہوا ہے جو کسی طرح بھی درست نہیں ،

صرف کمیٹی کا اعلان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، حکومتی وزرا کی دھمکیاں اور لہجے درست نہیں ہیں ، حکومت کا گورنر راج کا غیر آئینی اقدام اس کے گلے پڑجائے گا ، ان کے مطالبات کے نکات واضح ہیں جن میں عمران خان تک رسائی ہونی چاہیے، ہسپتال کی سہولتوں ملنی چاہیں ،ان کی ملاقاتیں ہونی چاہیں ، قانون او ر اس کے ضابطوں کے مطابق ان میں سے کوئی مطالبہ بھی ناجائز نہیں ہے،

کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں لوگ روزانہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں ، منگھو پیر میں20 دن بعد ایک خاندان نے اپنے نوجوان بچے روشم خان کی تدفین کی ہے ، گزشتہ رات ایک اور نوجوان اسٹریٹ کرائم میں ماراگیا ،حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو یہ شعور ملا کہ یہ پیٹرول لیوی ایک بھتہ اور غنڈہ ٹیکس ہے جس کا پیٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے،

وزیر اعظم کی یقین دہانی پر ہم نے لانگ مارچ کو ایک وقفہ دیا ہے ، احتجاج سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں ،آج بھی پور ے ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ، کچھ دن پہلے لاہورمیں جو جلسہ ہوا ہے جسے حکومت نے روکنے کی کوشش کی اور چاروں طرف سے جلسہ گاہ کوکنٹینروں سے گھیر لیا گیا لیکن اس کے باوجود ہم نے ایک تاریخی جلسہ کیا ، اب پورے ملک میں باقاعدہ ایک دستخطی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے ، احتجاجی کیمپس قائم ہیں، ریلیاں ہورہی ہیں، ہم اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہیں، حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے طرزعمل میں سامراجی ذہنیت شامل ہے ،ایک رپورٹ کے مطابق اس کے ڈونرز اس کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں ، جن میں مختلف ممالک شامل ہیں اور سب سے بڑا شیئر ہولڈر امریکہ کا ہے، جس کا شیئر 16.5فیصد ہے ،

آئی ایم ایف کو بعض فیصلے 85 فیصداکثریت سے کرنے ہوتے ہیں، اس لیے جب امریکہ سامنے آتا ہے تو یہ آئی ایم ایف پر بھی ویٹو کردیتا ہے، امریکہ کی دہشت گردی صرف یواین او میں ہی نہیں ہورہی ہے، بلکہ اس کی دہشت گردی پورے عالمی معاشی نظام پر ہو رہی ہے جس آئی ایم ایف کا پہاڑا پڑھتے ہوئے ہمارے حکمران تھکتے نہیں ہیں، اس کے پروگرام میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ پاکستانی حکومت لیوی کو لازمی وصول کرے گی،

حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اگراس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو مریم نواز نے گیارہ ارب روپے کاجہاز کیسے لیا؟ 6.6ارب روپے کی گاڑیوں کاآرڈر کیوں دیا گیا؟  بیورو کریٹس ،وزریروں ،مشیروں کے پاس اربوں کھربوں کی گاڑیاں کیوں موجود ہیں؟ یہ سب فری بجلی اور پیٹرول کیوں استعمال کرتے ہیں ،

انہوں نے کہا کہ 13سو ارب روپے کی کرپشن ایف بی آر نے کی ہے ،پاکستان کے بینکوں میں اس وقت موجود 38ہزار ارب روپے کے ڈپوزٹس میں سے 40 فیصد کرنٹ اکاؤنٹ ہیں، جس نے اپنے پیسے جمع کرائے وہ ایک فیصد بھی سود نہیں لے رہا، ہم نے پیسے دیے ہم سود نہیں لے رہے، یہ ہمارے پیسوں سے حکومت کو قرضہ دے رہے ہیں اور حکومت 11فیصد سود لگا کر پیسے واپس کررہی ہے، یہ گیارہ فیصد حکومت ملک میں موجود غریب طبقے سے لے رہی ہے،

حکومت کا یہ کہنا کہ سود کی شرح کم کرنے سے سے مہنگائی بڑھ جائے گی،سراسر دھوکہ ہے، صرف 3فیصدشرح کم کرنے سے لیوی بالکل ختم ہوجائے گی، حکمران جماعتوں میں مافیاز کا راج ہے، جو ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، ہمارے ملک میں لوگوں کو مختلف ناموں، خاندانوں، شخصیات کے پیچھے لگا کر اصل ایشوز سے ہٹا دیا جاتا ہے،

پریس کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، نائب امراء سیف الدین ایڈوکیٹ ،مسلم پرویز ، راجہ عارف سلطان، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فارو ق، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی بھی موجود تھے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں