میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جب سب دیکھ رہے ہوں اور کوئی کچھ نہ کرے!

جب سب دیکھ رہے ہوں اور کوئی کچھ نہ کرے!

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۷ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ کا سب سے خوفناک منظر ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جہاں ایک ظالم کسی بے گناہ پر ہاتھ اٹھا رہا ہو، کبھی اس سے زیادہ خوفناک منظر وہ
ہوتا ہے جہاں ایک انسان ظلم کر رہا ہو، دوسرا ظلم سہہ رہا ہو، اور اردگرد کھڑے سو لوگ خاموشی سے دیکھ رہے ہوں۔ قاتل صرف وہ شخص نہیں ہوتا جو خنجر چلاتا ہے۔ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے بڑا جرم ان آنکھوں میں بھی لکھا جاتا ہے جو سب کچھ دیکھتی ہیں مگر اپنے اندر سے یہ آواز نہیں آنے دیتیں کہ اب مجھے کچھ کرنا چاہیے۔نفسیات نے اس کیفیت کو ایک نام دیا:Bystander Effect، تماشائی اثر۔اس کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ جب کسی مشکل، حادثے یا ظلم کے سامنے ایک شخص اکیلا ہو تو اس کے مدد کرنے کا امکان نسبتاً زیادہ ہوسکتا ہے، لیکن جب اردگرد بہت سے لوگ موجود ہوں تو ہر شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید کوئی دوسرا آگے بڑھے گا۔ یوں ذمہ داری تقسیم ہوتے ہوتے آخرکار تقریباً غائب ہوجاتی ہے۔ Darley اور Latan-E9 نے اسے

Diffusion of Responsibility ذمہ داری کا پھیلاؤ قرار دیا۔
یہ صرف نفسیات کا ایک تجرباتی تصور نہیں؛ یہ انسانی تہذیب کے اندر چھپی ہوئی ایک پرانی بیماری ہے۔1964 میں نیویارک میں Kitty Genovese کے قتل کے واقعے نے اس سوال کو عالمی سطح پر نمایاں کردیا کہ لوگ کسی انسان کی مدد کیوں نہیں کرتے۔ بعد کی
تحقیق نے اس واقعے کی مشہور اخباری روایت میں مبالغے کی نشاندہی بھی کی، اس لیے اسے نفسیاتی اصول کا سادہ یا مکمل ثبوت سمجھنا درست
نہیں؛ لیکن اسی واقعے کے بعد Darley اور Latan-E9 نے باقاعدہ تجربات کیے اور دکھایا کہ دوسرے لوگوں کی موجودگی بعض حالات
میں مداخلت کے احساس کو کم کرسکتی ہے۔اصل المیہ یہاں شروع ہوتا ہے:انسان ظلم سے پہلے نہیں، اپنی ذمہ داری سے بھاگتا ہے۔قدیم یونانی فلسفہ بار بار انسان کو اس کے اخلاقی فرض کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ سقراط کے ہاں سوال محض یہ نہیں تھا کہ "سچ کیا ہے؟” بلکہ یہ بھی تھا کہ سچ جاننے کے بعد انسان کرے کیا؟ افلاطون کی ریپبلک میں غار کا استعارہ ہمیں ایسے انسانوں کی دنیا دکھاتا ہے جو حقیقت کے بجائے سایوں کو دیکھتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی سایوں سے مانوس ہوکر حقیقت کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتے۔ ارسطو نے انسان کو Zoon Politikon، یعنی سیاسی و اجتماعی مخلوق کہا۔ اس تصور کا ایک گہرا اخلاقی نتیجہ یہ ہے کہ انسان معاشرے سے الگ کوئی مکمل اخلاقی وجود نہیں۔ اگر شہر جل رہا ہو تو شہری کا یہ کہنا کہ "میں نے آگ نہیں لگائی” کافی نہیں؛ سوال یہ بھی ہے کہ جب آگ لگی تو تم نے کیا کیا؟یہی سوال صدیوں بعد Dostoevsky کے ادب میں ایک اور خوفناک شکل اختیار کرتا ہے۔ THe Brothers karamazov میں فرد، آزادی، گناہ، ذمہ داری اور انسانی اخلاقیات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

دوستوئیفسکی کا انسانی المیہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان اپنے جرم سے زیادہ اپنے ضمیر کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ کبھی وہ براہِ راست ظلم نہیں کرتا، مگر ظلم کی دنیا میں اپنی خاموشی کے ذریعے شریک ہوجاتا ہے۔Camus کے ہاں انسان ایک ایسی کائنات میں کھڑا ہے جہاں معنی خود بخود فراہم نہیں کیے جاتے۔ The

Plague میں وبا صرف بیماری نہیں؛ وہ انسانی معاشرے کا اخلاقی امتحان بھی بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر Rieux کا کردار اس لیے اہم ہے کہ وہ دنیا کو مکمل طور پر بدل دینے کے دعوے کے بجائے اپنے حصے کا کام کرتا ہے۔ وبا کے درمیان انسان ہونے کا مطلب یہی ہے کہ تم یہ نہ کہو کہ "سب کچھ میرے اختیار سے باہر ہے”، بلکہ یہ پوچھو: جو کچھ میرے اختیار میں ہے، میں اس کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟یہاںHannah Arendt کی Eichmann in Jerusalem اور اس کا تصور "Banality of Evilــ ایک اور دروازہ کھولتا ہے۔ برائی ہمیشہ کسی دیوانے، خونخوار درندے یا غیر معمولی شیطان کے چہرے سے نہیں آتی، کبھی وہ معمول کے کام، حکم کی پابندی، فائلوں، دفتری زبان اور "میں تو صرف اپنا کام کر رہا تھا” کے پردے میں داخل ہوتی ہے۔ Arendt کے تجزیے میں

سوچنے سے انکار اور دوسرے انسان کے نقط نظر کو دیکھنے کی ناکامی انتہائی خطرناک بن جاتی ہے۔ یہاں Bystander Effect اور Banality of Evil ایک دوسرے سے گفتگو کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ایک کہتا ہے:”کوئی دوسرا مداخلت کرے گا۔”دوسرا کہتا ہے:”میں تو صرف اپنا کام کر رہا تھا۔”اور ظلم کہتا ہے:”شکریہ، مجھے یہی خاموشی چاہیے تھی۔

جارج آرویل کی 1984 میں زبان، خوف اور طاقت کے ذریعے حقیقت کو بدلنے کا تصور اسی انسانی کمزوری کی ایک سیاسی شکل ہے۔ جب معاشرہ مسلسل جھوٹ سنتا ہے اور لوگ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں تو جھوٹ صرف حکمران کا ہتھیار نہیں رہتا؛ وہ اجتماعی حقیقت بننے لگتا ہے۔ Primo Levi نے

نازی کیمپوں کے تجربے میں انسان، ظلم، اطاعت اور اخلاقی پیچیدگی کے انتہائی تاریک گوشوں کو دیکھا۔ ان کی تحریریں یاد دلاتی ہیں کہ تہذیب کا لباس بہت باریک ہے۔ قانون، ادارے، تعلیم، مذہب اور ثقافت سب موجود ہوسکتے ہیں، مگر اگر انسان کی اخلاقی ذمہ داری مر جائے تو تہذیب کا پورا ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہوسکتا ہے۔اور شاید اسی لیے Sartre کا فلسفۂ آزادی بھی یہاں اہم ہوجاتا ہے۔ آزادی صرف یہ اختیار نہیں کہ میں کیا چاہتا ہوں،آزادی کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ میرے انتخاب کی ذمہ داری بھی میری ہے۔ انسان بعض اوقات اپنی آزادی سے بچنے کے لیے خود کو حالات، ریاست، ہجوم، روایت یا حکم کے پیچھے چھپا لیتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں Bystander Effect محض نفسیاتی اصطلاح نہیں رہتا، وہ انسانی تہذیب کا آئینہ بن جاتا ہے۔
تاریخ میں جنگیں صرف سپاہیوں نے نہیں لڑیں؛ انہیں کبھی خاموش معاشروں نے بھی ممکن بنایا۔ آمریت صرف آمر کی طاقت سے قائم نہیں رہتی، اسے خوف زدہ خاموشی، مفاد پرستانہ مصلحت اور اجتماعی بے عملی بھی سہارا دیتی ہے۔ نسل پرستی صرف نفرت کرنے والوں سے نہیں پھیلتی، وہ ان لوگوں کی خاموشی سے بھی طاقت حاصل کرتی ہے جو کہتے ہیں:”ہمیں سیاست سے کیا؟”یہ جملہ بظاہر معصوم ہے، مگر بعض
اوقات تاریخ کے سب سے خطرناک جملوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔کیونکہ ظلم کا پہلا محافظ ہمیشہ تلوار نہیں ہوتا؛کبھی خاموشی ہوتی ہے۔اور
خاموشی کی سب سے خطرناک شکل وہ ہے جو اخلاقی جواز کے ساتھ آتی ہے۔”میں اکیلا کیا کرسکتا ہوں؟”یہ جملہ انسان کو بری الذمہ محسوس
کراتا ہے۔ مگر یہی توDiffusion of Responsibility ہے۔ جب ہزاروں لوگ موجود ہوں تو ہر شخص اپنی ذمہ داری کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا دوسروں کے درمیان بانٹ دیتا ہے، یہاں تک کہ ظلم کے سامنے کوئی بھی خود کو مکمل طور پر ذمہ دار محسوس نہیں کرتا۔لیکن تاریخ کا ایک دوسرا چہرہ بھی ہے۔ہر ہجوم بزدل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات لوگوں کی موجودگی انسان کو خاموش نہیں بلکہ بہادر بناتی ہے۔ جدید تحقیق بھی بتاتی ہے کہ bystander effect کوئی آفاقی قانون نہیں؛ بعض حالات میں دوسرے لوگ اخلاقی مداخلت کو تقویت بھی دے سکتے ہیں۔یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ کھڑے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ان کے اندر کون سا انسان کھڑا ہے۔ایک شخص ہجوم میں بھی اکیلا ہوسکتا ہے، اور ایک شخص تنہا کھڑے ہوکر پوری انسانیت کی نمائندگی کر سکتا ہے۔سقراط نے طاقتوروں کے سامنے سوال اٹھایا۔Jesus کی روایت میں

کمزور اور محروم کے ساتھ کھڑے ہونے کا اخلاقی تصور سامنے آتا ہے۔ٹا لسٹائی نے ریاست، جنگ اور اخلاقی ضمیر کے تضادات کو چھیڑا۔مارٹن لوتھر کنگ نے خاموشی کو انصاف کے خلاف ایک اخلاقی مسئلہ بنایا۔ان سب میں ایک مشترک سوال سنائی دیتا ہے، جب سب خاموش ہوں تو تم کیا کرو گے؟یہی سوال پاکستان کی تاریخ میں بھی بار بار ہمارے سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں جمہوریت، آمریت، سیاسی جبر، کرپشن، ناانصافی، جبری خاموشی، خوف اور طاقت کے مختلف ادوار آئے۔ ہر دور میں صرف حکمران یا ادارے تاریخ نہیں لکھتے رہے؛ عوام، دانشور، صحافی، سیاسی کارکن، اہلِ علم اور عام شہری بھی اپنی خاموشی یا مزاحمت کے ذریعے تاریخ کا حصہ بنتے رہے۔ہم نے بارہا دیکھا کہ جب کسی ایک شخص پر ظلم ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں:”اس کا معاملہ ہے۔”جب کسی صحافی کو دھمکی ملتی ہے:”ہمیں کیا؟”جب کسی غریب کا حق چھینا جاتا ہے:”یہ تو روز ہوتا ہے۔”جب کرپشن سامنے آتی ہے:”سب ہی کرتے ہیں۔” اور جب ظلم معمول بن جائے تو سب سے خطرناک جملہ پیدا ہوتا ہے:”اب اس ملک میں یہی ہوتا ہے۔”یہ جملہ دراصل ظلم کی آخری فتح ہے۔کیونکہ جب معاشرہ ظلم سے نفرت کرنا چھوڑ کر اسے معمول سمجھنے لگے تو ظالم کو ہر بار طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہتی؛ معاشرہ خود اپنے اندر خاموش محافظ پیدا کرلیتا ہے۔پاکستانی تاریخ کا المیہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس طاقتور لوگ رہے؛ المیہ یہ بھی ہے کہ کئی مواقع پر طاقت کے سامنے اجتماعی اخلاق کمزور پڑا۔ لیکن اسی تاریخ میں مزاحمت، قربانی، صحافت، سیاسی جدوجہد، عدالتی اور شہری مزاحمت کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ اس لیے پاکستانی انسان کو صرف "تماشائی” سمجھ لینا بھی ناانصافی ہوگی۔اصل جنگ آج بھی یہی ہے:تماشائی بننا ہے یا انسان؟کیونکہ تماشائی صرف دیکھتا ہے۔شہری ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔تماشائی کہتا ہے:”کوئی اور کرے گا۔” باشعور انسان کہتا ہے:”اگر کوئی اور نہیں کر رہا تو شاید اب میری باری ہے۔”اور شاید انسانی تاریخ کا اصل ارتقا پتھر سے پہیے تک، غار سے شہر تک، بادشاہت سے جمہوریت تک نہیں؛ شاید اصل ارتقا یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ یہ سیکھے کہ دوسرے کے دکھ کے سامنے کھڑا ہونا بھی
اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔Bystander Effectہمیں انسان کے اندر چھپی ہوئی بزدلی دکھاتا ہے؛ مگر اخلاق ہمیں اس بزدلی سے

باہر نکلنے کا راستہ دیتا ہے۔تاریخ کا ہر ظالم ایک دن ختم ہوجاتا ہے، ہر تخت مٹی میں مل جاتا ہے، ہر آمریت کا سورج ڈوبتا ہے؛ مگر ایک سوال
باقی رہتا ہے:جب ظلم ہورہا تھا، تم کہاں تھے؟شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہ نہیں پوچھیں گی کہ ہمارے زمانے میں کتنے ظالم تھے۔وہ
صرف یہ پوچھیں گی:”جب تم سب کچھ دیکھ رہے تھے، تو تم نے خاموش رہنے کا انتخاب کیوں کیا؟”اور اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں
ہوگا۔کیونکہ بعض اوقات تاریخ میں جرم وہ نہیں ہوتا جو انسان نے کیا؛جرم وہ بھی ہوتا ہے جو انسان کر سکتا تھا، مگر اس نے یہ سوچ کر نہیں کیا
کہ کوئی دوسرا ضرور کرے گا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں