میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، بوسیدہ عمارتوں پر اضافی منزلیں، لیاقت آباد میں خطرے کی گھنٹی

سندھ بلڈنگ، بوسیدہ عمارتوں پر اضافی منزلیں، لیاقت آباد میں خطرے کی گھنٹی

جرات ڈیسک
هفته, ۲۶ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پلاٹ نمبر 590، 593پر چھٹی منزلوں کی تعمیر شروع، مکینوں کی جانوں کو خطرات لاحق

بلڈنگ انسپکٹر عامر علی، ضیاء کالا کاگٹھ جوڑ ،غیر قانونی تعمیرات تیز، ڈی جی کی چشم پوشی برقرار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیاقت آباد کی تنگ و گنجان گلیوں میں پہلے سے موجود متعدد منزلہ عمارتوں پر مزید منزلوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہونے پر علاقہ مکینوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مکینوں کے مطابق پلاٹ نمبر 590 اور 593 پر چھٹی منزلوں کی تعمیر شروع کردی گئی ہے ، جس کے باعث اردگرد رہائش پذیر خاندانوں میں عمارتوں کی سلامتی اور جان و مال کے تحفظ سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ گلیوں کی تنگی کے باعث ہنگامی صورت حال میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ کمزور یا پرانی عمارتوں پر اضافی منزلوں کی تعمیر سے عمارتوں پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے ، اس لیے ہر تعمیر کی منظوری، نقشے اور ساختی حیثیت کی جانچ ضروری ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے موقع کا معائنہ کرکے یہ واضح کریں کہ مذکورہ تعمیرات منظور شدہ نقشوں اور مقررہ بلڈنگ قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب ذرائع نے بلڈنگ انسپکٹر عامر علی اور ضیاء کالا کے مبینہ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے باعث علاقے میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات میں تیزی آئی ہے۔

ذرائع نے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد کی مبینہ چشم پوشی کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے ،جبکہ متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے آنا بھی باقی ہے۔

علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیاقت آباد میں جاری تعمیرات کا فوری معائنہ، منظور شدہ نقشوں اور اجازت ناموں کی جانچ کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے پہلے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جاسکیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں