میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
افغان مہاجرین کی ملک بدری

افغان مہاجرین کی ملک بدری

جرات ڈیسک
هفته, ۲۶ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف مختلف میزبان ممالک (جیسے ایران، ترکیہ اور جرمنی) میں سخت کریک ڈاؤن اور ملک بدری کا عمل تیز ہو چکا ہے۔ایران میں غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف شکنجہ سخت ہے اور ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے، جہاں رواں سال اب تک لاکھوں افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ ترکیہ میں بھی افغان باشندوں کی گرفتاریاں اور انسانی سمگلروں کیخلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ سکیورٹی خدشات اور قوانین کی سختی کے باعث دیگر ممالک میں بھی غیر قانونی مہاجرین کو واپس بھیجنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔تاہم اقوام متحدہ (UN) اور انسانی حقوق کے اداروں نے میزبان ممالک سے جبری بے دخلی کے اس عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کی نئی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی افغان مہاجرین کا دنیا بھر میں پھیلاؤ میزبان ممالک کیلئے قومی سلامتی کا سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ رواں سال ایران سے 4 لاکھ 39 ہزار سے زائدغیرقانونی افغان مہاجرین کو ملک بدر کردیا گیا۔ملک بدر کئے جانے والوں میں 86 فیصد افغان قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم اورغیر رجسٹرڈ تھے، غیر قانونی افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی سے افغانستان میں رہائش، روزگار اوربنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اب تک سینکڑوں افغان نوجوان پْرخطرراستوں کے ذریعے ایران میں داخل ہونے کی کوشش میں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔معاشی و سیکیورٹی ماہرین کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اورعالمی قوانین کی عدم پاسداری نے افغانستان کو دنیا سے الگ تھلگ کردیا جس کا خمیازہ عام افغان شہری بھگت رہے ہیں۔ایران کا سخت کریک ڈاؤن اور ملک بدری ثابت کرتی ہے کہ خطے کے ممالک اب غیر قانونی نقل و حرکت اور سیکیورٹی رسک برداشت نہیں کرینگے۔ترکیہ میں غیر قانونی افغان مہاجرین ، میزبان ممالک کی داخلی سیکیورٹی اور امن و امان کیلیے سنگین چیلنج بن گئے ہیں۔جرمنی اور ایران کے بعد ترکیہ میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کردیا گیا ہے اور نئی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔معروف افغان نشریاتی ادارے افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پولیس نے شرناق اور بایبرت میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے 15 افغان مہاجرین سمیت 6 انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا اور بایبرت میں پناہ گزینوں کو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کروانے والے انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے 3 افغان کارندے گرفتار کئے جبکہ 1 کوعدالتی حکم پر جیل منتقل کردیا۔ترک حکام نے حراست میں لیے گئے تمام افغان باشندوں کو ملک بدری کے مراکز منتقل کر کے افغانستان واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

ترک محکمہ ہجرت نے غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف سخت ترین پالیسی اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی اور سخت سرحدی نگرانی، تارکین وطن کی گرفتاریوں اور فوری ملک بدری کا عمل جاری رہے گا۔اقوام متحدہ کے مطابق ترکیہ نے غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپناتے ہوئے رواں سال 13500افغان پناہ گزینوں کو گرفتار اور ڈیپورٹ کیا ہے جبکہ عالمی ماہرین کے مطابق غیر قانونی افغان تارکین کی سیکیورٹی اسکریننگ نہ ہونا خطرناک خلا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر انتہا پسند عناصر پناہ گزین کے روپ میں میزبان ممالک میں سلیپر سیلز قائم کر سکتے ہیں۔افغان مہاجرین کے بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے میزبان ممالک اب انسانی ہمدردی سے زیادہ اپنے قومی مفاد اور سلامتی کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔ ترک حکام نے گرفتار کیے افغان باشندوں کو ملک بدری مراکز منتقل کر کے افغانستان واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی مہاجرین کیخلاف ترکیہ کا بڑا ایکشن تیز کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور سخت سرحدی نگرانی، گرفتاریوں اور فوری ڈیپورٹیشن کی پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ترکیہ رواں سال اب تک 13 ہزار 500 سے زائد افغان پناہ گزینوں کو گرفتار اور ڈیپورٹ کر چکا ہے، جبکہ غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی مزید سخت کی جا رہی ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی مکمل سیکیورٹی سکریننگ نہ ہونا ایک بڑا خطرناک خلا ثابت ہو سکتا ہے، جس سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا کر مختلف ممالک میں سلیپر سیلز قائم کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے جرائم اور سیکیورٹی خدشات کے باعث میزبان ممالک اب انسانی ہمدردی سے زیادہ اپنی قومی سلامتی اور داخلی استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دیں جبکہ پشاور میں افغان مہاجرین کو کرائے پر گھر اور فلیٹس دینے والے مالکان کو بھی نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کی مقررہ ڈیڈ لائن کے قریب آتے ہی افغانستان واپس جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔11سے 16 جولائی کے دوران 23ہزار 336 افغان باشندے وطن واپس جا چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پشاور کے مختلف علاقوں میں افغان مہاجرین کو کرائے پر رہائش فراہم کرنے والے مالکان کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں سے گھر اور فلیٹس خالی کرائیں۔انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں