میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مصطفی عامر قتل کیس، انسداد دہشتگردی عدالت کی نشست خالی ہونے کا انکشاف

مصطفی عامر قتل کیس، انسداد دہشتگردی عدالت کی نشست خالی ہونے کا انکشاف

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۳ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

سندھ ہائیکورٹ میں سماعت، ملزم ارمغان کا عدالتی نوٹس وصول کرنے سے انکار، سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ ہائیکورٹ میں مصطفی عامر قتل کیس کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران متعلقہ انسداد دہشتگردی عدالت کی نشست خالی ہونے اور ملزم ارمغان کی جانب سے عدالتی نوٹس وصول نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے مقتول کی والدہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے بھی کیس جلد نمٹانے کی ہدایت کی گئی تھی اگر متعلقہ عدالت فعال ہی نہیں تو ہدایت کس کو دی جائے؟

معمول میں تو ملزمان کی درخواستیں آتی ہیں کہ ان کے کیسز جلد مکمل کیے جائیں، سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کیس کیوں نہیں چلانا چاہتے۔تفتیشی افسر محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ انسداد دہشتگردی عدالت خالی ہے کیونکہ فاضل جج کی تعیناتی کی مدت مکمل ہوچکی ہے۔

عدالت کو جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ سے آگاہ کیا گیا کہ ملزم ارمغان نے جیل میں عدالتی نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا۔ مقتول مصطفی عامر کی والدہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے ملزم کے وکیل کو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب ملزم خود نوٹس وصول نہیں کررہا تو وکیل اپنے موکل کی ہدایت کے بغیر کیسے پیش ہوسکتا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے تمام صورتحال کے پیش نظر ملزم کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ مصطفی عامر کی والدہ نے کیس میں غیر ضروری تاخیر کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جبکہ انسداد دہشتگردی عدالت کی سابقہ رپورٹ میں ٹرائل میں تاخیر کا ذمہ دار ملزم ارمغان اور اس کے وکیل کو قرار دیا گیا تھا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں