میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
احتجاجی تحریک کیا رخ لے گی؟

احتجاجی تحریک کیا رخ لے گی؟

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۳ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان تحریک انصاف کی 27 ستمبرکی احتجاجی تحریک کو روکنے کے لیے حکومت نے بانی تحریک انصاف کی بہنوں کو اور کئی پارلیمنٹرین
اور خیبر پختون خواہ کے وزراء کو گرفتار کرلیا ہے ۔اسلام آباد جانے والے راستے بند کردیے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ کیا
سلوک ہوگایاکوئی معاہدہ ہوگا؟

یہ وہ منظر ہے جو سامنے نظر آرہا ہے پردے کے پیچھے کیا ہورہا ہے کسی کو نہیں معلوم۔ صر ف اندازے لگائے جا سکتے جو حقیقت سے بہت
دور ہوسکتے ہیں، ہوسکتا ہے کسی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہوکہ پی ٹی آئی کے خلاف سخت اقدام اٹھایا جائے تو صوبوں کے لیے رضامندی مل
جائے گی ،بعض مبصرین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کوئی بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ شاید موجودہ سیاسی نظام برقرار نہیں رہ سکے گا۔ یہ سب
خیال آرائیاں ہیں، حقیقت یہ ہے سیاسی حرارت اور کشیدگی میں بھی بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے پی ٹی آئی اور اس
کے حامیوں میں غصہ فطری امر ہے۔ پاکستان میں اتوار20 ستمبر سے جماعت اسلامی،25ستمبر سے کسانوں کی جماعت اور 27 ستمبر سے
پی ٹی آئی علیحدہ علیحدہ احتجاجی تحریک شروع کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا مارچ شروع ہوچکا ہے جس کا مرکز اسلام آباد ہوگا لیکن ان
تینوں احتجاج کے اثرات ملک بھر میں ہوں گے، حکومتی وزراء نے پی ٹی آئی کو چیلنج کردیا ہے کہ عمران خان کے لیے لوگ باہر نہیں نکلیں گے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے 700کارکن گرفتار کرلیے گئے ہیں وہ
مزید زور شور سے نکلیں گے، جبکہ خیبر پختون خواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تقریباً دو ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن وہ بہت
بڑی تعداد میں لوگو ں کو احتجاجی تحریک میں شامل کر رہے ہیں جو صورت حال پنجاب میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو عوام سے دور کرنے کے
لیے پیش آئی تھی، اس میں ممکنہ طورپر بعض راہ گیر بھی گرفتار کرلیے گئے جس سے گرفتار شدہ افراد کی تعداد کا تعین مشکل ہوگا گرفتاریوں سے بھی
حالات بھی مزید کشیدہ ہوجاتے ہیں۔

اس وقت اسلام آباد جانے والے راستوں پر بہت بڑی تعداد میں کنٹینر لگا دیے گئے ہیں آنے جانے کے لیے بہت کم جگہ رکھی گئی ہے،
جسے کسی وقت بھی بند کیا جا سکتا ہے۔ حکومت میں شامل جماعتوں اورحکومت سے باہر جماعتوں کے درمیا ن اس کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے
خود حکومت بھی اس وجہ سے پریشانی کی کیفیت میں ہے کہ جب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 30جولائی کو پاکستان کی معیشت کے
بارے میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘‘ ـ جس نظا م میں ہم رہ رہے ہیں وہ تباہ ہو چکا ہے’’ اس کے بعد
سے حکومت نے ان الفاظ کو اپنے لئے خطرہ سمجھا ۔ہر طرف بے چینی کے آثا ر نظر آنے لگے۔ سندھ اسمبلی میں سندھ کی ممکنہ تقسیم کے خلاف
دھواں دھار تقریروں کے بعدایک قرارداد منظور کر لی گئی۔ اس طرح صوبوں یا انتظامی یو نٹ کی تجویز کو رد کردیا گیا ۔ما ضی کا سبق یہی ہے کہ
پاکستان میں نیا نظام عوام کی مرضی اور شمولیت کے بغیر کارگر نہیں ہوگا۔ موجودہ حالات کی کشیدگی کی وجہ حکمران جماعتوں اور مخالفین میں
مہنگائی اور عمران خان کی صحت کے بارے میں ٹکڑاؤ بھی ہے ۔فی الحال بر سر اقتدار جما عتیں اپنا تسلط ختم کرنے اور مخالف جماعتوں کی بات
ماننے یا عمران خان کا طبی معائنہ عمران خان کے ذاتی معالج اور ان کی ایک بہن کی موجودگی میں کرنے کو تیار نہیں ہیں،نہ ہی ان سے کسی کو
ملنے دیا جارہاہے ۔عمران خان کی بہنیں خدشہ ظاہر کررہی ہیں کہ انہیں جیل میں موت کی آغوش میں دھکیلا جارہاہے ۔اسی قسم کا خدشہ کرکٹ
کے ایک سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل بھی ظاہر کرچکے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے بیا ن دیا کہ بانی تحریک انصاف جیل میں مر
جائیں گے۔ ان تمام باتوں کے حقائق اس وقت ہی سامنے آسکتے ہیں جب کسی غیر جانبدار معتبرشخصیت سے بانی تحریک انصاف کی ملاقات
کرادی جائے یا سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان کا علاج کرادیا جائے۔

خرابی کی اصل جڑ مینڈیٹ سے محروم حکومت ہے جو کئی سال گزرنے کے باوجود عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی ،جو آئین میں
ایسی ترامیم کرچکی ہے جس کے نتیجے میں انصاف کے اداروں پر عمومی طور پر سوال اٹھایا جاتاہے اور کہا جاتا ہے کہ اب انتظامیہ ہی سب کچھ
ہے۔ اسمبلیوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔شاید انتظامیہ میں یہ خیال پایا جا رہا ہے کہ اوپر سے نیچے تک نظام کو تبدیل کردیا جائے ۔

پاکستان میں جاری صورتحال کا حل اس لیے بھی نظر نہیں آتا کہ عمومی طور پر پورا معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہے۔ اشرافیہ دولت اور عہدوں کی
ہوس میں مبتلا ہوکر جائزاور ناجائز کی تمیز کو ختم کرچکی ہے ۔عام لوگوں کی زندگی کی پریشانیوں ،بڑھتی ہوئی غربت اور پسماندگی کی کسی کو پرواہ
نہیں ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ حکومت اس خوف کا شکار ہے کہ لوگ گھروں سے نکل کر اس پورے نظا م کو تہہ و بالا نہ کردیں،جیسا کہ بنگلہ
دیش میں ہوا تھا ۔پاکستان میں اخلاقیات اور ایمانداری کے فقدان کی وجہ سے اس بات کا امکان کم ہے ۔بنگلہ دیشی فوج عوام سے مل گئی تھی
اور پندرہ سال سے حسینہ واجد کی آمرانہ طرز حکومت کا خاتمہ کیا گیا ۔ایک درمیانی مدت کی عبوری حکومت قائم ہوئی جسے طول دینے کے
باوجود عمومی قبولیت حاصل ہوئی عوامی لیگ پر پابندی لگی ۔نئے انتخابا ت کے نتیجے میں بنگلہ ددیش نیشنلسٹ پارٹی نے 209 نشستوں کے
ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کی اور جماعت اسلامی میں نے حیران کن اندازمیں 68نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اپوزیشن کا کردار
شروع کردیا آئین میں ایک بڑی تبدیلی کے ذریعے وزیر اعظم کی مدت دس سال کردی گئی ۔وزیر اعظم کو مکمل انتظامی اختیارات حاصل ہیں
جبکہ مقامی بلدیاتی ادارے مالی معاملا ت میں محدود اختیارات رکھتے ہیں۔ایک آئینی جمہوری نظام بحال ہوچکا ہے جو مستقبل میں بہتر بھی
ہوسکتا ہے ۔بے شمار مسائل کے باوجود بنگلہ دیش کسی حد تک سیاسی اور معاشی استحکا م کی جانب بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں اس کے برخلاف ایک بڑی بحرانی کیفیت ہے جس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آتے ۔سیاسی جماعتیں چور دروازے سے
اقتدار کی طلبگا ر رہتی ہیں جس کی وجہ سے وہ عوام سے دور ہوجاتی ہیں۔ اس وقت احتجاج کرنے اور اسے ناکام بنانے کا میدان سجاہواہے جو
عدم استحکام میں اضافہ کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی پوری قوت سے باہر نکلنے کی تیاری کر رہی ہے ۔معاشی پریشانی کاشکار عوام اس تحریک میں شامل
ہوسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کئی روز تک اس تحریک کو چلا نا چاہتی ہے، جماعت اسلامی علیحدہ سے تحریک چلا رہی ہے، جسے بعض حلقے دوستا نہ
تحریک بھی سمجھتے ہیں۔ جماعت اسلامی عرصہ دراز سے تیاری کررہی تھی ،اس کی راہ میں انتظامیہ نے رکاوٹ نہیں ڈالی۔ اب دیکھنایہ ہے کہ
وہ اسلام آبا د بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچتے ہیں یااندرون خانہ کسی مفاہمت سے یہ تحریک چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی سختیوں کا مقابلہ کررہی ہے
شاید آنے والے دن سیاست کے نئے رخ کا تعین کرنے والے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں