میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تین خزانے

تین خزانے

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۰ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہرانسان کے پاس تھوڑی سی قوت، تھوڑی سی امید اورتھوڑی سی محبت ہوتی ہے ۔ یہ وہ خاصیتیں ہیں جن کے بیج تمام انسانوں میں بو دیے گئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی ان بیجوں کو اپنے اندردفن کرکے رکھتا ہے اورکوئی انہیں دوسروں میں بانٹتا چلا جاتا ہے ۔ جو شخص اپنی قوت صرف اپنے لیے رکھتا ہے ، اس کی قوت ایک دن تھک جاتی ہے ۔ جو اپنی امید کو اپنے دل کی چار دیواری سے باہر نہیں آنے دیتا، اس کی
امید بھی آہستہ آہستہ مدھم پڑنے لگتی ہے ۔ اورجو محبت کو صرف اپنی ذات تک محدود کر لیتا ہے ، اس کے اندر محبت کا موسم بھی زیادہ دیر قائم
نہیں رہتا۔لیکن عجیب بات ہے کہ انسان جب اپنی قوت کسی کمزور کیلئے استعمال کرتا ہے تو خود کمزورنہیں ہوتا، جب کسی مایوس شخص کو امید دیتا
ہے تو اس کی اپنی امید کم نہیں ہوتی، اور جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے دل میں محبت کی جگہ ختم نہیں ہوتی۔ شاید قدرت نے انسان کے
اندر یہی تین خزانے اس لیے رکھے ہیں کہ انہیں جمع کرنے کے لیے نہیں، بانٹنے کیلئے استعمال کیا جائے ۔

مگرسوال یہ ہے کہ ‘‘ قوت ’’ آخر ہے کیا؟ کیا طاقتوروہ ہے جو کسی کو زیر کر دے ،یا وہ جو کسی کو گرنے سے بچا لے ؟ کیا قوت بلند آوازمیں
بولنے کا نام ہے ، یا کبھی اپنی آوازدبا کرکسی کمزور کو بولنے کا موقع دینے کا؟ شاید قوت بازوؤں میں کم اورکردار میں زیادہ ہوتی ہے ۔ اصل
قوت وہ ہے جو اپنے اندر موجود طاقت کو دوسروں کے کام آنے دے ۔ جو خود مشکل میں ہو مگر کسی اورکا سہارا بن جائے ۔ جو راستہ آسان
ہونے کا انتظارنہ کرے بلکہ کسی دوسرے کے لیے راستہ آسان کر دے ۔
کبھی کبھی انسان اپنی پوری قوت لگا کر بھی کسی مسئلے کو حل نہیں کر پاتا، وہ دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہے ، مگر دروازہ نہیں کھلتا۔ وہ راستہ تلاش کرتا
ہے ، مگر راستہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنے حصے کی تمام طاقت خرچ کر دیتا ہے اور ایک مقام پر آکر خاموش بیٹھ جاتا ہے ۔یہ وہ لمحہ ہوتا ہے
جب قوت کے بعد ‘‘ امید ’’ انسان کا ہاتھ پکڑتی ہے ،امید عجیب چیز ہے ۔ اس کا کوئی وزن نہیں، کوئی رنگ نہیں، کوئی شکل نہیں، مگر یہ بوجھ اٹھا
لیتی ہے ۔ ایک بیمار آدمی کو ڈاکٹر کی ایک بات دوبارہ جینے کا حوصلہ دے دیتی ہے ۔ امتحان میں ناکام ہونے والے طالب علم کو استاد کا ایک
جملہ دوبارہ کتاب کھولنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ کاروبار میں سب کچھ ہار جانے والا شخص کسی دوست کی آواز سنتا ہے ، ‘‘ایک بار پھرکوشش کرو’’،
اور شاید اسی ایک جملے سے اس کی اگلی صبح شروع ہوجاتی ہے ۔امید ہمیشہ بڑے واقعات سے پیدا نہیں ہوتی۔ کبھی یہ چائے کے ایک کپ
میں ہوتی ہے ، جو کوئی خاموشی سے غمزدہ شخص کے سامنے رکھ دیتا ہے ۔ کبھی ماں کے ہاتھ کے لمس میں، کبھی باپ کی خاموش پشت پناہی میں،
کبھی دوست کے کندھے پر رکھے ہاتھ میں، اور کبھی کسی اجنبی کے صرف اتنے کہہ دینے میں کہ ‘‘آپ اکیلے نہیں ہیں ’’۔

دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر چل رہے ہوتے ہیں، مگر اندر سے رک چکے ہوتے ہیں۔ چہرہ ہنس رہا ہوتا ہے ، زبان معمول کی باتیں کر رہی ہوتی ہے ، مگر دل کے کسی کونے میں ایک چراغ بجھنے کے قریب ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو شاید دولت نہیں چاہیے ہوتی، بڑے مشورے نہیں چاہیے ہوتے ، انہیں صرف یہ یقین چاہیے ہوتا ہے کہ ‘‘کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ’’۔یہ یقین ہی امید ہے ۔ایک امید سے دوسری امید پیدا ہوتی ہے ،ایک چراغ دوسرے چراغ کو روشن کرتا ہے ، مگر اس کی اپنی روشنی کم نہیں ہوتی،بس یہی انسان کی اصل دولت ہے۔ لیکن ابھی اس سفر کی ایک منزل باقی ہے ۔کیونکہ قوت انسان کو اٹھا سکتی ہے ، امید اسے آگے بڑھا سکتی ہے ۔ مگر اسے دوسرے انسان کے قریب کون لے جاتا ہے ؟وہاں ‘‘محبت ’’ کھڑی ہے ۔

محبت شاید انسان کے اندررکھی گئی وہ واحد دولت ہے جس کا حساب کسی ترازو سے نہیں کیا جاسکتا۔ اسے نہ خریدا جاسکتا ہے ، نہ کسی بینک
میں جمع کرایا جاسکتا ہے ، نہ کسی الماری میں محفوظ رکھا جاسکتا ہے ۔ یہ صرف محسوس کی جاسکتی ہے اور دی جاسکتی ہے ۔ محبت کا مطلب ہمیشہ کسی
کو گلے لگانا یا بڑے بڑے الفاظ کہنا بھی نہیں۔ کبھی محبت یہ ہوتی ہے کہ ماں اپنے بچے کے چہرے سے اس کا دکھ پڑھ لے ۔ کبھی باپ اپنی
پریشانی چھپا کربچوں کے سامنے مسکرا دے ۔ کبھی دوست فون کرکے صرف اتنا پوچھ لے ، ‘‘تم ٹھیک ہو؟ ’’ اور کبھی کوئی اجنبی سڑک پر گرے ہوئے شخص کو اٹھانے کے لیے اپنا سفر روک دے ۔دنیا شاید انہی چھوٹی چھوٹی محبتوں کی وجہ سے ابھی تک قائم ہے ۔ہم اکثرمحبت کو حاصل کرنے کی خواہش میں رہتے ہیں، مگرمحبت کی اصل خوبصورتی شاید حاصل کرنے میں نہیں، دینے میں ہے ۔

محبت یہی ہے !!

کسی کے دکھ کو دیکھ کر اپنی رفتار تھوڑی کم کردینا۔ کسی کی خاموشی میں چھپی ہوئی آواز سن لینا۔ کسی کے پاس بیٹھ جانا، حالانکہ آپ کے پاس اس کے مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ محبت کے لیے بہت کچھ ہونا چاہیے ، حالانکہ محبت کے لیے صرف ’’ دل کا زندہ ہونا ‘‘ کافی ہے۔ ایک عجیب حقیقت یہ بھی ہے کہ جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے صرف فائدہ تلاش کرنے لگیں، وہاں رشتے باقی رہتے ہوئے بھی اندر سے خالی ہوجاتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مگر ایک دوسرے کو محسوس نہیں کرتے ۔ گفتگو ہوتی ہے ، مگر دل تک رسائی نہیں ہوتی۔پھرانسان کے پاس گھر ہوتا ہے ، مگراپنائیت نہیں۔ دوست ہوتے ہیں، مگر تنہائی ختم نہیں ہوتی۔ ہجوم ہوتا ہے ، مگر ساتھ کوئی نہیں ہوتا۔محبت اس خلا کو بھرتی ہے ۔اورشاید یہی وجہ ہے کہ قوت، امید اورمحبت کو الگ الگ سمجھنا بھی درست نہیں۔ جس کے دل میں محبت ہو، وہ اپنی قوت کسی کے کام لاتا ہے ۔ جس کے اندر محبت ہو، وہ کسی مایوس انسان کو امید دیتا ہے ۔ اور جسے کسی کی محبت مل جائے ، اس کے اندر دوبارہ قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔یہ تینوں دراصل ایک ہی چراغ کی تین روشنیاں ہیں۔قوت کسی کو اٹھاتی ہے ، امید اسے چلنا سکھاتی ہے ، اورمحبت اسے یہ احساس دیتی ہے کہ اس سفر میں وہ اکیلا نہیں۔

آخرکاربات پھروہیں آکرٹھہرجاتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ ہرانسان کے پاس تھوڑی سی قوت، تھوڑی سی امید اورتھوڑی سی محبت ہوتی ہے ، یہ وہ خاصیتیں ہیں،جن کے بیج تمام انسانوں میں بو دیے گئے ہیں۔ اگروہ انھیں خود تک محدود رکھتا ہے تو یہ بیج جلد گل سڑکر، مرجاتے ہیں۔ اوراگروہ انھیں دوسروں کو بانٹ دیتا ہے تو یہ بے پناہ ذخیرہ کبھی ختم ہی نہیں ہوپاتا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں