میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر

سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان نہ ٹوٹنے والا تاریخی رشتہ ہے

سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے ہمارا عزم غیر مشروط ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا، سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے ہمارا عزم غیر مشروط ہے، یہ دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان نہ ٹوٹنے والا تاریخی رشتہ ہے۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، حرمین شریفین کی حفاظت کیلئے وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے ہمارا عزم غیر مشروط ہے، یہ دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان نہ ٹوٹنے والا تاریخی رشتہ ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کا دفاع کرتے رہیں گے، سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان ہر قسم کی قربانی دینے اور کسی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے حوالے سے پاکستانی عزم غیر متزلزل ہے۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان ہر سطح پر تعاون جاری رکھے گا اور کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ دفاعی تعلقات اور معاہدوں کی بنیاد پر دونوں ممالک باہمی اعتماد کے ساتھ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کیلئے کوشاں ہیں۔

اس سے قبل ایک اور انٹرویو میں مکہ معاہدے کے کسی ایک فریق پر حملے پر پاکستان کے ردِعمل سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو کبھی بھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، کسی حملے کا ردِعمل کیا ہو گا، تینوں ممالک لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق اس پر عمل درآمد کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مکہ معاہدے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، سب سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن برقرار رکھنا ہے، دفاع سے متعلق دوسرے معاہدے بھی ہیں، جن میں ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانیاں ہیں، آپ دراصل یہ پوچھ رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت کیسے کارروائی کی جائے گی، فوجی کارروائیوں اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں، کسی بھی کارروائی کا فیصلہ ان تینوں ممالک نے کرنا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں