میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
طاقت مرکز معاشرہ اور ڈاکٹر عارف ساقی

طاقت مرکز معاشرہ اور ڈاکٹر عارف ساقی

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۶ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

یہ طاقت مرکز معاشرے کی ایک مسلسل دُہرائی جانے والی کہانی ہے! ڈاکٹر عارف ساقی علم کے بیج بوتے ہیں۔ پودے اُگاتے ہیں۔
پگاڑا خاندان کا چشم و چراغ ڈالے میں ہے۔ وہ اپنے کروفر سے پودے کچلتا ہے۔ یہ معمول بنا دیا گیا ہے۔ پودا ، ڈالا اور یہ طاقت مرکز معاشرہ!!
کسی معاشرے کی حقیقت اس کے آئین میں نہیں، اس لمحے میں کھلتی ہے جب ایک طاقتور آدمی ایک کمزور آدمی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ وہاں معلوم ہوتا ہے کہ قانون کس کے لیے ہے ، پولیس کس کے ساتھ ہے ، عدالت کس کی منتظر ہے ، حکومت کس وقت جاگتی ہے اور معاشرہ کتنی دیر یاد رکھتا ہے۔ پاکستان میں یہ منظر بار بار دُہرایا جا رہا ہے۔ ایک طرف آدمی ہے، دوسری طرف اس کی طاقت۔ایک طرف شکایت ہے، دوسری طرف تعلق۔ ایک طرف ایف آئی آر ہے ، دوسری طرف اثر و رسوخ۔ ایک طرف عدالت ہے، دوسری طرف وقت۔ اور آخر میں ایک دن خبر پرانی ہوجاتی ہے، ویڈیو غائب ہوجاتی ہے، غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور طاقت اپنی جگہ کھڑی رہتی ہے۔ ڈالا نئے پودے کو کچلنے نکل پڑتا ہے۔ یہ محض جرائم کا سلسلہ نہیں۔ یہ معاشرتی نظام بن گیا ہے۔ اور اس نظام کو ایک نام دیا جاسکتا ہے۔ طاقت مرکز معاشرہ۔ جامعہ کراچی کے استاد ڈاکٹر محمد عارف ساقی کا واقعہ اسی نظام کی ایک تصویر ہے۔

ایک طرف وہ شخص ہے جو اپنی زندگی علم، تحقیق اور طلبہ کے نام کرتا ہے ۔ جو ایک ادارے کو سنوارتا ہے ، کلاس روم بناتا ہے ، نوجوانوں کی تربیت کرتا ہے اور ایک ہزار سے زائد پودے لگا کر آنے والے کل کے لیے سایہ پیدا کرتا ہے ۔دوسری طرف ایک ڈالا ہے ۔اور یہی اس پورے واقعے کا سب سے بڑا استعارہ ہے ۔ایک طرف ایک ہزار پودے ، دوسری طرف ایک ڈالا۔پودا خاموش ہوتا ہے ، مگر زندگی اُگاتا ہے۔ڈالا بھی خاموش ہوسکتا ہے ، مگر جب اس کے ساتھ اسلحہ، محافظ اور رعب جڑ جائیں تو وہ صرف گاڑی نہیں رہتا، طاقت کا اعلان بن جاتا ہے۔ پاکستان میں ڈالا اب محض ڈالا نہیں رہا۔ بعض حلقوں میں یہ دولت، اثر، پروٹوکول، خوف اور راستہ صاف کروانے کی علامت بن چکا ہے۔ اصل مسئلہ ڈالا نہیں۔ اصل مسئلہ وہ ذہن ہے جو ڈالا دیکھ کر قانون کا لہجہ بدل دیتا ہے۔

ڈاکٹر عارف ساقی کے واقعے میں پولیس نے مقدمہ درج کیا، گرفتاریاں ہوئیں، لیکن مرکزی ملزم کونین شاہ کی گرفتاری پر سوال اٹھتے رہے ۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز گردش کرتی رہیں، عوامی دباؤ بڑھا، سیاسی سطح پر پولیس سے جواب طلبی ہوئی، فریال تالپور نے عدم گرفتاری پر سخت برہمی کا اظہار کیا، شاید اُنہیں بے نظیر بھٹو کو منہ دکھانا ہو، اور پھر پولیس نے مرکزی ملزم کی گرفتاری کا اعلان کردیا۔یہاں سوال بہت سادہ ہے ۔اگر عوامی دباؤ نہ ہوتا تو کیا قانون حرکت میں آتا؟اور پھر اس سے بھی زیادہ اہم سوال۔گرفتاری ہوئی یا حوالگی؟سامنے آنے والی ویڈیو کم از کم اتنا سوال ضرور اٹھاتی ہے کہ پولیس کے سرکاری مؤقف اور دکھائی دینے والے واقعات کا مکمل تسلسل عوام کے سامنے آنا چاہیے ۔ اگر تعاقب کے بعد گرفتاری ہوئی تو تفصیل سامنے آئے ، اور اگر ملزم کسی مقام سے پولیس کے حوالے ہوا تو اس کی وضاحت بھی ہونی چاہیے ۔کیونکہ طاقت مرکز معاشرے میں الفاظ بھی بے ضرر نہیں ہوتے ۔گرفتاری ریاست کا اختیار ہے ۔ حوالگی طاقتور کا اثر بھی ہوسکتی ہے ۔یہی فرق اس پورے مقدمے کو ایک معمولی فوجداری واقعے سے اٹھا کر ریاست اور طاقت کے تعلق کا سوال بنا دیتا ہے ۔

اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ صرف ڈاکٹر عارف ساقی کا معاملہ ہے تو اسے کراچی کے ڈیفنس میں مریم علی رضا کے واقعے کی طرف دیکھنا چاہیے، جہاں تشدد، پولیس کی موجودگی، مقدمے اور متاثرہ فریق کے پولیس کردار پر اٹھائے گئے سوالات نے ایک بار پھر وہی پرانا سوال زندہ کردیا۔ریاستی طاقت کمزور کے ساتھ کھڑی تھی یا طاقتور کے ساتھ؟

پھر میر رضا کا معاملہ دیکھیے ۔ موت کے بعد تفتیش کے رخ، شواہد اور مبینہ طور پر چھپائے گئے پہلوؤں پر سوال اٹھے ۔ اہل خانہ کو ریاستی تفتیش پر سوال کرنا پڑا، یعنی مقتول کے بعد بھی اس کے خاندان کو یہ ثابت کرنے کی جنگ لڑنی پڑی کہ موت محض ایک فائل نہیں، ایک انسان کا قتل ہوسکتی ہے ۔یہاں بھی کہانی وہی ہے۔ پہلے واقعہ۔پھر پولیس۔ پھر ابہام۔ پھر احتجاج۔ پھر نئی تفتیش۔ پھر وقت۔ اور وقت یہاں زخموں اور ضربوں کا اندمال نہیں، طاقتور کا سب سے خاموش وکیل ہے۔

شاہ رخ جتوئی کا معاملہ تو پاکستان کے اجتماعی حافظے میں نقش ہے ۔ شاہ زیب خان قتل ہوا۔ مقدمہ چلا، سزائیں ہوئیں، پھر قانونی عمل کے مختلف مراحل، معافی اور راضی نامے نے مقدمے کو ایک ایسے انجام تک پہنچایا جہاں طاقت، خاندان، قانون اور صلح کے سوال ایک دوسرے میں گندھ گئے ۔مصطفی کانجو اور زین کا مقدمہ اس زنجیر کی دوسری کڑی ہے ۔ سابق وزیر کے بیٹے پر قتل کا الزام لگا، گواہ عدالت میں آئے ، پھر گواہوں کے منحرف ہونے کا معاملہ سامنے آیا اور بالآخر ملزمان بری ہوگئے۔ یہاں کسی عدالتی فیصلے کی قانونی صحت پر بحث نہیں۔ اصل سوال اس سے پہلے کا ہے۔ گواہ عدالت تک پہنچتے پہنچتے کمزور کیوں ہوجاتا ہے؟ اور اگر گواہ کمزور ہوجائے تو عدالت کے پاس ثبوت کہاں سے آئے؟ ناظم جوکھیو کے قتل کا مقدمہ بھی یہی بتاتا ہے کہ طاقت کا آخری ہتھیار ہمیشہ بندوق نہیں ہوتی۔ کبھی صلح ہوتی ہے ۔کبھی معافی ہوتی ہے۔ کبھی خاندان پر دباؤ ہوتا ہے ۔کبھی گواہ پیچھے ہٹتا ہے۔ کبھی مقدمہ طویل ہوجاتا ہے ۔اور پھر سماج کہتا ہے ۔بس، معاملہ ختم ہوگیا۔لیکن نہیں۔معاملہ ختم نہیں ہوتا۔صرف ہماری یادداشت ختم ہوجاتی ہے ۔

شاہزین مری کے محافظوں سے جڑے کراچی کے واقعے سے لے کر وی آئی پی پروٹوکول کے متعدد واقعات تک، سڑک کے ایک معمولی تنازع سے شروع ہونے والی طاقت کی نمائش بار بار تشدد تک پہنچی ہے ۔ کبھی گاڑی راستہ بناتی ہے، کبھی گارڈ ہاتھ اٹھاتا ہے ، کبھی اسلحہ نکلتا ہے اور کبھی پولیس خود فیصلہ کرنے لگتی ہے کہ کس فریق سے کس لہجے میں بات کرنی ہے ۔فرانسیسی فلسفی مشیل فوکو یاد آتا ہے، جو طاقت کو کسی بادشاہ یا حکومت تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے معاشرے کے اندر ‘مراسم تعلقات’ کی تہہ داری میں جھانک کر دیکھتا ہے۔ جہاں یہ مختلف اداروں، طریقہ کار اور روزمرہ کے مشق میں کام کرتے ہیں۔ یوں مشیل فوکو کی طاقت صرف ایوان میں نہیں بیٹھتی۔وہ اداروں، نگرانی، تفتیش، زبان اور روزمرہ کے فیصلوں میں پھیلتی ہے۔ بیسویں صدی کا فرانسیسی ماہر عمرانیات پیئر بوردیوکا ‘علامتی طاقت’ کا نظریہ یہاں زیادہ موزوں ہے، جونام، خاندان، عہدہ، دولت ، تعلق اور سماجی حیثیت کے ساتھ طاقت کا ایک ایسا بھیانک روپ لیتا ہے جو بندوق اُٹھائے بغیر دوسرے کو خاموش کرا دیتا ہے۔طاقت ور کا اثر ایک زنجیر بناتا ہے۔ پولیس کی کمزوری، تفتیش کا ابہام، گواہ کا دباؤ، عدالتی رعایت، حکومتی خاموشی، سماجی نسیان اورپھر ایک نیا واقعہ۔یہ چکر چلتا رہتا ہے ۔اور ہر چکر کے بعد طاقتور مزید طاقتور اور کمزور مزید محتاط ہو جاتا ہے ۔

خیر مرکز معاشرے میں استاد کا ہاتھ طاقتور ہوتا ہے ، کیونکہ اس ہاتھ میں قلم ہے ۔طاقت مرکز معاشرے میں طاقتور کا ہاتھ طاقتور ہوتا ہے ، کیونکہ اس کے پیچھے تعلق ہے۔ خیر مرکز معاشرے میں ایک ہزار پودے مستقبل بناتے ہیں۔ طاقت مرکز معاشرے میں ایک ڈالا راستہ بناتا ہے۔ خیر مرکز معاشرے میں محافظ کمزور کی ڈھال ہوتا ہے ۔طاقت مرکز معاشرے میں محافظ ،طاقتور کی ڈھال بن جاتا ہے۔ خیر مرکز معاشرے میں قانون طاقت کو محدود کرتا ہے۔ طاقت مرکز معاشرے میں طاقت قانون کے راستے تلاش کرتی ہے۔ اور یہی اصل المیہ ہے۔
اس زنجیری سلسلے میں ہم نے ظلم کو قبول نہیں کیا، بلکہ ظلم کے بعد ہونے والے معمول کو قبول کرلیا ہے۔ ہمیں ظلم کے بعد پولیس سے عدالت تک ہونے والا یہ زنجیری سلسلہ کبھی عجیب ہی نہیں لگتا۔ کہیں یہ ظلم سہتا سماج اپنی ہی کہانی کا ولن تو نہیں!جوطاقت مرکز معاشرے میں ڈاکٹر عارف ساقی کے بعد کسی اگلی کہانی کے انتظار میں ہو!
٭٭٭

 


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں