سندھ میں مبینہ لینڈ گریبنگ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع
شیئر کریں
کراچی کی قیمتی سرکاری اراضی، پارکس، الاٹمنٹس، تعمیراتی منظوریوں اور بلڈنگ کنٹرول سے متعلق معاملات کی چھان بین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی سمیت سندھ میں سرکاری اور قیمتی اراضی پر مبینہ قبضوں، زمینوں کی الاٹمنٹ و منتقلی، تعمیراتی منظوریوں، ماسٹر پلان، بلڈنگ کنٹرول اور سرکاری و عوامی مقامات کے مبینہ کمرشل استعمال سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تحقیقات سے باخبر ایک افسر کے مطابق مختلف شکایات، سرکاری ریکارڈ اور موصول ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر متعدد سیاسی شخصیات، بلڈرز، ڈویلپرز، سرکاری افسران اور دیگر متعلقہ افراد کے معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض شکایات اور رپورٹس قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارے، اینٹی کرپشن اور دیگر تحقیقاتی اداروں تک پہنچائی گئی ہیں، جبکہ بعض معاملات سے متعلق رپورٹس عدالتوں کے سامنے بھی پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ کسی شخص کا نام کسی شکایت، رپورٹ یا تحقیقاتی ریکارڈ میں شامل ہونا بذات خود اس کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق پہلے سے گردش میں آنے والی بعض شکایات اور رپورٹس میں اے جی مجید، عبدالقادر پٹیل، طارق آرائیں، ناصر حسین شاہ، ڈاکٹر عاصم، علی حسن بروہی، تیمور ڈومکی، عرفان واحد، آصف سمسم، داؤد جان، جلال خان، راحیل، وقار میمن، صدیق آدم جی، فیصل مچھر/میمن، محمد علی شاہ، محمد علی شیخ، محمد علی چاچڑ، حماد چاچڑ، جمیل میمن، کاشان ڈی کمپنی، الجنت بلڈرز، انور اوکے، جاوید اوکے، فیض محمد پالاری، سعید غنی، فیاض الیاس، ملک ریاض، ملک علی، فرید، خالد یوسفی، لیاقت آسکانی، آدم جوکھیو، واسی حیدر، عمران صدیقی، لالا رحیم، الطاف تائی، ارشد تائی، جمیل سومرو، حاجی احمد، سہیل بابو، شاہد درانی، بن احسن بلڈرز، قیوم بلوچ، رفیق کہرو، ضیاء کالا، اے ڈی اویس، علی خان، سجاد، ارشد ریاض، اشرف باس، کاشف، امان العصر گروپ، عامر حسین اور سویرا بلڈرز سمیت دیگر نام شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ ان ناموں سے متعلق معاملات کی نوعیت مختلف ہے اور ہر فرد یا ادارے کے بارے میں الزامات یا شکایات کی حیثیت یکساں نہیں۔ بعض نام محض شکایات یا ریکارڈ میں حوالہ کے طور پر سامنے آئے ہیں، اس لیے کسی بھی شخص کو تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن سے وابستہ موجودہ اور سابق افسران و ملازمین کے نام بھی مختلف شکایات اور ریکارڈ میں زیرِ جائزہ آئے ہیں۔ ان میں سیف عباس، صباح الاسلام، عدنان زیدی، ہمایوں خان، افتخار نائچ، ڈاکٹر انعام، فراز انور شیخ، عمیر سکندر/عمیر علی، عارف قاضی، ناصر رزاق، عدنان قریشی، گلزار ابڑو، سمیرا حسن، سہیل احمد، فیصل رضوی، جمال اختر، تنویر حسین، عاصم حسین، جنید اللہ، عباس شاہ، مسرت علی خان، صالح نقوی، منہاج الحق، طاہر درانی، رضا، آفاق مرزا، امتیاز بٹ، رضوی، کاشف اور اقبال پرویز سمیت دیگر نام شامل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض معطل یا برطرف افسران کے سابقہ ریکارڈ کو بھی دوبارہ کھولا جا رہا ہے اور ان کے دور میں زمینوں سے متعلق فائلوں، اختیارات کے استعمال اور جاری کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ متعلقہ فائل کس افسر یا شعبے نے تیار کی، کس سطح پر اس کی جانچ پڑتال ہوئی، منظوری کس افسر یا ادارے نے دی اور زمین کے استعمال، الاٹمنٹ یا منتقلی کے عمل میں متعلقہ قوانین اور ضوابط کی پابندی کی گئی یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دائرے میں کراچی کے مختلف سرکاری و عوامی مقامات کی اراضی اور مبینہ کمرشل استعمال سے متعلق معاملات بھی شامل کیے جارہے ہیں۔ ان میں کڈنی ہل پارک، جھیل پارک، عمر شریف پارک، سلاٹر ہاؤس اور الٰہ دین پارک سمیت دیگر اہم مقامات کا ریکارڈ بھی زیرِ بحث آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کڈنی ہل پارک سے متعلق ماضی میں بھی زمین اور تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف شکایات اور تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔ حالیہ رپورٹنگ کے مطابق ایک متنازع پلاٹ اور مبینہ جعلی این او سی کے معاملے پر کے ایم سی کی جانب سے تعمیراتی سرگرمی روکنے اور قانونی کارروائی کی اطلاع دی گئی تھی۔
ایک تحقیقاتی افسر کے مطابق موجودہ کارروائی میں صرف افراد کے ناموں یا شکایات کو بنیاد نہیں بنایا جا رہا بلکہ اصل سرکاری ریکارڈ کی جانچ بھی کی جارہی ہے۔ اس مقصد کیلئے لینڈ ریکارڈ، الاٹمنٹ، لیز، ماسٹر پلان، بلڈنگ پلان، این او سیز، فائلوں کی نقل و حرکت، سرکاری خط و کتابت اور مختلف سطحوں پر دی جانے والی منظوریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کسی مخصوص زمین یا پلاٹ سے متعلق فیصلوں میں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں، سرکاری اراضی کا استعمال تبدیل کرنے کیلئے قانونی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں اور کسی نجی فریق کو سرکاری اختیارات استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی فائدہ تو نہیں پہنچایا گیا۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق اگر ریکارڈ کی جانچ کے دوران سرکاری زمین کے غیر قانونی استعمال، ریکارڈ میں ردوبدل، اختیارات سے تجاوز، جعلی دستاویزات کی تیاری یا کسی نجی فریق کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے کے قابلِ اعتماد شواہد سامنے آئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی سفارش کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب کراچی کے بلدیاتی اور ترقیاتی معاملات پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کراچی کے مختلف معاملات سے متعلق دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر اپنا مؤقف مزید واضح کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے بعد شہر کی زمینوں، بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق سیاسی بحث میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی سرکاری اراضی، پارکس اور دیگر عوامی مقامات سے متعلق تمام معاملات کا جامع فرانزک آڈٹ کرایا جائے، لینڈ ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے اور الاٹمنٹ، لیز، تعمیراتی منظوریوں اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کے معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی فرد، افسر یا ادارے کے خلاف قانون کی خلاف ورزی کے شواہد ثابت ہوں تو بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے، جبکہ جن افراد کے خلاف الزامات ثابت نہ ہوں ان کے بارے میں بھی واضح طور پر تحقیقات کا نتیجہ سامنے لایا جائے تاکہ کسی کو محض شکایت یا رپورٹ میں نام آنے کی بنیاد پر قصوروار نہ سمجھا جائے۔


