نائن الیون: سرکاری بیانیہ، متبادل سوالات اوربعد میں بننے والی جنگ کی دنیا
شیئر کریں
٭ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، واشنگٹن میں پینٹاگون اور پنسلوانیا میں ہونے والے واقعات کے بعد دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہوئی جسے بعد میں ‘‘وار آن ٹیرر’’یعنی ‘‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’’کہا گیا
٭ 11؍ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی حکومت نے فوری طور پر القاعدہ اور طالبان حکومت کو اپنی پالیسی کے مرکز میں رکھا، اور صرف چند ہفتوں بعد، 7؍اکتوبر 2001کو افغانستان میں فوجی کارروائی شروع ہوگئی
٭ متعدد مصنفین، محققین اور ناقدین نے امریکی سرکاری بیانیے کے بعض حصوں، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام، انٹیلی جنس ناکامیوں، القاعدہ کی تاریخی تشکیل اور نو گیارہ کے بعدکی جنگوں پر بنیادی سوالات اٹھائے ہیں
٭ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ سرکاری رپورٹ پر سوال اٹھانا بھی غیر معقول ہے ،دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو سرکاری بیانیے میں تضاد یا خامی دیکھ کر پورے واقعے کو ایک اندرونی سازش قرار دے دیتے ہیں
(سانحہ گیارہ ستمبر کی 25 ویں برسی کے موقع پر اُن سوالات کا جائزہ جو آج بھی برقرار ہیں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
11 ستمبر 2001صرف امریکی تاریخ کا ایک سانحہ نہیں تھا۔ اس دن کے واقعات نے عالمی سیاست، جنگ، سلامتی، شہری آزادیوں اور مشرقِ وسطیٰ و جنوبی ایشیا کے مستقبل کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، واشنگٹن میں پینٹاگون اور پنسلوانیا میں ہونے والے واقعات کے بعد دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہوئی جسے بعد میں ‘‘وار آن ٹیرر’’یعنی ‘‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’’کہا گیا۔
لیکن ایک چوتھائی صدی کے قریب عرصہ گزرنے کے باوجود 9/11صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ سوالات، تنازعات اور مختلف تعبیرات کا موضوع ہے ۔ ایک طرف 9/11کمیشن، ایف بی آئی اور امریکی سرکاری تحقیقات کا ایک واضح بیانیہ ہے ؛ دوسری طرف متعدد مصنفین، محققین اور ناقدین نے اس بیانیے کے بعض حصوں، خصوصاً ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتوں کے انہدام، انٹیلی جنس کی ناکامیوں، القاعدہ کی تاریخی تشکیل اور 9/11کے بعد شروع ہونے والی جنگوں کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔
اس مضمون کا مقصد کسی سازشی نظریے کو ثابت کرنا یا سرکاری بیانیے کو بلا تحقیق قبول کرنا نہیں۔ سوال صرف یہ ہے :‘‘شواہد ہمیں کہاں تک لے جاتے ہیں’’؟اسی لیے ضروری ہے کہ تین چیزوں میں فرق کیا جائے :ثابت شدہ واقعہ، شواہد کی تشریح، اور ایسا دعویٰ جو دستیاب شواہد سے آگے نکل جاتا ہو۔
11؍ستمبر: واقعہ اور سرکاری تحقیقات
امریکی حکومت کی سرکاری تحقیقات کے مطابق 19 ہائی جیکرز نے چار تجارتی طیاروں کو اغوا کیا۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاؤرسے ٹکرائے ، ایک پینٹاگون سے ، جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر گیا۔2004میں شائع ہونے والی ‘نائن الیون کمیشن رپورٹ’امریکی حکومت کی اس واقعے پر سب سے اہم جامع تحقیقات میں شمار ہوتی ہے ۔ کمیشن ایک آزاد، دو جماعتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور اس نے حملوں کے پس منظر، امریکی تیاری، انٹیلی جنس نظام اور حکومتی ردعمل کا جائزہ لیا۔ایف بی آئی کے مطابق چاروں طیاروں کے اغوا میں شامل 19افراد القاعدہ سے تربیت یافتہ تھے ، اورایف بی آئی کی تاریخی دستاویز اسامہ بن لادن کو حملوں کی منصوبہ بندی سے منسلک کرتی ہے ۔یہاں پہلا اہم نکتہ سامنے آتا ہے :‘‘یہ سرکاری نتیجہ ہے کہ حملوں کی ذمہ داری القاعدہ اور اسامہ بن لادن پر عائد ہوتی ہے ’’۔لیکن اس نتیجے کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ سوال الگ طور پر باقی رہ سکتا ہے کہ انٹیلی جنس ادارے حملوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہے ، حملوں کے بعد تحقیقات کس حد تک مکمل تھیں، اور بعد میں اس سانحے کو کس طرح سیاسی اور عسکری فیصلوں کے لیے استعمال کیا گیا۔یہ سوال اٹھانا اور حملوں کی اصل ذمہ داری کے بارے میں قطعی دعویٰ کرنا ایک ہی چیز نہیں۔
- سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے بعد امریکا نے افغان مزاحمت کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ پاکستان اس پالیسی میں ایک مرکزی راستہ اور ایک پاکستانی ادارہ اہم واسطہ تھا۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک بھی اس وسیع تر جنگی ماحول کا حصہ تھے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکا نے افغان مجاہدین کی حمایت کی،مگر اس سے خودبخود یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ سی آئی اے نے براہِ راست اسامہ بن لادن کو بھرتی کیا، تربیت دی یا بعد میں القاعدہ کو اپنی تخلیق کے طور پر چلایا۔
اسامہ بن لادن، افغان جہاد اور ماضی کا سایہ
آزادمغربی تجزیہ کاروں کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ نائن الیون کو سمجھنے کے لیے صرف 2001کی صبح کو نہیں بلکہ 1980کی دہائی کے افغان جہاد کو بھی دیکھنا ضروری ہے ۔یہ بات تاریخی طور پر دستاویزی ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے بعد امریکا نے افغان مزاحمت کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ پاکستان اس پالیسی میں ایک مرکزی راستہ اور ایک پاکستانی ادارہ اہم واسطہ تھا۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک بھی اس وسیع تر جنگی ماحول کا حصہ تھے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکا نے افغان مجاہدین کی حمایت کی،مگر اس سے خودبخود یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ سی آئی اے نے براہِ راست
style=”float: right; margin-left: 20px; width: auto;”
اسامہ بن لادن کو بھرتی کیا، تربیت دی یا بعد میں القاعدہ کو اپنی تخلیق کے طور پر چلایا۔یہ امکان کی حدتک زیربحث عنوان ضرور ہے۔ جس پر متعدد کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ ایک مغربی تجزیہ کار چوسودووسکی کا مضمون اس تعلق کو کہیں زیادہ براہِ راست انداز میں پیش کرتا ہے ۔مگر اصل مسئلہ شاید اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے ۔ 1980کی دہائی کی افغان جنگ نے ایک ایسا بین الاقوامی جہادی ماحول پیدا کیا جس میں امریکی، پاکستانی، سعودی اور مختلف افغان و غیر افغان جنگجو نیٹ ورک مختلف سطحوں پر موجود تھے ۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ان میں سے بعض نیٹ ورک اور افراد نئی جنگوں اور تنازعات میں فعال ہوئے ۔لہٰذا زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ افغان جہاد اور بعد میں عالمی جہادی نیٹ ورکس کے درمیان تاریخی تعلق ایک جائز تحقیقی موضوع ہے ۔ لیکن ہر تاریخی تعلق کو براہِ راست سی آئی اے کی جانب سے القاعدہ کی تخلیق کا ثبوت قرار دینا شاید درست نہیں۔یہ فرق معمولی نہیں۔ یہی فرق تحقیق اور سیاسی بیانیے کے درمیان حد کھینچتا ہے ۔
کیا 9/11 کے فوراً بعد نتیجہ پہلے سے طے تھا؟
نوگیارہ اور اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مغربی تھیٹر پر رونما ہونے والے تمام واقعات کو مستقل زیر بحث لانے والے چوسودووسکی کا ایک اہم سوال یہ ہے کہ 11ستمبر کی صبح اور اس کے فوراً بعد امریکی انتظامیہ کس تیزی سے اس نتیجے تک پہنچی کہ حملوں کے پیچھے القاعدہ اور اسامہ بن لادن ہیں، اور پھر افغانستان کے خلاف جنگ کی طرف قدم کتنی تیزی سے بڑھا۔یہ سوال تاریخی لحاظ سے قابلِ غور ہے ۔واقعات کی رفتار واقعی حیران کن تھی۔ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی حکومت نے فوری طور پر القاعدہ اور طالبان حکومت کو اپنی پالیسی کے مرکز میں رکھا، اور صرف چند ہفتوں بعد، 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان میں فوجی کارروائی شروع ہوگئی۔لیکن یہاں بھی دو الگ سوال ہیں۔
پہلا:کیا حملوں کے بعد امریکی حکومت کے پاس القاعدہ کے بارے میں پہلے سے انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں؟
دوسرا:کیا افغانستان پر جنگ کا مکمل فیصلہ 9/11سے پہلے ہو چکا تھا اور حملوں کو محض بہانہ بنایا گیا؟
پہلے سوال کا جواب انٹیلی جنس تاریخ میں پیچیدہ مگر اہم ہے ۔ القاعدہ پہلے سے امریکی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک معلوم خطرہ تھی۔ بن لادن اور القاعدہ کو 1990کی دہائی کے متعدد واقعات سے جوڑا جا چکا تھا۔
دوسرے سوال کے لیے زیادہ سخت ثبوت درکار ہیں۔
یہ کہنا کہ جنگ کے لیے ‘‘ممکنہ منصوبہ بندی’’ یا‘ contingency planning ’پہلے سے موجود تھی اور یہ کہنا کہ 9/11سے پہلے حملے کے انتظار میں ایک مکمل جنگی منصوبہ تیار تھا، دو مختلف دعوے ہیں۔ اس دوسرے ، زیادہ بڑے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے غیر معمولی درجے کے شواہد درکار ہوں گے ۔لہٰذا محتاط نتیجہ یہ ہے کہ 9/11نے افغانستان کے خلاف امریکی جنگ کے لیے ایک فوری سیاسی اور عوامی جواز فراہم کیا۔
اصل تنازع: ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاؤر
ڈیوڈ رے گریفن (David Ray Griffin)اور دوسرے ناقدین کی سب سے اہم بحث ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتوں کے انہدام کے گرد گھومتی ہے ۔ان کے بنیادی سوالات یہ ہیں:
٭کیا ایک اسٹیل فریم والی عمارت صرف آگ اور طیارے کے اثر سے مکمل طور پر منہدم ہوسکتی ہے ؟
ٔ٭عمارتوں کا انہدام اتنی تیزی سے کیوں ہوا؟
ٔٔ٭بعض گواہوں نے دھماکوں جیسی آوازیں کیوں سنیں؟
ٔ٭پگھلی ہوئی دھات یا غیر معمولی حرارت کے مشاہدات کو کیسے سمجھا جائے ؟
ٔ٭اسٹیل کے ملبے کی بڑی مقدار کو جلد کیوں ہٹایا گیا؟
ٔٔ٭کیا کنٹرولڈ انہدام( controlled demolition)کا امکان واقعی مکمل طور پر خارج کیا جا سکتا ہے ؟
یہ سوالات سنجیدہ ہیں، لیکن سوال کا وجود خود جواب نہیں ہوتا۔
امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی)کی تحقیق کا نتیجہ یہ تھا کہ ٹوئن ٹاؤرکے انہدام کا آغاز طیاروں کے ٹکرانے اور بعد میں لگنے والی آگ سے متاثرہ حصوں میں ہوا۔ این آئی ایس ٹی کے مطابق آگ اور ساختی نقصان کے باہمی اثرات نے اہم ساختی عناصر کو ناکام کیا، جس کے بعد عمارت کے اوپری بڑے حصے کے نیچے کی جانب حرکت کرنے سے پروگریسو انہدام(progressive collapse)شروع ہوا۔این آئی ایس ٹی نے کنٹرولڈ انہدام(controlled demolition)کے حق میں کوئی تصدیقی ثبوت( corroborating evidence)نہ ملنے کا نتیجہ دیا۔ اس کے مطابق ویڈیو شواہد میں انہدام کا آغاز اثر ( impact) اورآتش زدہ منزلوں( fire floors)سے ہوتا دکھائی دیتا ہے ، نہ کہ عمارت کے نچلے حصوں میں پہلے سے ہونے والے دھماکوں سے ۔تاہم یہاں ایک نکتہ قابلِ توجہ ہے :این آئی ایس ٹی خود تسلیم کرتا ہے کہ اس نے ٹوئن ٹاؤرکے اسٹیل میں explosivesیا thermite residues کی جانچ نہیں کی۔ این آئی ایس ٹی کا موقف یہ ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر اسے ایسی جانچ ضروری نہیں لگی، کیونکہ اس کے structural analysisنے کنٹرولڈ انہدام(controlled demolition)کے بغیر collapse initiation کی وضاحت فراہم کی۔یہ ایک اہم طریقہ کار (methodological)اختلاف ہے ۔ناقد کہہ سکتے ہیں کہ اگر انہدام کا امکان زیرِ بحث تھا تو residue testingہونی چاہیے تھی۔ این آئی ایس ٹی کا جواب یہ ہے کہ تحقیقات میں دستیاب دیگر شواہد انہدام کے مفروضے (demolition hypothesis)کی تائید نہیں کرتے تھے ۔
یہاں قطعی طور پر صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ این آئی اسی ٹی نے کنٹرولڈ انہدام (controlled demolition)کا نتیجہ قبول نہیں کیا، لیکن اس نے explosives residues کے لیے ٹوئن ٹاؤر کے اسٹیل کے نمونے steel samples کی مخصوص testing بھی نہیں کی۔دونوں باتیں ایک ساتھ درست ہیں۔
دھماکوں کی آوازیں اور Explosion کا مسئلہ
گریفن اور دوسرے مصنفین نے ایف ڈی این وائی کے بعض اہلکاروں اور عینی شاہدین کے بیانات کو اہمیت دی ہے ، جن میں ‘‘boom’’اور ‘‘explosion’’ یا دھماکوں جیسی آوازوں کا ذکر آتا ہے ۔یہ گواہیاں موجود ہیں اور انہیں نظر انداز کرنا درست نہیں۔
لیکن دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا دھماکے کا لفظ لازماً پہلے سے نصب کیے گئے demolition explosivesکا ثبوت ہے ؟ضروری نہیں۔
ایک انتہائی بڑے structural collapseمیں گیس لائنوں، بجلی کے آلات، گاڑیوں، ٹینکوں، گرنے والے ملبے اور دوسرے مادی و میکانی واقعات سے شدید آوازیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ دوسری طرف، اگر کوئی گواہ واقعی ایک حقیقی دھماکا بیان کر رہا ہو تو اسے بھی خودکار طور پر غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس لیے گواہی ایک اہم evidenceہے ، مگر گواہی کی تشریح کے لیے اسے دوسرے physicalاور forensic evidence کے ساتھ ملانا ضروری ہے ۔صرف اس جملے سے کہ ‘‘میں نے دھماکا سنا’’، کنٹرولڈ انہدام ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن ایسے بیانات کو محض اس لیے نظر انداز کرنا بھی درست نہیں کہ وہ سرکاری نتیجے سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر بلڈنگ سیون سب سے مشکل سوال
شاید پورے 9/11مباحثے میں سب سے زیادہ توجہ ‘ورلڈ ٹریڈ سینٹر بلڈنگ سیون ’پر مرکوز رہی ہے ۔یہ 47منزلہ عمارت تھی جس سے کوئی طیارہ نہیں ٹکرایا، مگر وہ 11؍ستمبر کی شام پانچ بج کر بیس منٹ اور باون سیکنڈ پر منہدم ہوگئی۔ این آئی ایس ٹی کے مطابق عمارت تقریباً سات گھنٹے تک آگ کا سامنا کرنے کے بعد گری۔اسی عمارت کے انہدام کو گریفن، مک کوئین اور دیگر مصنفین کنٹرولڈ انہدام کے مفروضے کے لیے ایک اہم دلیل سمجھتے ہیں۔ان کے سوالات میں عمارت کا نسبتاً سیدھا نیچے آنا،ڈھنے( collapse)کی رفتار، اور free fall کا ایک مرحلہ شامل ہیں۔یہاں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ این آئی ایس ٹی نے اپنی حتمی تحقیق میں تسلیم کیا کہ ڈبلیو ٹی سی سیون کے ڈھنے
‘ collapse’ کے ایک مرحلے میں عمارت کا بیرونی حصہ تقریباً 2.25سیکنڈ تک gravitational acceleration، یعنی free fall، کے قریب نیچے آیا۔این آئی اسی ٹی نے collapseکو تین مرحلوں میں تقسیم کیا:
٭پہلے مرحلے میں رفتار free fallسے کم تھی؛
٭دوسرے مرحلے میں تقریباً free fall تھا؛
٭تیسرے مرحلے میں دوبارہ مزاحمت کے باعث رفتار کم ہوئی۔
یہاں اصل اختلاف شروع ہوتا ہے ۔
ناقدین کہتے ہیں کہ free fallسے ظاہر ہوتا ہے کہ نیچے موجود structureپہلے ہی اچانک ہٹا دیا گیا تھا، اور اس کے لیے explosives ایک ممکنہ وضاحت ہیں۔این آئی ایس ٹی کا جواب مختلف ہے ۔ اس کے مطابق اندرونی ساخت پہلے ہی شدید ناکامی کا شکار ہو چکی تھی، exterior columns buckleہوئے اور ایک مرحلے پر عمارت کے بیرونی حصے کو نیچے سے تقریباً کوئی مؤثر structural support نہیں مل رہا تھا۔ اس لیے free fall کا مختصر مرحلہ demolitionکا لازمی ثبوت نہیں۔این آئی ایس ٹی کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ کئی منزلوں پر پھیلی uncontrolled firesنے thermal expansionکے ذریعے اہم structural failuresپیدا کیے ، خصوصاً Column 79سے وابستہ failure sequenceنے progressive collapse شروع کیا۔یہاں دیانت دارانہ نتیجہ یہ نہیں کہ ‘‘ورلڈ ٹریڈ سینٹر سیون’’کے بارے میں کوئی سوال نہیں۔زیادہ درست بات یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سیون کا انہدام غیر معمولی تھا اور اس نے حقیقی تکنیکی بحث پیدا کی؛ لیکن این آئی ایس ٹی کی سرکاری technical explanation controlled demolition کے بجائے fire-induced progressive collapse پر مبنی ہے، اور دستیاب سرکاری تحقیق explosives کے حق میں ثبوت قبول نہیں کرتی۔
تھرمائٹ، نینو تھرمائٹ اور پگھلی ہوئی دھات
9/11 کے متبادل بیانیوں میں ایک اور اہم دعویٰ thermiteیا nanothermiteکے بارے میں ہے ۔ بعض محققین نے ورلڈ ٹریڈسینٹرکی dustمیں ایسے مواد کی موجودگی کا دعویٰ کیا جسے انہوں نے انتہائی ردعمل رکھنے والے مادے سے تعبیر کیا۔یہ دعویٰ بحث کا موضوع رہا ہے ، لیکن اسے قطعی طور پر انہدام(demolition)کا ثبوت کہنا ایک بہت بڑا قدم ہے ۔
این آئی ایس ٹی نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سیون کے بارے میں کہا کہ اس کے نزدیک thermiteیا thermateکے ذریعے اہم columnsکاٹنے کا امکان انتہائی غیر محتمل تھا۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ دستیاب trace metalsاور دیگر compoundsکے لیے عام تعمیراتی مواد، paint، concrete، wiring، computers اور دوسرے ملبے سے متبادل ذرائع موجود ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح ‘‘molten steel’’کا مسئلہ بھی احتیاط مانگتا ہے ۔کسی گواہ کا پگھلی ہوئی دھات دیکھنے کا بیان اہم ہے ، مگر ہر سرخ یا پگھلی ہوئی دھات کو بغیر metallurgical analysisکے molten structural steelقرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملبے میں aluminium، lead اور متعدد دوسری دھاتیں اور مواد موجود تھے ۔اس لیے یہاں مناسب نتیجہ یہ ہے :غیر معمولی حرارت یا پگھلی ہوئی دھات کے مشاہدات مزید وضاحت کے موضوع ہوسکتے ہیں، مگر صرف ان مشاہدات کی بنیاد پر explosivesیا thermiteکا قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
کیا سرکاری تحقیقات پر سوال کرناسازشی نظریہ ہے ؟
مغربی تجزیہ کار کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی سرکاری بیانیے پر سوال اٹھانے والے ہر شخص کو فوراً ‘‘conspiracy theorist’’ کہنا فکری دیانت کے خلاف ہوسکتا ہے ۔یہ بات اصولی طور پر درست ہے ۔تاریخ میں سرکاری ادارے غلط بھی ہوئے ہیں، انٹیلی جنس ناکامیاں بھی ہوئی ہیں اور حکومتوں نے بعض مواقع پر غلط معلومات بھی دی ہیں۔ اس لیے سوال اٹھانا غیر معقول نہیں۔مثلاً:
٭این آئی ایس ٹی نے explosives residue testکیوں نہیں کیا؟ ایک جائز سوال ہے ۔لیکن ٹیسٹ نہیں ہوا، اس لیے explosivesضرور تھے ،ایک منطقی چھلانگ ہے ۔اسی طرح ڈبلیوٹی سی سیون کا انہدام غیر معمولی تھااور مزید فنی جائزے
( technical scrutiny)کا موضوع ہے ، ایک قابلِ بحث موقف ہے ۔لہٰذا عمارت کو امریکی حکومت نے لازماً خود دھماکے سے گرایا،ایک بہت بڑا دعویٰ ہے جس کے لیے اس درجے کے شواہد درکار ہیں جو اس دعوے کی وسعت کے برابر ہوں۔تحقیق کا اصول یہی ہے کہ ثبوت جتنا کمزور ہو، نتیجہ اتنا محتاط ہونا چاہیے ۔
-
براؤن یونیورسٹی کے Costs of War Projectکے مطابق 2026میں شائع شدہ مجموعی جائزے میں نوگیارہ کے بعدجنگوں کی امریکی لاگت 2021 تک 8 ٹریلین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی، جبکہ عراق، افغانستان، پاکستان، شام، یمن اور دیگر جنگی علاقوں میں براہِ راست جنگی تشدد سے ہونے والی اموات کا اندازہ 2023 تک تقریباً 905,000 سے 940,000 کے درمیان تھا، جن میں لاکھوں عام شہری بھی شامل تھے
نائن الیون کے بعد:سوال صرف حملے کا نہیں، اس کے بعد کا بھی ہے
اگرچہ 9/11کے تکنیکی اور تاریخی سوالات اہم ہیں، مگر ایک دوسرا سوال بھی موجود ہے اس سانحے کے بعد دنیا کے ساتھ کیا ہوا۔ افغانستان پر امریکی جنگ 2001میں شروع ہوئی۔ اس کے بعد عراق پر 2003میں حملہ ہوا، حالانکہ عراق کا 9/11حملوں سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا تھا۔ بعد کے برسوں میں امریکی فوجی اور counterterror operationsکئی ممالک تک پھیل گئے ۔
اس پورے دور کی انسانی اور مالی قیمت بہت بڑی رہی۔ براؤن یونیورسٹی کے Costs of War Projectکے مطابق 2026میں شائع شدہ مجموعی جائزے میں نوگیارہ کے بعدجنگوں کی امریکی لاگت 2021تک 8ٹریلین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی، جبکہ عراق، افغانستان، پاکستان، شام، یمن اور دیگر جنگی علاقوں میں براہِ راست جنگی تشدد سے ہونے والی اموات کا اندازہ 2023 تک تقریباً 905,000 سے 940,000 کے درمیان تھا، جن میں لاکھوں عام شہری بھی شامل تھے ۔ یہ اعداد و شمار جنگ کے پیمانے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔یہاں ایک بنیادی اخلاقی سوال سامنے آتا ہے :کیا ایک دہشت گرد حملے کے جواب میں شروع ہونے والی جنگوں نے ان معاشروں میں ایک طویل اور مسلسل انسانی بحران پیدا کیا جن کا اصل حملوں سے تعلق یکساں نہیں تھا؟یہ سوال کسی سازشی نظریے کا محتاج نہیں۔ یہ ایک سیاسی، اخلاقی اور تاریخی سوال ہے ۔اور شاید 9/11کی سب سے بڑی میراث یہی ہے کہ اس کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے صرف ایک جنگ نہیں بلکہ ایک ‘‘نیا’’ سیکورٹی نمونہ تشکیل دیا۔
افغانستان سے عراق تک:جائز ردعمل اور سیاسی استعمال کے درمیان فرق
یہاں سب سے اہم امتیاز دوبارہ سامنے آتا ہے ۔یہ ممکن ہے کہ
1۔القاعدہ نے واقعی 9/11حملوں کی منصوبہ بندی کی ہو؛
2۔امریکی انٹیلی جنس ادارے حملوں کو روکنے میں ناکام رہے ہوں؛
3۔9/11کے بعد حکومت نے خوف اور قومی صدمے کو بعض پالیسیوں کے لیے استعمال کیا ہو؛
4۔افغانستان کی جنگ ایک چیز ہو جبکہ عراق پر حملہ ایک الگ سیاسی فیصلہ ہو؛
5۔اور اس پورے عمل کے انسانی نتائج اس سے کہیں زیادہ وسیع نکلے ہوں جتنا ابتدائی عوامی ردعمل تصور کرتا تھا۔
ان تمام باتوں کو قبول کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کوئی شخص ‘‘کنٹرولڈ انہدام’’ یا ‘‘inside job’’ کے نظریے کو بھی درست مانے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں 9/11کی بحث اکثر غیر ضروری طور پر دو انتہاؤں میں تقسیم ہو جاتی ہے ۔ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ سرکاری رپورٹ پر سوال اٹھانا بھی غیر معقول ہے ۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو سرکاری بیانیے میں ایک تضاد یا خامی دیکھ کر پورے واقعے کو ایک وسیع اندرونی سازش قرار دے دیتے ہیں۔دونوں رویے تحقیق کے لیے مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔
نتیجہ:ہمیں کیا معلوم ہے ، کیا متنازع ہے ، اور کیا ثابت نہیں؟
9/11 کے بارے میں تقریباً 25 برس بعد بھی سب سے مفید طریقہ شاید یہی ہے کہ ہم دعووں کو تین درجوں میں تقسیم کریں۔
اول: وہ باتیں جن کے لیے مضبوط تاریخی و دستاویزی بنیاد موجود ہے۔القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ہائی جیکرز نے چار طیارے اغوا کیے ؛ 9/11کمیشن اور ایف بی آئی نے حملوں کو القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے منسوب کیا؛ اور 9/11 کے بعد امریکا نے افغانستان میں جنگ شروع کی، جس کے بعد عراق سمیت کئی ممالک تک پھیلی جنگوں نے دنیا کی سیاست بدل دی۔اسی طرح یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ 1980 کی دہائی کی افغان جنگ میں امریکا، پاکستان، سعودی عرب اور افغان مزاحمتی گروہوں کے درمیان پیچیدہ تعلقات اور تعاون موجود تھا۔
دوم:وہ سوالات جو جائز اور متنازع ہیں،ان میں شامل ہیں:
٭ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کی اصل نوعیت؛
٭نوگیارہ سے پہلے موجود وارننگز کی اہمیت؛
٭ افغانستان کی جنگ کے لیے پہلے سے موجود پالیسی اور contingency planning؛
٭ٹوئن ٹاؤر کے انہدام کی مکمل تکنیکی تفصیلات؛
٭ ڈبلیو ٹی سی سیون کے انہدام کی این آئی ایس ٹی وضاحت پر جاری تنقید؛
ٌ٭تھرمائٹ ، ڈسٹ سیمپلز اور اور molten metalسے متعلق بعض دعووں کی سائنسی تعبیر؛
٭9/11کے بعد جنگی پالیسیوں کے سیاسی استعمال کا سوال۔
ان سوالات پر بحث کرنا غیر معقول نہیں۔
سوم: وہ دعوے جو دستیاب شواہد سے زیادہ قطعی ہیں۔ان میں یہ دعویٰ شامل ہے کہ امریکی حکومت نے خود 9/11حملوں کی منصوبہ بندی کی،ٹوئن ٹاؤرز یا ڈبلیو ٹی سی سیون کو یقینی طور پر پہلے سے نصب explosives سے گرایا، یا سی آئی اے نے براہِ راست القاعدہ کو اپنی ایک مسلسل controlled organisationکے طور پر قائم رکھا۔ایسے دعووں کے لیے غیر معمولی درجے کے براہِ راست اور قابلِ تصدیق شواہد درکار ہوں گے ۔ صرف anomalies، سوالات، گواہیوں یا سرکاری تحقیقات کی ممکنہ خامیوں سے یہ دعوے خودبخود ثابت نہیں ہوتے ۔
این آئی ایس ٹی کی سرکاری تکنیکی تحقیقات ٹوئن ٹاؤراورڈبلیو ٹی سی سیون دونوں کے کنٹرولڈ انہدام ہونے کے حق میں corroborating evidence نہیں پاتیں اور ان کے انہدام کے لیے impact، fire اور progressive structural failure پر مبنی وضاحت پیش کرتی ہیں۔ ڈبلیو ٹی سی سیون کے معاملے میں این آئی ایس ٹیfree fall کے ایک مرحلے کو تسلیم کرتا ہے ، مگر اسے اندرونی ساختی ناکامی کے نتیجے کے طور پر بیان کرتا ہے ، نہ کہ explosivesکے ثبوت کے طور پر۔
آخری سوال
شاید نوگیارہ کے بارے میں سب سے دیانت دارانہ مؤقف یہ نہیں کہ سرکاری بیانیہ سو فیصد درست ہے ، اس لیے مزید سوال کی ضرورت نہیں۔اور نہ ہی یہ کہ چونکہ سرکاری تحقیقات میں کچھ سوالات اور متنازع پہلو موجود ہیں، اس لیے پورا واقعہ ایک اندرونی سازش تھا۔زیادہ محتاط نتیجہ اس کے درمیان کہیں واقع ہے ۔سوال کرنا ضروری ہے ، لیکن سوال کو جواب سمجھ لینا خطرناک ہے ۔9/11ہمیں شاید یہی سبق دیتا ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے نہ اندھا اعتماد کافی ہے اور نہ اندھا شک۔ اصل تحقیق اس مشکل جگہ سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے پسندیدہ نظریے کو ایک لمحے کے لیے چھوڑ کر ثبوت سے پوچھتا ہے :تم واقعی کیا کہتے ہو؟اور شاید یہی سوال نوگیارہ کے بارے میں آج بھی سب سے زیادہ اہم ہے ۔
٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


