چیف ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کے مالی اختیارات پر سوال
شیئر کریں
گریڈ18 کے چیف ڈرگ انسپکٹر کو ڈی ڈی او اختیار حاصل نہیں، اے جی سندھ کا سخت نوٹس
اے جی سندھ نے سیکریٹری صحت سے اصل اتھارٹی طلب کرلی ، معاملہ اولین ترجیح قرار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ کے محکمہ صحت میں چیف ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کے ڈی ڈی او اختیارات کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق چیف ڈرگ انسپکٹر کے پاس ڈی ڈی اوپاورز نہیں ہیں، تاہم ان کے نام سے ڈی ڈی او اختیارات کے استعمال کا معاملہ سامنے آنے پر اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ نے محکمہ صحت سے باضابطہ وضاحت طلب کرلی ہے۔ اے جی سندھ کے 8 ستمبر 2026 کے خط میں سیکریٹری ہیلتھ سندھ سے واضح طور پر پوچھا گیا ہے کہ موجودہ چیف ڈرگ انسپکٹر (BPS-18) کیا اپنے عہدے کی حیثیت سے Cost Centre KQ-0691 کے خلاف ڈی ڈی او اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہیں یا نہیں۔ اے جی سندھ نے مزید کہا ہے کہ اگر ایسے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں تو متعلقہ مجاز اتھارٹی کے اصل احکامات/نوٹیفکیشن فوری طور پر ریکارڈ کے لیے فراہم کیے جائیں۔ معاملے کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے ۔اہم سوال جب چیف ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کے پاس ڈی ڈی اوپاورز نہیں ہیں تو پھر سرکاری مالی معاملات میں اس حیثیت سے کسی بھی کارروائی کی قانونی بنیاد کیا تھی؟ اس سوال کا جواب اب محکمہ صحت سندھ کو دینا ہوگا۔اے جی سندھ کا خط اس معاملے میں باضابطہ ریکارڈ طلب کرنے کی کارروائی ہے ؛ حتمی قانونی نتیجہ محکمہ صحت کی وضاحت اور متعلقہ ریکارڈ سامنے آنے کے بعد ہی اخذ کیا جاسکتا ہے ۔


