میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نئے صوبے انتظامی ضرورت، ترقی کے امکانات اور قومی مفاد

نئے صوبے انتظامی ضرورت، ترقی کے امکانات اور قومی مفاد

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی یا علاقائی تقسیم کا معاملہ نہیں بلکہ اسے انتظامی بہتری، متوازن ترقی، وسائل کے مؤثر استعمال اور قومی مفاد کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ موجودہ صوبوں کا وسیع رقبہ، بڑھتی ہوئی آبادی، دور دراز علاقوں تک حکومتی اداروں
کی محدود رسائی اور ترقیاتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم اس امر کی متقاضی ہے کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی جائے۔

اگر کسی بڑے صوبے کو مناسب انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لایا جائے تو اس
سے پسماندہ علاقوں میں ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں اور تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی
خدمات کی فراہمی زیادہ مؤثر بنائی جاسکتی ہے ۔ تاہم نئے صوبوں کی تشکیل صرف نقشے پر نئی حدود کھینچنے کا نام نہیں؛ اس کے لیے مضبوط مالیاتی
بنیاد، واضح آئینی و قانونی طریقۂ کار، شفاف وسائل کی تقسیم، مؤثر بلدیاتی نظام، میرٹ پر مبنی قیادت اور سخت احتساب ناگزیر ہیں۔ اس
کے ساتھ یہ ضمانت بھی ضروری ہے کہ نئی انتظامی اکائیاں قومی وحدت اور ریاستی خودمختاری کو کمزور کرنے کے بجائے وفاق کو مزید مضبوط
کریں۔ ملکی وسائل اور قدرتی ذخائر سے متعلق فیصلے شفاف ہوں، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری قومی قوانین کے تابع ہو اور کسی بھی معاشی قوت کو
سیاسی فیصلہ سازی پر غیر معمولی اثرانداز ہونے کا موقع نہ ملے ۔ چنانچہ نئے صوبوں کا اصل مقصد صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ عوام کو بہتر
حکمرانی، منصفانہ ترقی، وسائل تک مساوی رسائی اور مضبوط ریاستی ادارے فراہم کرنا ہونا چاہیے ۔ اسی بنیادی تصور کے تحت نئے صوبوں کے
قیام کے لیے ایک واضح، مرحلہ وار اور قومی اتفاقِ رائے پر مبنی عملی روڈمیپ ضروری ہے ۔

نئے صوبوں کا قیام جذباتی، سیاسی یا انتخابی نعرے کے بجائے ایک مرحلہ وار قومی منصوبے کے تحت ہونا چاہیے ۔ اس مقصد کے لیے سب
سے پہلے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، پارلیمان، ماہرینِ آئین و قانون، معاشیات، انتظامیہ، جغرافیہ، قومی سلامتی اور مقامی حکومتوں
کے نمائندوں پر مشتمل ایک قومی کمیشن برائے انتظامی تشکیلِ نو قائم کیا جائے ۔ یہ کمیشن ہر موجودہ صوبے کے انتظامی حجم، آبادی، جغرافیہ،
آمدنی، قدرتی وسائل، بنیادی ڈھانچے ، تعلیمی و طبی سہولیات، روزگار، امن و امان اور عوامی مطالبات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے ۔

دوسرے مرحلے میں ہر مجوزہ صوبے کے لیے قابلِ عمل انتظامی اور معاشی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے ۔ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کسی علاقے میں صوبہ بنانے کا سیاسی مطالبہ موجود ہے ؛ یہ بھی دیکھا جائے کہ مجوزہ صوبہ اپنے انتظامی اخراجات کس طرح پورے کرے گا، اس کے مستقل آمدنی کے ذرائع کیا ہوں گے ، اس کے پاس کتنے وسائل ہوں گے اور وفاقی مالیاتی نظام میں اس کا حصہ کس اصول کے تحت طے ہوگا۔ اس مرحلے میں یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ ایک نئے صوبے کی تشکیل دوسرے صوبوں کے معاشی یا سیاسی حقوق کو غیر ضروری طور پر متاثر نہ کرے ۔
تیسرے مرحلے میں عوامی مشاورت اور اتفاقِ رائے کو بنیادی حیثیت دی جائے ۔ مجوزہ علاقوں میں سیاسی جماعتوں، وکلا، اساتذہ، جامعات، تاجر تنظیموں، کسانوں، سول سوسائٹی اور عام شہریوں سے رائے لی جائے ۔جہاں اختلاف شدید ہو وہاں شفاف اور آئینی طریقے سے عوامی رائے معلوم کرنے کا انتظام بھی زیرِ غور لایا جاسکتا ہے ۔ اس عمل کا مقصد کسی علاقے پر صوبہ مسلط کرنا نہیں بلکہ عوامی رضامندی اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہونا چاہیے ۔

چوتھے مرحلے میں قدرتی وسائل اور قومی اثاثوں کے تحفظ کا آئینی فریم ورک پہلے سے طے کیا جائے ۔ زمین، معدنیات، تیل و گیس، پانی، بجلی، جنگلات اور دیگر اہم وسائل کے استعمال کے لیے شفاف قوانین بنائے جائیں۔آئین پہلے ہی بعض قدرتی وسائل کی ملکیت اور وفاق و صوبے کے درمیان شراکت کے اصول متعین کرتا ہے ،مثلاً آرٹیکل 172(3) معدنی تیل اور قدرتی گیس کے حوالے سے وفاق اور متعلقہ صوبے کی مشترکہ ملکیت کااصول بیان کرتا ہے ۔ نئے صوبوں کے قیام کے وقت ایسے معاملات کو واضح کیے بغیر تقسیم کرنا مستقبل کے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے ۔

پانچویں مرحلے میں غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کے لیے مضبوط حفاظتی ضوابط وضع کیے جائیں۔ سرمایہ کاری کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ ترقی کے لیے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور عالمی معاشی روابط ضروری ہیں، لیکن کسی کمپنی کو ایسی طاقت بھی نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ ریاستی پالیسی یا سیاسی فیصلوں پر غیر معمولی اثر ڈال سکے ۔ بڑے انفراسٹرکچر، ٹیلی کمیونیکیشن، توانائی، معدنیات اور زمین سے متعلق معاہدوں کے لیے شفاف ٹینڈر، پارلیمانی نگرانی، آڈٹ اور مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کے اصول لازمی کیے جائیں۔ یہی وہ حفاظتی دیوار ہوگی جو معاشی شراکت داری کو سیاسی اثراندازی میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہے ۔

چھٹے مرحلے میں احتساب اور قیادت کے لیے سخت معیار مقرر کیا جائے ۔ نئے صوبے صرف اس لیے کامیاب نہیں ہوں گے کہ ان کے نام اور حدود بدل دی گئی ہیں۔ اگر وہی کرپٹ سیاسی کلچر، اقرباپروری اور غیر شفاف مالی نظام نئی اکائیوں میں منتقل ہوگیا تو صوبوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود عوام کے مسائل برقرار رہیں گے ۔اس لیے صوبائی قیادت، وزرا، اعلیٰ انتظامی عہدیداروں اور بڑے سرکاری ٹھیکوں کے لیے اثاثوں کے اعلانات، مفادات کے ٹکراؤ کے قوانین، آزاد آڈٹ اور مؤثر احتساب کا نظام ضروری ہے ۔

ساتویں مرحلے میں عبوری انتظامی نظام بنایا جائے ۔ نیا صوبہ بناتے ہی نئی عمارتیں، نئی گاڑیاں، نئے محکمے اور ہزاروں نئی آسامیاں پیدا کرنا مالی بوجھ بڑھا سکتا ہے ۔ اس کے بجائے پہلے سے موجود ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو مرحلہ وار صوبائی انتظامیہ میں منتقل کیا جائے ۔ دارالحکومت، ہائی کورٹ، سیکریٹریٹ، پولیس، سول سروس اور دیگر اداروں کے قیام کے لیے پانچ سے دس سالہ عبوری منصوبہ بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل غیر ضروری انتظامی اخراجات میں ضائع نہ ہوں۔

آٹھویں مرحلے میں مضبوط بلدیاتی نظام کو نئے صوبوں کی بنیاد بنایا جائے ۔ صوبہ چھوٹا ہوجانے کے باوجود اگر اختیارات صرف صوبائی دارالحکومت میں مرکوز رہیں تو عام شہری کو حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔ ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر منتخب اور بااختیار حکومتیں قائم کی جائیں، انہیں مستقل مالی وسائل دیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کی شمولیت یقینی بنائی جائے ۔ اس طرح نئے صوبے محض انتظامی نقشے کی تبدیلی نہیں بلکہ حقیقی Devolution of Power کا ذریعہ بن سکیں گے ۔

نویں مرحلے میں ڈیجیٹل اور معاشی شفافیت کو لازمی قرار دیا جائے ۔ ہر صوبے کا بجٹ، ترقیاتی منصوبہ، بڑے سرکاری معاہدے ، زمین کی الاٹمنٹ، معدنی حقوق، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور بیرونی سرمایہ کاری کے معاہدے ایک عوامی ڈیجیٹل پورٹل پر دستیاب ہوں۔ اس سے نہ صرف کرپشن کے امکانات کم ہوں گے بلکہ عوام اور پارلیمان دونوں حکومتی کارکردگی کی نگرانی کرسکیں گے ۔

دسویں اور آخری مرحلے میں آئینی عمل مکمل کیا جائے ۔ جب فزیبلٹی، عوامی مشاورت، وسائل کی تقسیم، مالیاتی منصوبہ، انتظامی ڈھانچہ اور احتسابی نظام طے ہوجائے تو متعلقہ آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کیا جائے ۔ ماضی میں جنوبی پنجاب کے قیام سے متعلق پارلیمانی سطح پر بھی آئینی اقدام کی مثال موجود ہے ؛ 2012ء میں قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب کے صوبے کے حق میں قرارداد منظور کی تھی اور 2022ء میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیمی بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اس سے واضح ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ آئینی و پارلیمانی عمل کا تقاضا کرتا ہے ۔

اس پورے روڈمیپ کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ پہلے ادارے مضبوط کیے جائیں، پھر صوبے بنائے جائیں؛پہلے وسائل اور اختیارات کا نظام طے کیا جائے ، پھر حدود تبدیل کی جائیں؛ پہلے احتساب اور شفافیت کی ضمانت دی جائے ، پھر سیاسی اختیار منتقل کیا جائے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو نئے صوبے پاکستان کو تقسیم کرنے کے بجائے انتظامی طور پر مضبوط، معاشی طور پر متوازن اور سیاسی طور پر زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل کم ہونے کے بجائے حکومتی اخراجات، سیاسی کشمکش اور انتظامی پیچیدگیاں بڑھنے کا خدشہ بھی موجود رہے گا۔یوں ‘‘نئے صوبوں کا تصور:ترقی، احتساب اور قومی خودمختاری کے درمیان توازن’’ ایک مکمل قومی پالیسی کااصول بن سکتا ہے :نئے صوبے ضرور بنیں، مگر آئین، عوامی رضامندی، شفاف معیشت، مضبوط اداروں، سخت احتساب اور قومی خودمختاری کی ضمانت کے ساتھ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں