ہم کتنے کنجوس ہیں!
شیئر کریں
کنجوسی صرف پیسوں کی نہیں ہوتی،پیسوں سے بھی زیادہ خطرناک کنجوسی ہے ،ہم محبت کے کنجوس ہیں، حوصلے کے کنجوس ہیں، تعریف کے کنجوس ہیں، اعتراف کے کنجوس ہیں۔ ہمارے پاس کسی کو دینے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے ، مگر ہم دیتے نہیں۔ ایک جملہ کسی تھکے ہوئے آدمی کو دوبارہ کھڑا کرسکتا ہے ، ایک ‘‘شاباش’’ کسی بچے کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو جگا سکتی ہے ، ایک فقرہ ‘‘تم نے بہت اچھا کیا’’ کسی نوجوان کو برسوں آگے لے جا سکتا ہے ۔ مگر ہم یہ سب اپنے اندر ہی روک لیتے ہیں۔ ایک باپ بیٹے کی کامیابی دیکھ کرخاموش رہتا ہے ۔ اسے خوف ہوتا ہے کہ کہیں زیادہ تعریف سے بچہ بگڑ نہ جائے ۔ اسے یہ خیال نہیں آتا کہ مسلسل خاموشی سے کہیں بچہ اندر سے ٹوٹ نہ جائے ۔ ایک چیف اپنے جونیئر کا بہترین کام دیکھ کرتعریف کے بجائے اسے ڈانٹ دیتا ہے ،اسے خدشہ ہوتا ہے اگرکام کی تعریف کردی تو کہیں ترقی نہ دینی پڑ جائے، تنخواہ میں اضافہ نہ کرنا پڑ جائے، اسے ڈر لگا رہتا ہے کہیں وہ بہت آگے نہ نکل جائے اور اسکے برابر نہ آجائے۔ اور پھر یہی کہانی دفتر سے نکل کر پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔
سینئر، جونیئر کو اوپر آتا دیکھ کرخوش نہیں ہوتا، دوست، دوست کی کامیابی کواپنی شکست سمجھ لیتا ہے ، رشتہ دار کسی کے گھرخوشی آئے تو مبارک باد ضروردیتے ہیں مگردل میں حساب بھی لگاتے رہتے ہیں کہ آخر اس کے پاس یہ سب آیا کہاں سے ؟ کسی کی قابلیت نظرآئے تو اسے سراہنے کے بجائے اس میں کوئی خامی تلاش کی جاتی ہے ۔ کسی کا نام بننے لگے تو اس کے کام سے پہلے اس کی خامیاں تلاش کرلی جاتی ہیں۔ کبھی غور کیجیے گا، ہم کسی کی موت پر تو دل کھول کر آنسو بہا لیتے ہیں، مگر کسی کی زندگی میں دو خوشی کے لفظ شامل نہیں کرتے ، کسی کی موت کے بعد کہتے ہیں، ‘‘بہت اچھا انسان تھا’’۔ مگرجب وہ سامنے موجود تھا تو یہی الفاظ بول نہیں پاتے ،ہم پھول قبر پر چڑھانے کے لیے خرید لیتے ہیں، مگر زندہ انسان کیلئے پھول نہیں خریدتے۔
ہم عجیب لوگ ہیں،ہمیں کسی کی برائی کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی، مگر تعریف کے لیے جیسے سرکاری اجازت نامہ چاہیے۔ کسی نے اچھا کام کیا ہو تو ہم خاموش رہتے ہیں، کسی نے معمولی سی غلطی کی ہو تو محفل سجا لیتے ہیں۔ کسی کی کامیابی کا ذکرہو تو ہمارے چہروں پر خاموشی اترآتی ہے ، اورکسی کی ناکامی کی خبر مل جائے تو اچانک ہم سب بہت دانا، بہت سمجھدار اور بہت دوراندیش ہوجاتے ہیں۔ اس کنجوسی سے ایک عجیب بیماری جنم لیتی ہے ۔ آدمی دوسروں کی روشنی سے خوش ہونے کے بجائے اپنی روشنی بچانے لگتا ہے ۔ اسے کسی کا آگے بڑھنا اچھا نہیں لگتا، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ دوسرے کا قدم آگے گیا تو اس کا قدم پیچھے چلا جائے گا۔ وہ کسی کا ہاتھ پکڑنے کے بجائے اس کی ٹانگ پکڑ لیتا ہے ۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تعریف کی کنجوسی، حسد میں بدلنے لگتی ہے ۔ حسد بڑا خاموش دشمن ہے ۔ یہ پہلے زبان بدلتا ہے ، پھر رویہ بدلتا ہے ، پھر فیصلے بدلتا ہے ۔ آدمی سامنے مسکراتا ہے اور پیچھے راستہ روکنے لگتا ہے ۔ قابل آدمی کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے کمزور کرنے کی کوشش ہوتی ہے ، اچھے کام کو سراہنے کے بجائے اس میں کیڑے نکالے جاتے ہیں، اورجو شخص واقعی کچھ کر سکتا ہو، اسے اس لیے روک دیا جاتا ہے کہ کہیں اس کی قابلیت سب پرعیاں نہ ہوجائے ، یہیں سے مسئلہ صرف کنجوسی کا نہیں رہتا۔ بات اس سے بہت آگے نکل جاتی ہے ۔ کیونکہ جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی خوبیوں کو چھپانے لگیں، وہاں خامیاں صرف بڑھتی نہیں۔ نظام کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ہماری سب سے بڑی بدقسمتی شاید یہ نہیں کہ ہم دوسروں کی تعریف نہیں کرتے ، اصل بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے تعریف نہ کرنے کو اپنی
عادت بنا لیا ہے ۔ ہمیں لگتا ہے کہ کسی کو آگے بڑھنے کے لیے صرف اس کی قابلیت کافی ہونی چاہیے ، مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قابلیت کو بھی
کبھی کبھی ایک آواز چاہیے ہوتی ہے ، ایک ہاتھ چاہیے ہوتا ہے ، ایک ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو مشکل وقت میں کہہ سکے ، ‘‘چلو، ایک بار پھر کوشش کرو، تم کرسکتے ہو’’۔جہاں یہ آوازیں خاموش ہوجائیں، وہاں بہت سے ہنر خاموشی کے ساتھ مر جاتے ہیں،دفتراس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایک ادارے میں کئی لوگ کام کرتے ہیں، مگرہرکام کرنے والا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی وقت سے پہلے کام مکمل کردیتا ہے، کوئی مشکل مسئلہ حل کرلیتا ہے، کوئی ایسی تجویز دے دیتا ہے جو پورے ادارے کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسے آگے بڑھایا جائے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اس کے کام کو دوسروں کے سامنے سراہا جائے تاکہ باقی لوگ بھی بہتر کام کرنے کی کوشش کریں۔ مگر ہمارے ہاں کبھی کبھی معاملہ الٹا ہوجاتا ہے ۔ قابل آدمی سب سے زیادہ خطرناک آدمی سمجھا جانے لگتا ہے، کیونکہ اس کی قابلیت خاموش لوگوں کی خاموشی توڑ دیتی ہے۔ نااہل آدمی کو سب سے زیادہ خوف قابل آدمی سے ہوتا ہے، کیونکہ قابل آدمی اس کی کمزوری کو کسی تقریر کے بغیر بھی بے نقاب کردیتا ہے۔ اس لیے نااہلی اکثر اکیلی نہیں رہتی، وہ اپنے بچاؤ کے لیے حسد کا سہارا لیتی ہے، حسد پھرگروہ بناتا ہے اورگروہ آخرکار سازش تک پہنچ جاتا ہے۔ یوں ایک اچھا آدمی صرف اس لیے پیچھے رہ جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس کا آگے بڑھنا پسند نہیں تھا۔ یہ صرف دفاترکی کہانی نہیں۔ گھروں میں بھی ہم یہی کرتے ہیں۔ بچوں کو دوسروں سے مقابلہ کرنا سکھاتے ہیں مگر ان کی اپنی خوبی پہچاننا نہیں سکھاتے، ہم بچوں کو کامیابی کے پیمانے تو دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی سے پہلے اعتماد پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اوراعتماد تعریف سے بنتا ہے۔ ہرتعریف خوشامد نہیں ہوتی، جیسے ہرتنقید اصلاح نہیں ہوتی۔ کبھی ایک سچی تعریف انسان کو وہ طاقت دے دیتی ہے جو دس نصیحتیں نہیں دے سکتیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم تنقید کو اپنا حق اور تعریف کو اپنی رعایت سمجھ بیٹھے ہیں۔ کسی کی خامی بتانے میں ہمیں اپنی بڑائی محسوس ہوتی ہے، مگر کسی کی خوبی ماننے میں شاید ہمیں اپنا قد چھوٹا ہوتا محسوس ہوتا ہے، حالانکہ سخی آدمی صرف وہ نہیں جس کے پاس بہت پیسہ ہو اور وہ اسے بانٹ دے ۔
اصل سخاوت شاید یہ ہے کہ آپ کسی کی کامیابی دیکھ کر دل سے خوش ہوسکیں، کسی کی قابلیت کا اعتراف کرسکیں، کسی تھکے ہوئے انسان کے
کندھے پر ہاتھ رکھ سکیں اور کسی ایسے شخص کو آگے بڑھا سکیں جس سے آپ کو کوئی ذاتی فائدہ نہ ہو،دنیا کے بڑے کام صرف بڑے وسائل
سے نہیں ہوتے ، بڑے دلوں سے بھی ہوتے ہیں۔ اور بڑا دل وہ ہے جو دوسرے کے لیے جگہ بنا سکے ۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے دل بھی
شاید اتنے چھوٹے کرلیے ہیں کہ دوسرے کی کامیابی کے لیے ان میں جگہ باقی نہیں رہی۔ہم پیسہ بچاتے بچاتے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ کچھ چیزیں خرچ نہ کی جائیں تو دولت نہیں بچتی۔ انسان ضائع ہوجاتے ہیں۔
ہمیں ایک دن بیٹھ کر یہ حساب بھی کرنا چاہیے کہ ہم نے زندگی میں دوسروں کو کیا دیا۔ پیسے کا حساب آسان ہے ، زمین، مکان، گاڑی،
بینک بیلنس سب گنے جاسکتے ہیں، مگر کسی کے دل میں امید کتنی ڈالی، کتنے لوگوں کو حوصلہ دیا، کتنے لوگوں کی قابلیت کا اعتراف کیا، کتنے تھکے
ہوئے لوگوں کو صرف دو لفظ کہہ کر دوبارہ کھڑا کردیا۔ اس کا حساب کسی رجسٹر میں نہیں ملتا۔ہم نے ایک عجیب معاشرہ بنا لیا ہے، جہاں کسی کو گرتا دیکھ کر لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں، مگر گرتے ہوئے کو اٹھانے کے لیے ہاتھ کم ہی آگے بڑھتے ہیں۔ کسی کی غلطی خبر بن جاتی ہے، کسی کی ناکامی مذاق بن جاتی ہے ، کسی کی کامیابی سوال بن جاتی ہے ۔ ہم برائی بانٹنے میں فراخ دل ہیں اور اچھائی بانٹنے میں کنجوس، حالانکہ کسی کی تعریف کرنے سے ہماری قابلیت کم نہیں ہوتی، کسی کو آگے بڑھانے سے ہماری جگہ نہیں چھنتی، کسی کے چراغ میں تیل ڈالنے سے ہماری روشنی کم نہیں ہوتی۔اصل سوال یہ نہیں کہ ‘‘ ہم کتنے کنجوس ہیں’’؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب سخی ہوں گے ؟کب ہم کسی کی کامیابی پہ دل سے خوش ہوں گے؟ کب کسی کے اچھے کام کو اچھا کہنے میں خوف محسوس نہیں کریں گے؟ کب ہم دوسروں کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ان کا ہاتھ پکڑیں گے؟ معاشرے پیسہ بانٹنے سے نہیں، حوصلہ بانٹنے سے بڑے ہوتے ہیں۔
٭٭٭


