میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کشمیریوں کی نظر بندی

کشمیریوں کی نظر بندی

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حریت رہنماؤں، کارکنوں، نوجوانوں اور خواتین سمیت ہزاروں کشمیری بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت بغیر مقدمہ چلائے مسلسل غیر قانونی نظربندی کا سامنا کر رہے ہیں۔تین ہزار سے زائد سیاسی قیدی جن میں حریت رہنما بھی شامل ہیں، اپنے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے اور علاقے میں جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں بھارت اور مقبوضہ علاقے کی جیلوں میں غیر قانونی طور پرنظربند ہیں۔ ان میں سے بیشتر قیدیوں پرکالے قوانین کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور انہیں جیلوں میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان قیدیوں میں آزاد جموں و کشمیر کے بعض رہائشی بھی شامل ہیں جو مختلف مواقع پر غلطی سے کنٹرول لائن عبور کر گئے تھے۔ بی جے پی-آر ایس ایس حکومت نے مزید حریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے بھارت کی دور دراز جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ظالمانہ اقدام کا مقصد آزادی کے لئے کشمیریوں کے عزم کو توڑنے کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے اہلخانہ کو جذباتی اور مالی طور پر نقصان پہنچانا ہے۔

واضح رہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے متعدد نظربند کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے۔ سینئر حریت رہنماؤں محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ، غلام محمد بٹ، مجیب صدیقی، علی محمد کمار، غلام محمد لون اور غلام نبی بٹ نے بھی دورانِ حراست وفات پائی۔ یہاں تک کہ ذہنی طور پر معذور آزاد جموں و کشمیر کے ایک رہائشی تبارک حسین کو بھی نہیں بخشا گیا جو ضلع راجوری میں غلطی سے کنٹرول لائن عبور کر گیا تھا اور اسے بھارتی فوج کی حراست میں شہید کر دیا گیا۔اس سے قبل آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیاء مصطفیٰ کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں بھارتی قابض فورسز کی حراست میں شہید کر دیا گیا، وہ 13 جنوری 2003 کو غلطی سے کنٹرول لائن عبور کر گیاتھا۔ اس وقت ضیاء کے اہل خانہ نے مقامی پولیس اسٹیشن میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ ضیاء مصطفیٰ ایک زیرِ سماعت قیدی تھا اور عدالتی حراست میں تھا۔ انہیں اکتوبر 2021 میں جموں کی کوٹ بھلوال جیل سے نکال کر کنٹرول لائن پرایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے گزشتہ37 برسوں کے دوران ہزاروں کشمیریوں کو دوران حراست جبری طور پر لاپتہ کر دیاہے۔‘‘جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن ’’ پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے میں 10لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا علاقہ مانا جاتا ہے۔مقبوضہ علاقہ مکمل طور پر ایک فوجی چھاونی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ 1989 کے بعد بھارتی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل، بلا جواز گرفتاریوں جبری گمشدگیوں، تشدداور دیگر مظالم میں تیزی آئی ہے۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران کم از کم 8 ہزار بے گناہ کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کر دیا ہے۔

بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں اور کشمیریوں کا ماورائے عدالت ، دوران حراست اور جعلی مقابلوں میں قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات بی جے پی اورآر ایس ایس کی حکومت کے انتہا پسندانہ مسلم دشمن اور کشمیر مخالف عزائم کاحصہ ہیں۔کشمیری نوجوان بھارتی فورسز اور ایجنسیوں کا خاص ہدف ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کا سراغ لگانے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔بہت سی کشمیری مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کی گھر واپسی کی راہ تکتے تکتے اس دنیاسے رخصت ہو چکی ہیں۔

مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجی،پولیس اور خصوصی ٹاسک فورسزکے اہلکار غیر انسانی اور وحشیانہ کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جبر ی گمشدگیوں کے ظالمانہ عمل کے باعث کشمیر میں اس وقت ہزاروں خواتین اور بچے ایسے ہیں جو ‘‘ نصف بیوائیں اور نصف یتیم ’’کہلاتے ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ، ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور‘‘ یو اے پی اے’’ جیسے کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل ، گرفتاری ، خوف و دہشت کا نشانہ بنانے اور املاک کی توڑ پھوڑ کی کھلی چھٹی حاصل ہے اور ان قوانین کی وجہ سے مجرم اہلکاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروئی عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کو بھارتی فورسز اورایجنسیوں نے گھروں، گلیوں اور سڑکوں سے اٹھا کر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاہے۔ سری نگر میں لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن (اے پی ڈی پی) نے مطالبہ کیا کہ بھارت انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے گمشدہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔مودی حکومت نے سرینگر میں‘‘ اے پی ڈی پی ’’ کے زیر اہتمام لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان ہزاروں کشمیریوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے جنہیں بھارتی فورسز نے گرفتار کے بعد لاپتہ کر دیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں