میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

جرات ڈیسک
پیر, ۷ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تنازع مفاہمت کے امکان سے آگے بڑھ گیا ہے۔ صوبے نہ بھی بنیں تو یہ کھیل کا اختتام نہیں ، ایک نئے کھیل کا آغاز ہوگا۔ جناب زرداری کا ‘مائی سن’ اب‘ مسٹر محسن’ میں تبدیل ہو رہا ہے۔طاقت ور حلقوں کے ساختہ ‘سیاسی چہرے’ محسن نقوی نے بھی سمندر میں سیڑھی اور آسمان پر تھگلی لگانے کی کوشش جاری رکھی ہے۔انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ ‘‘deceit will not succeed’’۔ مگر اردو محاورے کی کیا بات ہے!‘کاٹھ کی ہنڈیا بار بار نہیں چڑھتی’۔ دنیا کے تمام مذاہب اور اخلاقی نظاموں کی بنیاد میں اس محاورے کی سچائی موجود ہے۔ پیپلزپارٹی نے دریائے سندھ کے نظام سے چھ نہروں کو نکالنے کا منصوبہ پاؤں کی ٹھوکر بنایا۔ اب نئے صوبوں کے منصوبے میں رکاوٹ ہے۔ کیا واقعی طاقت ور حلقوں کے ساتھ پیپلزپارٹی کا اسکور بورڈ ، دو اور صفر ہوجائے گا؟مگر پھر کیا ہوگا؟

طاقت ور حلقوں کا اشارہ واضح ہے کہ صوبے بنیں گے۔ پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی سے پیغام دیا ہے کہ ‘‘کچھ بھی ہو جائے نہیں بنیں گے’’۔ بدعنوانیوں کی دلدل میں گردن گردن دھنسی پیپلزپارٹی، اندرون سندھ میں اپنی مسلسل کم ہوتی عوامی حمایت سے کماحقہ آگاہ ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ نون کے مقابلے میں فارم 47 کاعمومی طعنہ پیپلزپارٹی کو نہیں سہنا پڑتا۔ مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ انتخابات کے آس پاس معاملات کیسے طے ہوئے تھے؟اندرون سندھ کی26 نشستیں اور کراچی کی تمام صوبائی اور قومی نشستیں ‘بالائے نظام’ سے سودے بازی کے بعد پیداہونے والے گنجائشی بندوبست کا نتیجہ تھیں۔ زرداری ہمیشہ سے انتخابات خریدنے پر یقین رکھتے ہیں ،چنانچہ بدعنوانی سے گدلی ہوتی چھوی کی پروا نہیں کرتے۔ پارٹی پوری منفعت بخش معاملات میں لدی پھندی اور دھنسی، پھنسی ہوئی ہے ۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سامری کے بچھڑوں میں جان کس نے ڈالی؟ کیا یہ نظام در نظام کی تہہ داریوں میں جھونجھتی، جھولتی ، ہلتی ڈولتی یقین دہانیوں کا نتیجہ ہے؟ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ حکم دینے والوں نے موجودہ بندوبست کے لیے جن ہاتھوں کو خدمت پر رکھا تھا، وہ تبدیل ہو رہے ہیں۔ سندھ میں پیغام واضح ہے۔اگلے دنوں میں ملک کے باقی حصوں سے سے بھی کچھ ایسی ہی اطلاعات کی توقعات ہیں۔ مگر سندھ میں جن ہاتھوں کو سمیٹا گیا ہے وہ ‘ادی ’سے لے کر ‘زرداری’ تک اور صوبائی وزراء سے لے کر زرداری کے متوازی نظام کے متبادل مہروں تک کے لیے نہایت ساز گار ثابت ہوتے رہے ہیں۔ کیا پیپلزپارٹی کی حکومت اور فریال تالپور کے اردگرد موجود نظام کے رکھوالے اس تپش کو محسوس کر رہے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ نئی تبدیلیوں سے چند روز قبل کیا زرداری نے نوشتۂ دیوار پڑھ لیا تھا؟ یاکوئی سرگوشی سن لی تھی؟ تنازعات ہی نہیں سوالات بھی بہت سے موجود ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کے لیے صوبوں کی مخالفت صرف سندھ کی سیاست کے لیے نہیں، خود اپنے ماضی اور نظام کے اندر پیدا کی جانے والی ہڑبونگ کے ردِ عمل سے بچنے کی بھی ایک تدبیر ہے۔ محسن نقوی ، صوبوں کی دال گلانے کے لیے جناب زرداری کی حمایت کی وہ آنچ نہ لے سکے جو کسی بھی دوسرے طریقے سے زیادہ ضروری ہے۔محسن نقوی کا ہفتے کے روز لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں قومی پالیسی مکالمے سے خطاب اسی کا ردِ عمل بھی ہو سکتا ہے۔ جس میں وہ روایتی لب و لہجے کے بجائے تحدی و تخویف کے لہجے میں بات کرتے نظر آئے۔ ان کے فقرے‘‘نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، اب پیچھے نہیں ہٹوں گا’’ میں خود شکستگی بھی ہے، مگر برہمی بھی۔ وہ جب کہتے ہیں‘ کچھ بھی ہو جائے نئے انتظامی یونٹس تو بنیں گے’، اس میں ایک للکار و پیکار ہے۔مگراس کے اندر کھوکھلا پن یہ ہے کہ اس للکار کے پیچھے طاقت اُن کی اپنی نہیں، کسی اور کی ہے۔

ظاہر ہے کہ سیاسی حمایت نہ ملنے پر اشارہ ریفرنڈم کا بھی ہے، مگر یہ آئینی تقاضے کا متبادل نہیں۔ یہ صرف عوامی حمایت کا ایک تاثر ہی پیدا کر سکتا ہے۔ پھر اس بندوبست کا ریفرنڈم جس نے پہلے فارم 47کی ‘کاریگری’ دکھائی ہو، کون یقین کرے گا؟ سندھ میں پیپلزپارٹی کی مخالفت کے بعد یہ بیل منڈھے چڑھے گی یا نہیں، اس پر شبہ موجود ہے۔مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے پیٹریاٹ نکالی گئی،نون لیگ سے ق لیگ کا مردہ اُٹھایا گیا۔اس طرز پر کیا بدعنوانوں کا ایک اکٹھ نئے کھیل میں سازگار ہوگا؟ اس پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ مگر سندھ میں کوئی بدعنوان سے بدعنوان وزیر اور رکن اسمبلی کے لیے بھی یہ صورت حال موثر اور قابل قبول نہ ہوگی۔ یہ خوف اس کھیل میں رکاوٹ ہے۔ آئینی عدالت کا راستہ بھی پوری طرح سازگار نہیں کیونکہ کوئی بھی منصوبہ زمین پر موثر ہوتا ہے جہاں پیپلزپارٹی کی ‘ہلاشیری’ سے سندھ کی دیگر جماعتیں میدان گرم کیے رکھیں گی۔جناب زرداری نے حساب پوری طرح جوڑ رکھا ہے۔ مگر طاقت اوربے رحم احتساب کی صلاحیت وہ ہتھیار ہیں جو سب کچھ بد ل سکتے ہیں۔ یہاں کون سا کام آئینی یا قانونی پیرایے میں ہوتا ہے۔ پھر ریفرنڈم کا حیلہ اور آئینی عدالت کا فیصلہ ہر تشریح کو بدل سکتا ہے۔ بلاول بھٹو تب اس وقت کو یاد کریں گے جب وہ ستائیسویں ترمیم کے لیے لہکے لہکے اور بہکے بہکے پارلیمنٹ کی راہداریوں میں سوال پوچھنے والے صحافیوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ آخر وہ اسی آئینی ترمیم کی سب سے زیادہ وکالت کرتے رہے ہیں جس سے یہ آئینی عدالت کی برآمد ہوئی ہے۔یہاں باڑھ ہی نے کھیت کو کھایا ہے۔

ایک نکتہ اور بھی ہے جو جناب زرداری کے اندازوں کو تہ وبالا بھی کر سکتا ہے۔ مسئلہ صرف صوبوں کا نہیں طاقت کی نفسیات کا بھی ہے۔ طاقت اپنے فیصلوں کو منوانہ سکے تو اس کے اختیارات کے منطقے ہی نہیں سکڑتے ، اس کے لیے چیلنجز کے دائرے بھی بڑھتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں موجود طاقت کا مرکز کسی روایتی طریقے کی حمایت سے قائم نہیں ہوا۔یہ ایک غیر نمائندہ قوت ہونے کے باوجود محض اپنے دبدبے پر قائم ہے۔ اور اس کی واحد ضمانت اس کے اثر انداز ہونے کی یہی سلبی صلاحیت ہے۔اقتدار تادیر جبر سے قائم نہیں رہ سکتا، اسے ہمیشہ ایک نظریاتی و ثقافتی رضامندی کی ضرورت رہتی ہے۔

موجودہ غیر نمائندہ قوتوں نے پاکستان کی تاریخ اور نظریاتی دائروں سے اپنے ہونے کے حیلے ڈھونڈے ہیں، اگر ان کے اثرانداز ہونے کی یہ صلاحیت ختم ہو جائے تو ان کے وجود کے حیلے اندرونی تضادات کے باعث خود بخود مضحک ہونے لگیں گے۔ چنانچہ جب حکمران طبقہ اپنے ایجنڈے کو منوانے کی صلاحیت کسی بھی طور کھونے لگے گاتواس کی مشروعیت یا جواز (legitimacy) گہنانے لگے گی۔ طاقت کو شکست دوبارہ کھڑا نہیں کرتی ، دائم ختم کرتی ہے۔چنانچہ اسکوربورڈ پر دو اورصفر کا ہندسہ طاقت وروں کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔ پاکستان میں ایسے حالات میں جبر کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، جو پیپلزپارٹی کی قوت برداشت سے ذرا دور پرے کی چیز ہوگئی ہے۔ پھر میدان میں اپنی نظریاتی وثقافتی رضامندی کو تلاش کرنے والی‘ طاقت’ باقی رہے گی یا پھر کرپشن میں راج کرتی پیپلزپارٹی، جس نے صوبوں کے خلاف مہم کو اپنی ڈھال بنالیا ہے۔ مشکل پسند غالب نے نکتہ آسان کر دیا

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں