میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
رات گئے کھانا کھانے کی عادت صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، ماہرین قلب

رات گئے کھانا کھانے کی عادت صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، ماہرین قلب

جرات ڈیسک
اتوار, ۶ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

9 بجے کے بعد کھانا کھانے والوں میں دل اور دماغ کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ زیادہ

دیر سے کھانا جسمانی گھڑی اور میٹابولزم کو متاثر کرسکتا ہے،ماہرین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہرین قلب نے رات کا کھانا جلد کھانے کو دل اور شریانوں کی صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات گئے کھانا کھانے کی عادت صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ڈاکٹروں کی جانب سے کی جانے والی ایک بڑی طبی تحقیق میں کھانے کے اوقات اور دل و شریانوں کی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر گِرا نے ایک لاکھ سے زائد بالغ افراد پر 7 سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دیر سے کھانا کھانے والے افراد میں دل کی بیماریوں، فالج اور شریانوں میں رکاوٹ کے امکانات زیادہ پائے گئے۔ماہرین کے مطابق انسانی جسم 24 گھنٹے کے قدرتی نظام، جسے جسمانی گھڑی یا سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے، کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ نظام بلڈ پریشر، ہارمونز اور جسم کے میٹابولزم سمیت مختلف اہم افعال کو منظم کرتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ رات دیر سے کھانا کھانے سے جسمانی گھڑی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں انسولین کے مؤثر استعمال اور خون میں شوگر کی سطح پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق جو افراد رات 8 بجے سے پہلے کھانا کھا لیتے ہیں، ان کے مقابلے میں رات 9 بجے کے بعد کھانا کھانے والوں میں دماغ کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ڈاکٹروں نے تاہم واضح کیا کہ رات 9 بجے کے بعد کھانا کھانا بذاتِ خود کسی بیماری کی براہِ راست وجہ نہیں، بلکہ یہ اکثر دیر سے سونے اور مجموعی طور پر غیر متوازن طرز زندگی جیسی عادات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، جو طویل مدت میں دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ماہرین نے صحت مند طرز زندگی کے لیے کھانے کے اوقات کو باقاعدہ رکھنے، رات کا کھانا سونے سے مناسب وقفے کے ساتھ کھانے اور متوازن غذا استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں