مادرِ وطن کا دفاع قرآن و سنت کی روشنی میں
شیئر کریں
6 ستمبر پاکستان کی قومی تاریخ کا ایک ایسا یادگار دن ہے جو ہمیں عزم، قربانی، شجاعت، اتحاد اور وطن سے وفاداری کی روشن داستان یاد دلاتا ہے ۔ یہ دن 1965ء کی جنگ میں پاک فوج اور پاکستانی قوم کی اس غیر معمولی استقامت کی یاد میں منایا جاتا ہے جب دشمن نے پاکستان کی سرحدوں کو پامال کرنے کی کوشش کی، مگر پاکستانی قوم نے متحد ہو کر وطن کا دفاع کیا۔ یومِ دفاع محض ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ یہ اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنی مادرِ وطن کی آزادی، خودمختاری، سلامتی اور نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے ہر جائز اور آئینی طریقے سے اپنا کردار ادا کریں گے ۔ اسلام بھی انسان کو اپنی جان، مال، عزت، گھر اور سرزمین کے تحفظ کا حق دیتا ہے اور ظلم و جارحیت کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کی تعلیم دیتا ہے ۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘‘اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔’’ (البقرۃ: 190) اس آیتِ مبارکہ میں دفاع کا ایک بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے کہ جنگ اور مزاحمت کا مقصد ظلم و جارحیت کو روکنا ہو، نہ کہ خود ظلم کرنا۔
اسلام امن کا دین ہے ، لیکن امن کے نام پر ظلم کو قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کسی قوم پر جارحیت مسلط کی جائے اور اس کی آزادی، جان و مال اور سرزمین کو خطرہ لاحق ہو تو اس کے دفاع کا حق ایک فطری اور شرعی حق ہے ۔ چنانچہ مادرِ وطن کا دفاع صرف ایک قومی فریضہ نہیں بلکہ ظلم اور جارحیت کے خلاف کھڑے ہونے کی اسلامی تعلیمات سے بھی ہم آہنگ ہے ۔قرآنِ مجید مسلمانوں کو اجتماعی قوت اور اتحاد کی بھی تلقین کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘‘اور اللہ کی رسی کوسب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔’’ (آل عمران: 103) 6 ستمبر کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے کہ قومی سلامتی صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، نظم و ضبط، باہمی اعتماد اور قومی یکجہتی سے
مضبوط ہوتی ہے ۔ 1965ء کے مشکل حالات میں پاکستانی قوم نے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک قوم کی حیثیت سے دفاعِ وطن میں اپنا کردار ادا کیا۔ فوج سرحدوں پر تھی تو عوام اپنے سپاہیوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ یہی قومی اتحاد کسی بھی بیرونی خطرے کے مقابلے میں ایک مضبوط حصار بن جاتا ہے ۔
رسولِ اکرم ﷺ نے وطن اور اپنے شہر سے محبت کا ایک نہایت مؤثر عملی نمونہ پیش فرمایا۔ جب آپ ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما رہے تھے تو آپ ﷺ نے مکہ کی طرف دیکھ کر اس شہر سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔احادیث میں مکہ مکرمہ کے ساتھ آپ ﷺ کی گہری محبت کا ذکر ملتا ہے ۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان کا اپنی سرزمین، اپنے گھر اور اپنے معاشرے سے محبت کرنا ایک فطری جذبہ ہے ۔ وطن سے محبت اگر عدل، خیر، امن اور ذمہ داری کے ساتھ وابستہ ہو تو یہ ایک مثبت قومی قدر بن جاتی ہے ۔
اسلام انسان کو اپنی جان، مال اور عزت کے تحفظ کا حق دیتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے جان و مال اور عزت کی حرمت کو انتہائی واضح انداز میں بیان فرمایا۔ اس اصول کی روشنی میں ایک ایسی سرزمین جہاں انسان اپنے دین، جان، مال، خاندان اور بنیادی حقوق کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو، اس کی حفاظت ایک بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے ۔ پاکستان ہمارے لیے صرف جغرافیہ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسی آزاد ریاست ہے جہاں ہمیں اپنی شناخت، تہذیب، ثقافت اور دینی و اخلاقی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع حاصل ہے ۔ اس لیے اس ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔تاہم دفاعِ وطن کا مفہوم صرف جنگ کے میدان تک محدود نہیں۔ آج کا دور جدید جنگ، سائبر جنگ، معاشی دباؤ، اطلاعاتی جنگ، فیک نیوز، انتہا پسندی، داخلی انتشار اور نظریاتی یلغار کا دور ہے ۔ اس لیے آج پاکستان کا دفاع کرنے کے لیے ایک نوجوان کو صرف جسمانی طور پر مضبوط ہونا کافی نہیں بلکہ اسے علمی، اخلاقی، فکری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی مضبوط ہونا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے سے گریز کرنا، قومی اداروں کے بارے میں غیر مصدقہ معلومات کو آگے نہ بڑھانا، دشمن کے پروپیگنڈے کو سمجھنا اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے مثبت کردار ادا کرنا بھی دفاعِ وطن کی جدید صورتیں ہیں۔
قرآنِ مجید تحقیق اور تصدیق کا واضح اصول دیتا ہے ‘‘اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔’’ (الحجرات: 6) موجودہ ڈیجیٹل دور میں یہ قرآنی اصول پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ایک جھوٹی خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ لہٰذا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے شیئر نہ کرے ۔قومی سلامتی صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ موبائل فون استعمال کرنے والے ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے ۔
مادرِ وطن کا دفاع معاشی میدان میں بھی ضروری ہے ۔ ایک کمزور معیشت کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے ۔ اس لیے محنت، دیانت داری، ٹیکس کی ادائیگی، قومی وسائل کی حفاظت، بدعنوانی سے اجتناب، تعلیم کا فروغ اور ملکی پیداوار میں اضافہ بھی دفاعِ وطن کی صورتیں ہیں۔ ایک استاد اپنے شاگردوں کو علم، کردار اور حب الوطنی کی تعلیم دے کر وطن کا دفاع کرتا ہے ؛ ایک طالب علم محنت سے تعلیم حاصل کرکے ملک کا مستقبل مضبوط کرتا ہے ؛ ایک کسان اپنی زمین سے پیداوار حاصل کرکے ملکی معیشت میں حصہ ڈالتا ہے ؛ ایک ڈاکٹر انسانوں کی جان بچا کر قوم کی خدمت کرتا ہے ؛ اور ایک سپاہی سرحد پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی حفاظت کرتا ہے ۔ یوں ہر فرد اپنے دائرۂ کار میں دفاعِ وطن کا سپاہی ہے ۔
اسلام میں قربانی کو بڑی قدر و منزلت حاصل ہے ۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے ‘‘اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔’’ )البقرۃ: 154) وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کرنے والے شہداء ہماری قومی تاریخ کا قابلِ احترام حصہ ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ آزادی اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے کبھی کبھی بڑی قربانی دینا پڑتی ہے ۔ شہداء کا احترام صرف تقریبات منعقد کرنے سے نہیں بلکہ ان کے مقصد کو سمجھنے ، ملک کو مضبوط بنانے اور قومی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے ادا کرنے سے ہوتا ہے ۔
یومِ دفاع ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومی سلامتی کا تعلق صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ قومی کردار سے بھی ہے ۔ اگر معاشرے میں بدعنوانی، ناانصافی، جھوٹ، نفرت، عدم برداشت اور قانون شکنی عام ہو جائے تو ملک اندر سے کمزور ہو جاتا ہے ۔ اس لیے قرآن و سنت کی روشنی میں حقیقی دفاعِ وطن کا آغاز فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے ۔ ایک سچا، دیانت دار، قانون پسند، محنتی اور ذمہ دار شہری دراصل ریاست کے دفاع میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔ قومیں صرف طاقتور فوجوں سے نہیں بلکہ مضبوط کردار رکھنے والے شہریوں سے بھی مضبوط ہوتی ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ وطن سے محبت کا مطلب دوسروں سے نفرت نہیں۔ اسلام عدل، امن اور انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے ہمیں اخلاقی اصولوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی جان کی حرمت کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے ۔ دفاع اور جارحیت میں واضح فرق ہے ۔
دفاع کا مقصد ظلم کو روکنا اور اپنے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے ، جبکہ جارحیت دوسروں پر بلاجواز حملہ اور زیادتی کا نام ہے ۔قرآنِ مجید کا حکم ہے کہ زیادتی نہ کی جائے ۔ یہی اصول اسلامی دفاع کو اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔
6 ستمبر ہمیں اپنے شہداء، غازیوں، فوجی جوانوں اور ان تمام پاکستانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے وطن کے لیے قربانیاں دیں۔ لیکن اس دن کا اصل تقاضا صرف نعرے لگانا یا تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ اپنے کردار کا جائزہ لینا ہے ۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے ۔ ہم قومی اتحاد کو فروغ دیں گے ، نفرت اور انتشار سے بچیں گے ، جھوٹی اطلاعات نہیں پھیلائیں گے ، قانون کا احترام کریں گے اور اپنی نئی نسل کو علم،
اخلاق، تحقیق اور ذمہ داری کی راہ پر گامزن کریں گے ۔
آج پاکستان کو ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو حب الوطنی کو محض جذبات نہیں بلکہ عملی خدمت سمجھیں۔ ہمیں تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، معیشت، زراعت، صنعت، تحقیق اور اخلاقی کردار کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے ملک کو مضبوط، تعلیم یافتہ، خوشحال اور متحد بنا دیں تو یہ بھی دفاعِ وطن کی ایک عظیم صورت ہوگی۔ مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، انصاف پر مبنی معاشرہ، باکردار قیادت اور ذمہ دار شہری پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی بنیاد ہیں۔ 6 ستمبر کا پیغام یہی ہے کہ وطن کی حفاظت ایک مسلسل ذمہ داری ہے ۔ سرحد پر موجود سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کی حفاظت کرتا ہے ، جبکہ عام شہری اپنے کردار، محنت، علم، دیانت اور اتحاد کے ذریعے اس دفاع کو مضبوط بناتا ہے ۔ قرآن و سنت ہمیں ظلم کے مقابلے میں استقامت، اتحاد، عدل، قربانی اور ذمہ داری کا درس دیتے ہیں۔ لہٰذا یومِ دفاع پر ہمیں صرف ماضی کے کارناموں پر فخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ مستقبل کے پاکستان کی تعمیر کا عہد بھی کرنا چاہیے ۔ ہمارا پاکستان امن، ترقی، خودمختاری، علم اور انصاف کی علامت بنے یہی شہداء کی قربانیوں کا حقیقی احترام اور دفاعِ وطن کا بہترین تقاضا ہے ۔


